تحریر: عبدالباری عطوان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اور نہایت مختصر دورۂ خطہ کے دوران ہونے والی پُرتعیش تقاریب کے بیچ، جن میں غزہ کی پٹی میں نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا "جشن” منایا گیا — وہ جنگ بندی جو دو سال تک اسرائیلی قابض ریاست کی جانب سے تباہ کن جنگ اور قحط کے ذریعے مسلط کی گئی — اور اس کے ساتھ اس "معزز” مہمان کی براہ راست عسکری و مالی شراکت اور حمایت شامل تھی، ایسے میں ہماری رائے میں دو باعزت ایرانی موقف سامنے آئے۔
پہلا موقف یہ تھا کہ ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی ازسرِنو پیشکش کو مسترد کر دیا۔ یہ پیشکش اسرائیلی کنیسٹ میں ایک خطاب کے دوران کی گئی جس پر ٹرمپ کو کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر سراہا گیا۔
ایران نے شَرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت سے بھی انکار کر دیا، جو صدر ٹرمپ کی قیادت میں منعقد ہوا اور جس میں تقریباً 20 ممالک کے رہنما اور نمائندے شریک تھے۔
وزیر خارجہ عراقچی کا یہ مؤقف دراصل ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے اُس مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ:
“امریکہ کی جانب سے مذاکرات اور تعلقات میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے جو شرائط رکھی گئی ہیں وہ ذلت آمیز اور غیر حقیقی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں شرط یورینیم کی افزودگی کا مکمل خاتمہ اور 450 کلوگرام افزودہ یورینیم کی حوالگی تھی۔”
رہبرِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ “تہران کا واشنگٹن سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے ایران اس کا تابع اور آلۂ کار بن جائے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔”
ایران کا دوسرا باعزت اقدام مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے صدر ٹرمپ کے “امن اجلاس” میں شرکت کی دعوت کو مسترد کرنا تھا۔ یہ انکار مصر کے خلاف نہیں تھا، بلکہ اس مقصد سے تھا کہ ایران امریکی صدر سے مصافحہ یا فوٹو سیشن سے اجتناب کرے — اُس صدر سے جس نے ایران کے خلاف دو سنگین جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔
پہلا جرم یہ تھا کہ گزشتہ سال جون میں اس نے اپنی بھاری بمبار طیارے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے لیے روانہ کیے۔ یہ حملہ اسرائیلی جارحیت کے ساتھ ہم آہنگی اور نیتن یاہو کی درخواست پر کیا گیا، جس کے نتائج تباہ کن ثابت ہوئے۔
دوسرا جرم یہ تھا کہ ٹرمپ نے چھ بڑی طاقتوں کے درمیان 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو منسوخ کر دیا۔ ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران نیتن یاہو نے اس فیصلے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کھلے عام ٹرمپ کو مبارکباد دی، جیسا کہ اس نے اپنے کنیسٹ خطاب میں بھی کہا۔
اس اقدام کے نتیجے میں ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں اور ناکہ بندی نافذ کی گئی، جس کا مقصد ایرانی عوام کو بھوکا رکھ کر ان کے خلاف "انقلاب” برپا کرنا اور موجودہ قیادت کا تختہ الٹ کر ایک امریکہ نواز حکومت مسلط کرنا تھا۔
تاہم حقیقت میں یہ منسوخی ایران کے لیے ایک عظیم تحفہ ثابت ہوئی، خاص طور پر رہبرِ اعلیٰ کے لیے۔
ایرانی قیادت کا رویہ، چاہے کچھ لوگ متفق ہوں یا نہ ہوں، بہرحال اپنی جگہ انتہائی دانشمندانہ اور اصولی تھا — چاہے وہ ٹرمپ کی مذاکراتی پیشکش کو مسترد کرنے میں ہو یا شرم الشیخ اجلاس میں شرکت سے گریز میں۔
آخر ایران کا کوئی وفد اس دشمن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر کیسے بیٹھ سکتا تھا، جس نے ابھی حال ہی میں اس کے ملک پر میزائل برسائے تھے اور جس کے شہداء کا خون ابھی خشک نہیں ہوا؟
ایران کا وزیرِ خارجہ اس اجلاس میں کیوں شریک ہوتا جہاں زیادہ تر عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا رہے تھے، ایک ایسی کمزور جنگ بندی کا جشن منا رہے تھے جو زیادہ دیر تک برقرار رہنے کی امید نہیں، اور جس کا مقصد غزہ کے عوام پر جاری نسل کشی یا خونریزی روکنا نہیں بلکہ تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانا تھا — تاکہ “دولہا ٹرمپ” کو “نوبیل امن انعام” حاصل کرنے کا موقع مل جائے۔
یہ وہی امریکی صدر ہے جسے کنیسٹ اور شرم الشیخ دونوں مقامات پر خوب سراہا گیا، مگر اس نے آج تک دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کیا، نہ ہی اسرائیلی فوج کے غزہ میں نسل کشی اور قحط کے جرائم پر تنقید کی۔
بلکہ اس نے “گریٹر اسرائیل” کے قیام کی کھلے عام حمایت کی، جو چھ عرب و اسلامی ممالک کے وجود پر قبضے کے مترادف ہے۔
اس نے “کمزور اسرائیل” کو “موٹا کرنے” کے لیے راستہ ہموار کیا، مشرقی بیت المقدس، جولان کی پہاڑیوں اور مغربی کنارے کے قبضے کی منظوری دی۔
یہ وہی صدر ہے جس نے اسرائیل کی جارحیت کو غزہ، لبنان، یمن اور حتیٰ کہ ایران تک پھیلانے کی حمایت کی — اور جھوٹے دعوے گھڑے کہ “الاقصیٰ طوفان” آپریشن کے دوران یہودی لڑکیوں کی عصمت دری کی گئی اور بچوں کو بھٹیوں میں جلایا گیا — ایسے صدر سے ہاتھ ملانا یا اس کے ساتھ بیٹھنا کسی باعزت قوم کے شایانِ شان نہیں۔
حالیہ 12 روزہ جنگ، جس کے خاتمے کے لیے اسرائیل نے دنیا بھر سے مدد کی درخواست کی، اُس وقت رُکی جب جدید ایرانی میزائلوں نے جنوبی تل ابیب کے نصف حصے اور ویزمان انسٹیٹیوٹ آف سائنس کے بیشتر حصے کو تباہ کر دیا، درجنوں صہیونی ہلاک یا زخمی ہوئے۔
یہی وہ لمحہ تھا جب ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی واپسی کا مطالبہ کیا — دراصل اسرائیل کو بچانے، خطے میں موجود امریکی اڈوں کی عمر بڑھانے، اور عرب ممالک سے مزید کھربوں ڈالر نچوڑنے کے لیے تاکہ امریکی معیشت اور ڈالر کے زوال کو روکا جا سکے۔
تاہم آنے والا تصادم یک طرفہ نہیں ہوگا، جیسا کہ ماضی کی بیشتر جنگیں تھیں۔
فلسطینی مزاحمت بدستور قائم، متحرک اور پھیل رہی ہے؛
یمنی قوت مزید مضبوط ہو رہی ہے؛
لبنانی مزاحمت یقیناً دوبارہ ابھرے گی؛
ایرانی میزائل اور آبدوزیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں؛
اور جوہری مرکب اپنی عظیم پختگی کے قریب ہے — ایک بڑے، فیصلہ کن مرحلے کے دہانے پر۔

