بيروت (مشرق نامہ) – لبنان کے ممتاز شیعہ عالم دین امام موسیٰ الصدر کے اہلِ خانہ نے ایک لیبنی جج کی جانب سے لیبیا کے سابق آمر معمر قذافی کے بیٹے کی گیارہ ملین ڈالر کے عوض ضمانت پر رہائی کے فیصلے پر شدید احتجاج کیا ہے۔
جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں امام موسیٰ صدر، ان کے رفقا شیخ محمد یعقوب اور عباس بدرالدین کے اہلِ خانہ نے لبنان سمیت دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس اغوا اور قید کے معاملے کی حقیقت سامنے لانے کے لیے جدوجہد کریں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ جرم معمر قذافی، اس کے زوال پذیر نظام اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں شروع ہوا تھا اور آج تک جاری ہے۔ مقدمے کے ملزمان نے اپنے ٹھکانے چھپائے رکھے ہیں، وہ ہمارے تین عزیزوں کے مقام کے بارے میں اہم معلومات دینے سے انکار کر رہے ہیں اور لبنان و لیبیا کے درمیان قانونی ذمہ داریوں اور مفاہمتی یادداشتوں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔
امام موسیٰ صدر کے اہلِ خانہ نے بعض میڈیا اداروں کی غلط رپورٹنگ اور چند افراد کی جانب سے ہنیبل قذافی کے دفاع میں مہم چلانے پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا۔
ان کے مطابق، ہنیبل خود سابق لیبیائی حکومت کے سیکیورٹی نظام کا حصہ تھا اور امام موسیٰ صدر کی گمشدگی سے متعلق اہم معلومات رکھتا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ ہنیبل قذافی کو 2015 میں عدالتی حکم اور انٹرپول کی درخواست پر گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اس نے تفتیش کے دوران اہم معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا، حالانکہ وہ ان سے پوری طرح واقف ہے۔
’’اسی لیے امام موسیٰ الصدر، شیخ محمد یعقوب اور عباس بدرالدین کے اہلِ خانہ نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا، اور اس کی حراست قانون اور عدالتی دائرہ اختیار کے مطابق ہے۔‘‘
اہلِ خانہ نے خبردار کیا کہ بعض عناصر مالی وسائل اور میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کر کے حقیقت کو مسخ کرنے، عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور مجرم کو مظلوم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’’امام صدر کے اہلِ خانہ تمام آزادی پسند افراد، خصوصاً ان لوگوں سے جو بلاجواز حراست پر تشویش ظاہر کرتے ہیں، اپیل کرتے ہیں کہ وہ سچائی کا ساتھ دیں اور جدید تاریخ کی ایک سنگین ناانصافی — امام صدر اور ان کے ساتھیوں کے اغوا — کے خاتمے کے لیے آواز بلند کریں۔‘‘
بیان کے اختتام پر امام موسیٰ صدر کے اہلِ خانہ نے اپنے لاپتہ قائد کے مشن اور اصولوں سے وفاداری کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے کی قانونی اور انسانی بنیادوں پر پیروی جاری رکھیں گے۔
امام موسیٰ الصدر ایرانی نژاد ایک ممتاز شیعہ عالم دین تھے جنہوں نے 1974 میں لبنان میں "امل” (امید) تحریک کی بنیاد رکھی۔ وہ 1959 میں جنوبی لبنان کے ساحلی شہر صور میں شیعہ مسلمانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے آئے تھے۔
امام صدر 31 اگست 1978 کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے ایک سرکاری دورے کے دوران لاپتہ ہو گئے۔ لبنان آج بھی اس گمشدگی کے لیے سابق لیبیائی حکام کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
2011 میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے اور اس کی ہلاکت کے بعد لبنان اور ایران نے بارہا لیبیا سے امام صدر کی گمشدگی کی تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہنیبل قذافی اس وقت لبنان میں زیرِ حراست ہے اور امام موسیٰ صدر کے کیس سے متعلق معلومات چھپانے کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔
اگست 2016 میں امام صدر کے اہلِ خانہ نے اس کے خلاف باضابطہ مقدمہ دائر کیا تھا۔

