اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامی’نو کنگز‘ مارچ: ٹرمپ کیخلاف عوامی مزاحمت میں شدت

’نو کنگز‘ مارچ: ٹرمپ کیخلاف عوامی مزاحمت میں شدت

واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکہ کے پچاسوں ریاستوں میں ہفتے کے روز لاکھوں شہری صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خلاف ملک گیر “نو کنگز” (No Kings) احتجاجی مارچ میں شرکت کریں گے۔ مظاہرین وفاقی اختیارات کے بے جا استعمال کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ مظاہرے ملک بھر کے 2,700 سے زائد مقامات — چھوٹے شہروں سے لے کر بڑے میٹروپولیٹن مراکز تک — میں منعقد ہوں گے۔ “نو کنگز” اتحاد کی جانب سے رواں سال جون میں اسی عنوان سے ایک بڑے احتجاج کا اہتمام کیا گیا تھا، جسے جدید امریکی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہروں میں شمار کیا گیا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس بار کے مظاہرے اس سے بھی زیادہ بڑے ہوں گے، جن کا مرکزی پیغام ہے کہ امریکہ میں بادشاہت نہیں، عوام کی حکمرانی ہے۔

آمریت کے خلاف پیغام

گزشتہ چند ماہ کے دوران صدر ٹرمپ نے وفاقی اختیارات کو وسعت دینے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جن میں امیگریشن ایجنٹس اور وفاقی افواج کی مختلف شہروں میں تعیناتی، اور بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے گروہوں کے خلاف سخت قوانین کی تجاویز شامل ہیں۔ کئی شہروں کے میئرز نے ان اقدامات کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیا ہے، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ وفاقی حکومت مقامی پولیس کو عسکریت پسندی کی طرف دھکیل رہی ہے اور شہری احتجاج کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

تنظیم پبلک سٹیزن (Public Citizen) کی شریک صدر لیزا گلبرٹ نے کہا کہ صدر چاہتے ہیں کہ ہم خوفزدہ ہوں، مگر ہم ڈر اور خاموشی میں نہیں رہیں گے۔ عوام کے لیے پُرامن رہنا، پرعزم کھڑا ہونا، اور اپنی آواز بلند کرنا انتہائی ضروری ہے۔

“نو کنگز” اتحاد میں 200 سے زائد تنظیمیں شامل ہیں۔ منتظمین نے پُرامن مظاہروں کی اپیل کی ہے اور شرکاء کے لیے سلامتی و قانونی تربیت کے وسیع انتظامات کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ہزاروں رضاکاروں نے تصادم سے گریز اور قانونی مشاہداتی تربیت حاصل کی ہے تاکہ احتجاج پُرامن رہے۔

سرکردہ رہنماؤں کی شرکت

سینیٹر چک شومر، کرس مرفی اور برنی سینڈرز سمیت کئی نمایاں اراکینِ کانگریس کے بھی مظاہروں میں شرکت کی توقع ہے۔ برنی سینڈرز نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی عوام یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ بس بہت ہو گیا — قانون سے کوئی بالاتر نہیں، حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی نہیں۔

دوسری جانب، ٹرمپ کے اتحادیوں نے مظاہروں کو “غیر محبِ وطن” اور “اینٹی فا” (Antifa) تحریک سے منسلک قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے دارالحکومت آسٹن میں نیشنل گارڈ تعینات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔

ٹرمپ کے اختیارات کے خلاف بڑھتی عوامی مزاحمت

“نو کنگز” کا نعرہ براہِ راست ٹرمپ کے ان اقدامات اور بیانات کو چیلنج کرتا ہے جنہیں ناقدین صدارتی اختیارات کی حد سے تجاوز قرار دیتے ہیں۔ منتظمین کا الزام ہے کہ حکومت ٹیکس دہندگان کے پیسے سے “اقتدار پر قبضے” کی کوشش کر رہی ہے، عدالتوں کے فیصلوں کو غیر مؤثر بنا رہی ہے، اور بغیر عدالتی کارروائی کے بے دخلیوں میں اضافہ کر رہی ہے۔

ٹرمپ پہلے بھی تیسری مدت کے لیے صدارتی انتخاب لڑنے کی خواہش کا عندیہ دے چکے ہیں، حالانکہ امریکی آئین اس کی اجازت نہیں دیتا، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں اور ماہرینِ قانون نے تشویش ظاہر کی ہے۔

ہفتے کے روز بڑے شہروں — واشنگٹن ڈی سی، نیویارک، سان فرانسسکو، اٹلانٹا، شکاگو، ہیوسٹن، بوسٹن، سان ڈیاگو، اور نیو اورلینز — میں مرکزی اجتماعات ہوں گے، جبکہ بوزمین (مونٹانا) اور کنساس سٹی (میزوری) جیسے چھوٹے شہروں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔

“نو کنگز” اتحاد کے جون کے احتجاجی دن میں ہارورڈ کراؤڈ کاؤنٹنگ کنسورشیم کے مطابق، دو سے پانچ ملین افراد نے شرکت کی تھی، جسے 2017 کے ویمنز مارچ کے بعد امریکہ کی سب سے بڑی احتجاجی تحریک قرار دیا گیا۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس ہفتے کے مظاہرے اُس سے بھی زیادہ بڑے ہوں گے، جو عوام کے بڑھتے ہوئے غصے اور ٹرمپ کے “شاہانہ رویے” کے خلاف اجتماعی ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔

ریپبلکن قیادت کی بڑھتی الزام تراشی

ٹرمپ کے حامیوں نے احتجاجی مظاہروں کو بدنام کرنے کے لیے انہیں اینٹی فا اور غیر ملکی سازشوں سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اسپیکر ہاؤس مائیک جانسن نے مظاہرین کو “ڈیموکریٹس کے pro-Hamas دھڑے” سے تعبیر کیا، جبکہ کانگریس مین ٹام ایمّر نے انہیں “امریکہ دشمن ریلی” قرار دیا۔

اٹارنی جنرل پیم بونڈی نے دعویٰ کیا کہ یہ سب منظم ہیں، کوئی انہیں فنڈنگ کر رہا ہے… ہم ان تمام افراد کو تلاش کر کے مقدمہ چلائیں گے جو یہ انتشار پھیلا رہے ہیں۔

تاہم تنظیم کے نمائندہ لیون نے ان الزامات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ان مظاہروں سے خوفزدہ ہے جو اس کے اقتدار کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ایک لحاظ سے، یہ ہمارے اثر و رسوخ کا اعتراف ہے۔

لیزا گلبرٹ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تشدد مظاہرین کی طرف سے نہیں، بلکہ انتظامیہ کی جانب سے ان کے خلاف مسلح کریک ڈاؤن کی صورت میں آرہا ہے۔ صدر چاہتے ہیں کہ ہم خوفزدہ ہوں، لیکن ہم خاموش نہیں رہیں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین