اسلام آباد(مشرق نامہ): وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز ابوظہبی کی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (IHC) کی جانب سے فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ (FWBL) کے حصول کو پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مختلف شعبوں میں مزید شراکت داریوں اور مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار کرے گا۔
وزیرِاعظم نے اسلام آباد میں ہونے والی دستخطی تقریب میں اس معاہدے کو “پہلی بارش کی بوند” سے تعبیر کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو گہرا کرنے کی ایک وسیع کوشش کا آغاز ہے۔
تقریب کے دوران فرسٹ ویمن بینک کے اکثریتی حصص کو حکومت سے IHC کے حوالے کیا گیا۔ یہ معاہدہ حکومت سے حکومت (G2G) فریم ورک کے تحت طے پایا۔ متحدہ عرب امارات کے وفد کی قیادت شیخ زاید بن حمدان بن زاید النہیان نے کی، جو 2PointZero کے چیئرمین ہیں۔
وفاقی کابینہ پہلے ہی حکومت کے بینک میں موجود تمام حصص کی فروخت کی منظوری دے چکی تھی۔ ان حصص کی قیمت تقریباً 14.6 ملین ڈالر (تقریباً 4.1 ارب روپے) بتائی گئی ہے، اگرچہ سرکاری طور پر اس رقم کا اعلان ابھی باقی ہے۔
سرمایہ کاری میں 6.8 ارب روپے کا اضافہ
IHC نہ صرف بینک کے حصص حاصل کرے گا بلکہ آئندہ پانچ سال کے دوران کم از کم 10 ارب روپے کے سرمائے کی ضروریات بھی پوری کرے گا۔ دسمبر 2024 تک بینک کی ایکویٹی 3.2 ارب روپے تھی، جس میں نیا سرمایہ کار 6.8 ارب روپے کا اضافہ کرے گا۔
نجکاری میں پیش رفت
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس معاہدے کی کامیابی کا سہرا نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور مشیر برائے نجکاری محمد علی کی “واضح قیادت اور انتھک کوششوں” کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرسٹ ویمن بینک کے قیام کا بنیادی مقصد — خواتین کاروباری افراد کی معاونت — نہ صرف برقرار رکھا جائے گا بلکہ پیشہ ورانہ نظم و نسق اور ہدفی سرمایہ کاری کے ذریعے اسے مزید مضبوط کیا جائے گا، خاص طور پر زرعی اور صنعتی شعبوں میں۔
IHC کا اعتماد اور مستقبل کی حکمتِ عملی
IHC کے چیف ایگزیکٹو سید باسر شعیب نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری پاکستان کے مالیاتی شعبے پر اعتماد کی علامت ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی ترقی کے مشترکہ وژن کو ظاہر کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا: “ہم پاکستان کے مالیاتی شعبے میں زبردست امکانات دیکھتے ہیں اور بینک کو جدید بنانے کے لیے ٹیکنالوجی، خودکار نظام اور مالیاتی فیصلوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔”
سرکاری اعلامیے کے مطابق، یہ انٹرگورنمنٹل کمرشل ٹرانزیکشنز ایکٹ 2022 کے تحت کیا گیا پہلا بینک نجکاری معاہدہ ہے۔
1989 میں قائم ہونے والا فرسٹ ویمن بینک اس وقت ملک بھر میں 42 شاخوں کے ذریعے ریٹیل، ایس ایم ای، اور کارپوریٹ صارفین کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔

