اتوار, فروری 15, 2026
ہوممضامینخون کے ٹیسٹ سے 50 اقسام کے سرطان کی تشخیص کے حیران...

خون کے ٹیسٹ سے 50 اقسام کے سرطان کی تشخیص کے حیران کن نتائج
خ

ایک نئے مطالعے کے مطابق، پچاس سے زائد اقسام کے سرطان کے لیے بنایا گیا ایک خون کا ٹیسٹ تشخیص کے عمل کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

شمالی امریکہ میں ہونے والی ایک آزمائش کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ ٹیسٹ مختلف اقسام کے سرطان کی نشاندہی کرنے کے قابل تھا، جن میں سے تین چوتھائی اقسام وہ ہیں جن کے لیے فی الحال کوئی باقاعدہ اسکریننگ پروگرام موجود نہیں۔

نصف سے زائد سرطان ابتدائی مرحلے میں تشخیص کیے گئے، جب علاج نسبتاً آسان اور ممکنہ طور پر کامیاب ہوسکتا ہے۔

امریکی دواساز کمپنی "گریل” (Grail) کی تیار کردہ یہ "گیلری” (Galleri) نامی ٹیسٹ، خون میں گردش کرنے والے سرطان زدہ ڈی این اے کے ذرات کو شناخت کرتا ہے جو کسی رسولی سے الگ ہو کر جسم میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ فی الوقت نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے تحت آزمائشی مرحلے میں ہے۔

اس تحقیق میں امریکہ اور کینیڈا کے 25 ہزار بالغ افراد کو ایک سال تک شامل رکھا گیا۔ ان میں سے تقریباً ہر سو میں سے ایک شخص کا نتیجہ مثبت آیا، جن میں سے 62 فیصد کیسز میں بعد ازاں سرطان کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

تحقیق کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر نیما نبوی‌زادہ، جو اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی میں ریڈی ایشن میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، نے کہا کہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ٹیسٹ سرطان کی اسکریننگ کے طریقۂ کار کو "بنیادی طور پر تبدیل” کرسکتا ہے۔

ان کے مطابق، یہ ٹیسٹ سرطان کی کئی اقسام کو "ابتدائی مرحلے میں شناخت” کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جب علاج یا حتیٰ کہ مکمل صحتیابی کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔

یہ ٹیسٹ ان افراد میں سرطان کی عدم موجودگی کو بھی 99 فیصد سے زیادہ درستگی کے ساتھ ظاہر کرنے میں کامیاب رہا جن کے نتائج منفی آئے۔

جب اس ٹیسٹ کو چھاتی، آنت، پھیپھڑوں اور رحم کے سرطان کی اسکریننگ کے ساتھ شامل کیا گیا تو مجموعی طور پر سرطان کی تشخیص کی شرح سات گنا بڑھ گئی۔

اہم بات یہ ہے کہ جن سرطانوں کی نشاندہی کی گئی، ان میں سے تین چوتھائی وہ اقسام تھیں جن کے لیے فی الحال کوئی اسکریننگ پروگرام موجود نہیں، جیسے بیضہ دانی، جگر، معدہ، مثانہ اور لبلبے کا سرطان۔

یہ خون کا ٹیسٹ 10 میں سے 9 کیسز میں سرطان کے ماخذ (یعنی جسم کے اس حصے) کی درست نشاندہی کرنے میں کامیاب رہا۔

یہ متاثرکن نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ مستقبل میں یہ خون کا ٹیسٹ سرطان کی ابتدائی تشخیص میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

تاہم، وہ سائنسدان جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، ان کا کہنا ہے کہ مزید شواہد درکار ہیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ آیا یہ ٹیسٹ واقعی سرطان سے اموات میں کمی لا سکتا ہے یا نہیں۔

لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ میں ٹرانسلیشنل کینسر جینیٹکس کی پروفیسر کلیئر ٹرنبل نے کہا کہ رینڈمائزڈ مطالعات کے اعداد و شمار، جن میں اموات کو آخری نتیجے کے طور پر دیکھا جائے، ناگزیر ہوں گے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کیا گیلری ٹیسٹ کی بظاہر ابتدائی تشخیص واقعی شرحِ اموات میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

ابتدائی نتائج ہفتے کے روز برلن میں منعقد ہونے والی یورپین سوسائٹی فار میڈیکل اونکولوجی کانگریس میں جاری کیے جائیں گے، تاہم تفصیلی نتائج ابھی تک کسی پیئر ریویو جریدے میں شائع نہیں ہوئے۔

بہت کچھ ان نتائج پر منحصر ہوگا جو این ایچ ایس کے زیرِ اہتمام انگلینڈ میں جاری تین سالہ آزمائش سے حاصل ہوں گے، جس میں 1 لاکھ 40 ہزار مریض شامل ہیں اور جس کے نتائج آئندہ سال منظر عام پر آئیں گے۔

این ایچ ایس نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے کہ اگر نتائج مثبت ثابت ہوئے تو اس ٹیسٹ کو مزید 10 لاکھ افراد تک توسیع دی جائے گی۔

گریل کمپنی کے بایوفارما کے صدر، سر ہرپل کمار نے ان نتائج کو "انتہائی متاثرکن” قرار دیا۔

بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اکثریت ایسے افراد کی ہے جو سرطان کے باعث اس لیے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کیونکہ ان کا سرطان بہت دیر سے دریافت ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے سرطان اس وقت دریافت ہوتے ہیں جب وہ پہلے ہی کافی حد تک پھیل چکے ہوتے ہیں، اور وضاحت کی کہ مقصد یہ ہے کہ تشخیص کو ابتدائی مرحلے میں لایا جائے، جب علاج زیادہ مؤثر اور ممکنہ طور پر شفایاب کرنے والا ہوسکتا ہے۔

تاہم، کینسر ریسرچ یوکے کے ناصر ترابی نے احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مزید تحقیق ضروری ہے تاکہ ایسے سرطانوں کی زیادہ تشخیص سے بچا جا سکے جو ممکن ہے مریض کے لیے نقصان دہ نہ ہوتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوکے نیشنل اسکریننگ کمیٹی شواہد کے جائزے اور اس بارے میں فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی کہ آیا یہ ٹیسٹ این ایچ ایس کے تحت اپنائے جائیں یا نہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین