اتوار, فروری 15, 2026
ہومنقطہ نظرنیتن یاہو کا ایران کو پیوٹن کے ذریعے دیا گیا “جنگ نہ...

نیتن یاہو کا ایران کو پیوٹن کے ذریعے دیا گیا “جنگ نہ کرنے” کا پیغام دراصل ایک حربی فریب بھی ہو سکتا ہے
ن

تحریر: حمید جوادی

ایران کے اعلیٰ سفارتکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا ہے، جو مبینہ طور پر روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ذریعے پہنچایا گیا، جس میں کہا گیا کہ صہیونی حکومت ایک نئی جنگ نہیں چاہتی۔

ظاہری طور پر یہ پیغام ایک ایسے خطے میں کشیدگی میں کمی کی جانب خوش آئند اشارہ محسوس ہوتا ہے جو ہمیشہ تناؤ کا شکار رہتا ہے۔ لیکن حقیقت میں جب اسرائیلی رہنما، امریکی پشت پناہی کے ساتھ، اپنے خود ساختہ “گریٹر اسرائیل” کے خواب کو بمباری کے ذریعے حقیقت بنانے پر تلے ہوں، تو ایسا پیغام زیادہ تر فریب انگیز دکھائی دیتا ہے۔

لیکن اگر سطح کے نیچے دیکھا جائے تو یہ پیغام زیتون کی شاخ کے بجائے ایک سوچا سمجھا حربہ، ایک منصوبہ بند چال اور ممکنہ طور پر ایک “ٹیکٹیکل ڈیسیپشن” یعنی جنگی دھوکہ معلوم ہوتا ہے۔

یہ پیوٹن کا وہ بیان تھا جو ایران کے خلاف اسرائیل کی 12 روزہ جارحیت کے کئی ماہ بعد سامنے آیا۔ جون کے وسط میں شروع ہونے والی اس بلاجواز جنگ کے پہلے ہی دن اسرائیل نے ایران کے متعدد سینئر فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں کو شہید کر دیا۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب صرف دو دن بعد ایران کے سفارتکار عمان میں اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے چھٹے دور کی بالواسطہ بات چیت کرنے والے تھے۔

اس جارحیت کا وقت خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کا مقصد سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اس پیغام کو سطحی طور پر قبول کرنے والا نہیں، نہ ہی وہ اس پر اعتماد کر سکتا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا مؤقف دوٹوک تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے (اسرائیلیوں نے) دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ نئی جنگ اور تصادم نہیں چاہتے، لیکن اس سے ہمارے حساب کتاب میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صہیونی حکومت کی طرف سے فریب کا امکان اب بھی بہت زیادہ ہے۔

درحقیقت اسرائیلی رہنما ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی تباہ کن طاقت دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے، جنہوں نے اسرائیل کے کثیر سطحی دفاعی نظام کو ناکام بنا دیا اور صہیونی شہروں میں بھاری نقصان پہنچایا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوبارہ “اسٹریٹیجک ڈیسیپشن” یعنی “اسٹریٹیجک فریب کاری” کا سہارا نہیں لیں گے۔

ایران کو اپنی حکمتِ عملی میں کوئی نرمی نہیں برتنی چاہیے بلکہ اسرائیل کے حقیقی رویے، اس کی فوجی نقل و حرکت اور زمینی شواہد پر توجہ رکھنی چاہیے۔ اسرائیلی حکومت کے پاس اپنے مخالفین پر برتری حاصل کرنے کے لیے جھوٹے پیغامات اور فریب دینے کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔

9 ستمبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے والا اسرائیلی فضائی حملہ اس فریب کاری کی ایک مثال تھا۔ یہ کھلا حملہ اُس وقت کیا گیا جب حماس رہنما امریکی ثالثی سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز پر غور کے لیے جمع ہوئے تھے۔

صہیونی حکومت نے امریکہ کی مدد سے وہ حملہ اس وقت انجام دیا جب اسے یقین تھا کہ حماس کے رہنما اس موقع پر کسی حملے کی توقع نہیں کر رہے۔ آخر کون اس وقت مذاکرات کاروں پر بمباری کرے گا جب وہ آپ کے قریبی اتحادی کے ذریعے دیے گئے منصوبے پر بات کر رہے ہوں؟

جس طرح اسرائیلی رہنماؤں نے حماس کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کو ایک دھوکہ دہندہ پردہ بنایا، بعینہٖ ایران کو دیا گیا پیغام بھی ایک حربی چال ہو سکتا ہے — ایسا فریب جس کا مقصد ایران کو عارضی طور پر اطمینان میں مبتلا کر کے مستقبل کی جارحیت کی تیاری کرنا ہو۔

یہ پیغام اُس وقت سامنے آیا جب غزہ میں حماس کے ساتھ ایک جنگ بندی معاہدہ طے پایا، جہاں دو سال کی نسل کش جنگ میں 68 ہزار سے زائد فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، اور علاقے کا بیشتر حصہ کھنڈر بن چکا ہے جبکہ تقریباً تمام باشندے بے گھر ہو چکے ہیں۔

اگرچہ غزہ میں جنگ بندی فلسطینیوں کے لیے وقتی سکون اور خطے کے لیے امید کی کرن لائی ہے، لیکن ہمسایہ ممالک، خصوصاً ایران کو، اسرائیل کی ممکنہ نئی سازشوں کے لیے چوکس رہنا ہوگا۔ آخر کون یقین کرے گا کہ وہ بنیامین نتن یاہو، جسے خود اسرائیل کے اندر بہت سے لوگ سیاسی مفاد کے لیے جنگ طول دینے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، اچانک امن کا خواہاں بن گیا ہے؟

ایران کو اُس شخص پر کیوں بھروسہ کرنا چاہیے جس نے دہائیوں تک ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کے بارے میں جھوٹ پھیلایا، عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو جعلی معلومات فراہم کیں، اور امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ پر اُکسانے کی کوشش کی؟

نیتن یاہو نے پہلی بار 1992 میں، جب وہ اسرائیلی پارلیمنٹ کا رکن تھا، یہ دعویٰ کیا کہ ایران “تین سے پانچ سال” میں ایٹمی ہتھیار تیار کر لے گا۔ یہ انتباہ اس کے بیانات کا مستقل نعرہ بن چکا ہے، جو آج 30 برس بعد بھی جاری ہے۔

1996 میں بطور وزیرِ اعظم اپنی پہلی مدت کے دوران، نیتن یاہو نے ایران کی جوہری سرگرمیوں کو اسرائیل اور عالمی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔

چند سال بعد، عراق پر امریکی حملے کے دوران، اُس نے امریکی کانگریس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اصل خطرہ عراق نہیں بلکہ ایران ہے۔ اپنی دوسری مدتِ اقتدار میں اس نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف بیانات مزید سخت کر دیے، اسے اسرائیل کے وجود کے لیے “سب سے بڑا خطرہ” قرار دیا۔

2012 میں، نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک کارٹون بم کا چارٹ اٹھا کر دنیا کو دکھایا اور دعویٰ کیا کہ ایران یورینیم افزودگی میں “ریڈ لائن” کے قریب پہنچ چکا ہے۔

وہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے “JCPOA” کا سخت مخالف تھا۔ امریکی کانگریس میں، وائٹ ہاؤس کی منظوری کے بغیر، تقریر کرتے ہوئے اس نے کہا کہ یہ معاہدہ دراصل ایران کو بم بنانے کا راستہ دے گا۔

بعد میں نیتن یاہو نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس معاہدے سے نکلنے پر آمادہ کیا، جسے وہ اسرائیل کا “اب تک کا سب سے بڑا دوست” قرار دیتا رہا۔ اس کے بعد وہ مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا کہ ایران چند ماہ، یا چند ہفتے دور ہے بم بنانے سے، اور امریکہ سے پیشگی حملے کا مطالبہ کرتا رہا۔

پھر جون 2025 کی وہ جنگ آئی جب نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران کی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں میں شامل ہونے پر قائل کیا — اور ٹرمپ نے اس پر فوراً رضامندی ظاہر کر دی۔

گزشتہ تین دہائیوں سے نیتن یاہو کی پالیسی مستقل رہی ہے: امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں گھسیٹنا۔ ایسے میں اس کی اچانک “جنگ نہ کرنے” کی بات یقین کے قابل کیسے ہو سکتی ہے؟

اسرائیل کا یہ پیغام کہ وہ مزید جنگ نہیں چاہتا، دراصل ایک “عارضی توقف” ہو سکتا ہے — ایک موقع اپنی تباہ شدہ دفاعی صلاحیتوں کو بحال کرنے کا، اپنی تھکی ہوئی فوج کو آرام دینے کا، اور نتن یاہو کے لیے اپنی کمزور سیاسی اتحادی حکومت کو سہارا دینے کا، جو دو سالہ تباہ کن جنگوں کے بعد لڑکھڑا رہی ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوجی قیادت نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ ہر ممکنہ صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اسرائیلی حکومت یا اس کے مغربی حامیوں کی کسی بھی بے وقوفانہ فوجی مہم جوئی کا تباہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین