سان فرانسسکو(مشرق نامہ): ایک امریکی جج نے اسرائیلی اسپائی ویئر بنانے والی کمپنی این ایس او گروپ (NSO Group) کو واٹس ایپ صارفین کو نشانہ بنانے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے کمپنی کے خلاف ہرجانے کی رقم 168 ملین ڈالر سے کم کرکے صرف 4 ملین ڈالر کر دی۔
ڈسٹرکٹ جج فلِس ہیملٹن نے جمعے کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ این ایس او گروپ کا طرزِ عمل اس حد تک سنگین نہیں تھا جس کی بنیاد پر جیوری کے مقرر کردہ مالی جرمانے کو برقرار رکھا جا سکے۔
تاہم فیصلے میں انہوں نے کہا کہ عدالت کے نزدیک مدعا علیہان (این ایس او گروپ) کا طرزِ عمل ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بنا ہے، اور چونکہ یہ عمل تاحال جاری ہے، اس لیے عدالت نے واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا (Meta) کے حق میں حکمِ امتناعی (injunction) جاری کیا ہے تاکہ این ایس او گروپ کو واٹس ایپ پر جاسوسی کی سرگرمیوں سے روکا جا سکے۔
واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھ کارٹ (Will Cathcart) نے کہا،’’ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں جو چھ سالہ قانونی جدوجہد کے بعد این ایس او کو سول سوسائٹی کے اراکین کو نشانہ بنانے پر جواب دہ ٹھہراتا ہے۔‘‘
عدالتی فیصلے کے مطابق، شواہد سے ظاہر ہوا کہ این ایس او گروپ نے واٹس ایپ کے کوڈ کو ریورس انجینئرنگ کے ذریعے تبدیل کیا تاکہ صارفین کے موبائلز میں خفیہ طور پر اسپائی ویئر انسٹال کیا جا سکے۔
عدالت نے کہا کہ یہ اسپائی ویئر بار بار اس انداز میں تیار کیا گیا کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی اپ ڈیٹس اور حفاظتی اقدامات سے بچ سکے۔
یہ مقدمہ 2019 کے آخر میں دائر کیا گیا تھا، جس میں این ایس او گروپ پر صحافیوں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر صارفین کی سائبر جاسوسی کا الزام لگایا گیا تھا۔
جج ہیملٹن نے مزید کہا کہ میٹا کے حق میں دیے گئے 168 ملین ڈالر کے ہرجانے کا فیصلہ غیر مناسب حد تک زیادہ تھا۔
ان کے بقول:’’ابھی تک اسمارٹ فون دور میں غیر قانونی الیکٹرانک نگرانی سے متعلق مقدمات کی تعداد اتنی نہیں کہ عدالت یہ طے کر سکے کہ مدعا علیہان کا طرزِ عمل ’انتہائی سنگین‘ نوعیت کا تھا۔‘‘

