لاس اینجلس (مشرق نامہ) – امریکہ کی تاریخ کے سب سے بڑے جنسی زیادتی تصفیے کے چھ ماہ بعد، لاس اینجلس کاؤنٹی نے ایک اور بڑے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق، یہ 828 ملین ڈالر (82 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) کا تصفیہ 400 سے زائد اضافی جنسی زیادتی کے دعووں کو نمٹانے کے لیے کیا گیا ہے جو کاؤنٹی کے ملازمین کے خلاف دائر کیے گئے تھے۔
یہ ابتدائی معاہدہ، جسے ابھی کاؤنٹی بورڈ آف سپروائزرز اور کاؤنٹی کلیمز بورڈ کی منظوری درکار ہے، رواں سال اپریل میں ہونے والے 4 ارب ڈالر کے تاریخی تصفیے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اُس تصفیے میں تقریباً 11 ہزار متاثرین شامل تھے جنہوں نے کاؤنٹی کے نوعمر حراستی اور فوسٹر کیئر نظام میں کئی دہائیوں تک ہونے والی زیادتیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔
کاؤنٹی حکام کا کہنا ہے کہ نیا معاہدہ متاثرین کو معاوضہ دینے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان کے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش ہے، بالخصوص جعلی دعووں کے بڑھتے خدشات کے پیشِ نظر۔ لاس اینجلس کاؤنٹی بورڈ آف سپروائزرز کی چیئر کیتھرین بارجر نے کہا کہ ہمارے تصفیے متاثرین کے ساتھ ہمدردی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ ٹیکس دہندگان کو جعلسازی سے بچایا جائے۔
کاؤنٹی کو اب بھی تقریباً 2,500 غیر حل شدہ مقدمات کا سامنا ہے جو ان دونوں تصفیوں میں شامل نہیں، اور مزید کیسز کے سامنے آنے کی توقع ہے۔ حکام نے تسلیم کیا کہ مالی دباؤ نے پہلے سے خراب بجٹ صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
حکام نے وعدہ کیا ہے کہ ہر فرد کے دعوے کی صداقت جانچنے کے بعد ہی ادائیگی کی جائے گی، اور خبردار کیا کہ جھوٹے دعوے کرنے والوں کو کسی بھی طرح کا مالی فائدہ نہیں دیا جائے گا۔
فراڈ الزامات اور قانونی تحقیقات
لاس اینجلس ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 4 ارب ڈالر کے پہلے تصفیے کے دوران کچھ افراد کو مقدمے دائر کرنے کے لیے رقم دی گئی تھی۔ نو درخواست گزاروں نے تسلیم کیا کہ انہیں ادائیگی کی پیشکش کی گئی، جبکہ چار نے بعد میں اقرار کیا کہ ان کے دعوے جعلی تھے۔
کاؤنٹی حکام نے وضاحت کی کہ پرانے الزامات کی تصدیق کرنا ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ان میں 1959 سے شروع ہونے والے کیسز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دہائیوں پرانے ریکارڈز، عدالت کی محدود ہدایات، اور مقدمات کی وسیع تعداد نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یہ مقدمات ایک 2020 کے کیلیفورنیا قانون کے تحت ممکن ہوئے جس نے بچپن میں جنسی زیادتی کے متاثرین کے لیے عارضی طور پر مدتِ دعویٰ کی پابندی ختم کر دی تھی۔
قانونی فرم پر تحقیقات
حکام نے ان دعووں کی بھی جانچ کا اعلان کیا ہے جو ڈاؤن ٹاؤن ایل اے لاء گروپ (DTLA) کے ذریعے دائر کیے گئے تھے، جو اپریل کے تصفیے میں متعدد درخواست گزاروں کی نمائندگی کر رہی تھی۔ بعض متاثرین نے الزام لگایا کہ سوشل سروسز دفاتر کے باہر موجود افراد نے انہیں 50 سے 200 ڈالر کے درمیان رقم کی پیشکش کی تاکہ وہ دعویٰ دائر کریں، اور بعد میں انہیں ڈی ٹی ایل اے وکلا کے پاس بھیج دیا گیا۔
ڈی ٹی ایل اے نے کسی بھی غلط کاری کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ "کلائنٹس کو مقدمہ دائر کرنے کے لیے ادائیگی نہیں کرتے۔” فرم نے بتایا کہ اسے 13 ہزار انکوائریز موصول ہوئیں مگر اس نے صرف چند سو کیسز قبول کیے۔ کاؤنٹی کا کہنا ہے کہ بدعنوانی میں ملوث وکلا کو ممکنہ طور پر اسٹیٹ بار ایسوسی ایشن کے سامنے جوابدہ کیا جائے گا۔
کاؤنٹی نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات کا اعلان بھی کیا ہے، جن میں کاؤنٹی ملازمین کے خلاف زیادتی کی رپورٹ کرنے کے لیے ایک خصوصی ہیلپ لائن شامل ہے جو سال کے اختتام تک فعال ہو جائے گی۔
مالی دباؤ اور مستقبل کے خدشات
کاؤنٹی کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو جو نِکِتّا نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی تصفیہ ادائیگیاں عوامی مالیات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایل اے کاؤنٹی اور دیگر مقامی حکومتوں کو ماضی کے متاثرین کو انصاف دینے اور موجودہ سماجی فلاحی نظام کو تباہی سے بچانے کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا، کیونکہ یہی وہ خدمات ہیں جن پر نوجوانوں کا انحصار ہے۔
ان دونوں تصفیوں کے بعد کاؤنٹی کے مجموعی معاوضے کی رقم 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو 2022 میں بوائے اسکاؤٹس آف امریکہ کے 2.6 ارب ڈالر کے تصفیے سے بھی تقریباً دوگنی ہے — جو اس سے قبل امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی زیادتی تصفیہ سمجھا جاتا تھا۔

