اتوار, فروری 15, 2026
ہومنقطہ نظرہاں، جو لوگ غزہ میں بچوں اور عورتوں کا قتلِ عام کرتے...

ہاں، جو لوگ غزہ میں بچوں اور عورتوں کا قتلِ عام کرتے ہیں، وہ خدا کے منتخب کردہ لوگ نہیں ہو سکتے
ہ

تحریر: عبدالباری عطوان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ روکنے کے لیے پیش کیے گئے زہریلے منصوبے اور اسرائیلی فوج کی جانب سے “ریزیلینس فلوٹیلا” کے جہازوں اور کشتیوں پر آج کے حملے، اور اُن پر سوار پانچ سو سے زائد رضاکاروں اور حامیوں کی گرفتاری پر دنیا بھر سے دو نہایت چونکا دینے والے ردعمل سامنے آئے۔
پہلا ردعمل مشہور امریکی صحافی، مصنف اور ٹی وی اسٹار ٹکر کارلسن کی جانب سے آیا — جو ماضی میں صہیونی ریاستِ اسرائیل کے سب سے بڑے حمایتی اور عرب و مسلمانوں کے شدید مخالف سمجھے جاتے تھے۔
دوسرا واقعہ برطانیہ کے شمالی شہر مانچسٹر میں پیش آیا، جہاں ایک نامعلوم شخص نے ایک یہودی عبادت گاہ میں حملہ کر کے دو افراد کو ہلاک اور تین کو زخمی کر دیا۔ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

ہم پہلا ردعمل — یعنی اسرائیلیوں بالخصوص نیتن یاہو اور اُس کے پیروکار ٹرمپ کے حوالے سے — بیان کرتے ہیں۔ معروف امریکی صحافی کارلسن، جن کا اپنا ایک مقبول پروگرام امریکہ میں نشر ہوتا ہے، نے نہایت جرات اور فصاحت کے ساتھ آڈیو و ویڈیو پیغام میں کہا: "خدا کے چُنے ہوئے لوگ نام کی کوئی چیز نہیں… یہ کفر کے مترادف ہے… خدا اُن لوگوں کو کیسے منتخب کر سکتا ہے جو غزہ میں عورتوں اور بچوں کو قتل کرتے ہیں؟ اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے وہ بائبل اور حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے… ہم ایسی بات پر کیسے ایمان رکھ سکتے ہیں؟”

دوسرا ردعمل، یعنی مانچسٹر کی یہودی عبادت گاہ میں نامعلوم شخص کی جانب سے خنجر سے حملہ، جو “یوم کپور” کی مذہبی تقریب کے دوران کیا گیا، کسی حد تک متوقع تھا۔
اس حملے کی بڑے پیمانے پر مذمت بھی کی گئی، کیونکہ نتن یاہو کی فوج کی وہ نسل کش جنگ، جسے اسرائیل کی بڑی اکثریت کی تائید حاصل ہے، نے دنیا بھر میں یہودی برادریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اور انتہاپسندوں کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ اُن پر حملوں کے لیے اکسانے کا سبب بن رہی ہے۔

جب “خدا کے منتخب کردہ لوگوں” کی فوج 66 ہزار انسانوں کو قتل کر دے — جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے ہوں — دو لاکھ سے زیادہ کو زخمی کرے، نسل کشی اور بھوک سے مارنے کی جنگ میں ملوث ہو، 35 اسپتال تباہ کر دے، 95 فیصد عمارتیں و رہائشی ٹاور منہدم کر دے، ڈھائی ملین لوگوں کو بے گھر کر دے، اور یہ سب “یہودیوں” اور اُن کے مذہب کے نام پر کرے — تو یہ توقع بعید نہیں کہ کسی نہ کسی شدت پسند کی جانب سے ردعمل ضرور سامنے آئے، خواہ اُس کا مذہب یا نسل کچھ بھی ہو۔

نیتن یاہو نے ٹرمپ کے اس “جنگ بندی منصوبے” کا جشن غیر معمولی جوش کے ساتھ منایا، کیونکہ اس منصوبے میں اُس کی نسل کش جنگ کے تمام مقاصد پورے ہوتے نظر آ رہے ہیں:
مزاحمتی قوتوں کا خاتمہ، اُنہیں غزہ سے نکال دینا، مکمل سرنڈر حاصل کرنا، اور پوری غزہ پٹی کو اسرائیلی سکیورٹی کے زیرِ قبضہ لانا۔

یہ دونوں ردعمل، اگرچہ اپنی نوعیت اور محرکات میں مختلف ہیں، مگر ان دونوں نے نتن یاہو کی اُس خوشی اور جشن کو شدید دھچکا پہنچایا جو اُس نے “ٹرمپ پلان” کے اعلان کے چار دن بعد منایا تھا — خاص طور پر اس منصوبے کے مرکزی ہدف کو، یعنی “اسرائیل کی عالمی تنہائی کو توڑنا اور حماس پر اسے مسلط کرنا”۔

اقوامِ متحدہ کے استقامت فلوٹیلا کے جہازوں پر اسرائیلی بحریہ کا دھاوا، ان پر سوار پُرامن کارکنوں کی گرفتاری، اور انہیں غزہ کی پٹی کے محصور و بھوکے عوام تک خوراک و ادویات پہنچانے سے روک دینا، بدترین دہشت گردی کی علامت ہے۔
یہ عمل اُس باغی ریاست کے خلاف عالمی غم و غصے میں مزید اضافہ کرتا ہے جو اس دہشت گردی کو کھلے عام انجام دے رہی ہے، اور اپنی عالمی تنہائی کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
یہ معزز رضاکار دنیا کے چالیس ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں سب سے زیادہ نمائندگی یورپی ملکوں کی ہے۔

پہلا سرکاری ردعمل کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کی طرف سے آیا، جنہوں نے فوری طور پر تمام اسرائیلی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا، اسرائیلی سفارت خانہ بند کر دیا، اور تمام تجارتی و اقتصادی معاہدے منسوخ کر دیے۔
امید ہے کہ بیشتر لاطینی امریکی ممالک بھی اسی راہ پر چلیں گے۔
ترکی، یونان اور آئرلینڈ کی مزدور یونینوں نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور کل، ہفتے کے روز، تل ابیب حکومت کے بحری جہازوں اور کشتیوں پر دہشت گردانہ حملوں کے خلاف احتجاجی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان جہازوں کو بندرگاہِ اشدود منتقل کر دیا گیا ہے اور ان پر سوار تمام افراد کو اسلحے کے زور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

جی ہاں، ہم اُس جری صحافی ٹکر کارلسن سے متفق ہیں کہ خدا کے چُنے ہوئے لوگ نام کی کوئی چیز نہیں۔
خدا ایسے لوگوں کو منتخب نہیں کر سکتا جن کی اکثریت ایک “جمہوری” حکومت کی حمایت کرتی ہے جو نسل کشی اور نسلی تطہیر میں ملوث ہے، دو ملین نہتے اور محصور انسانوں کو بھوک سے مرنے پر مجبور کرتی ہے، اور سب سے بڑھ کر ایک پُرامن قوم کی سرزمین پر قبضہ کر کے ایک نسلی و دہشت گرد ریاست قائم کرتی ہے۔

نیتن یاہو اور اُس کی حکومت ہر اُس یہودی خون کے قطرے کے ذمہ دار ہیں جو بہایا گیا، اور دنیا بھر میں یہودیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کے بھی — خواہ وہ مقبوضہ فلسطین کے اندر ہوں یا باہر۔
بدقسمتی سے، انہیں ان پالیسیوں کے لیے مکمل تائید حاصل ہے صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ سے — وہی ٹرمپ جو خود کو “آزاد دنیا” اور اُس کی اقدار کا قائد قرار دیتا ہے، خصوصاً انسانی حقوق اور ان گنت نام نہاد آزادیوں کا، جن کی حقیقت اب پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔

میں امریکی صحافی ٹکر کارلسن، اُن تمام باعزت انسانوں اور کارکنوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے غزہ کی پٹی میں بھوک اور محاصرے کا شکار لوگوں سے یکجہتی کے اظہار میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔
اسی طرح میں اُن جری عالمی رہنماؤں — خصوصاً یورپ، لاطینی امریکہ، اسپین، کولمبیا اور آئرلینڈ — کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے عرب اور مسلم دنیا کے کئی بزدل حکمرانوں سے کہیں زیادہ جرات کا مظاہرہ کیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین