واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیرِ قومی سلامتی جان بولٹن پر وفاقی عدالت نے فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ اس طرح وہ ٹرمپ کے ایک اور نمایاں ناقد بن گئے ہیں جنہیں حالیہ ہفتوں میں مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔
یہ فردِ جرم جمعرات کے روز امریکی ریاست میری لینڈ کی وفاقی عدالت میں عائد کی گئی، جہاں بولٹن مقیم ہیں۔ وہ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران 17 ماہ تک قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے، بعد ازاں انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
عہدے سے علیحدگی کے بعد بولٹن اپنی کتاب کی وجہ سے تنقید کی زد میں آئے، جو انہوں نے حکومتی دور کے تجربات پر لکھی تھی۔ بعد میں وہ ٹرمپ کے سخت ناقد بن گئے اور ان کی خارجہ پالیسی کو امریکی سفارتی تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ بولٹن پر الزام ہے کہ انہوں نے انتظامیہ سے علیحدگی کے بعد خفیہ دستاویزات کے غلط استعمال میں ملوث رہے۔ ان پر 18 الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں آٹھ الزامات قومی دفاعی معلومات کی ترسیل اور دس ان کے تحفظ میں ناکامی سے متعلق ہیں۔
عوامی تقریب کے دوران جب ٹرمپ سے اس مقدمے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بولٹن "برا شخص” ہے۔
بولٹن کے علاوہ سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی اور نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز پر بھی حالیہ ہفتوں میں الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
امریکی اٹارنی جنرل پامیلا بانڈی نے کہا کہ امریکہ میں انصاف کا ایک ہی معیار ہے۔ جو بھی شخص طاقت کے منصب کا غلط استعمال کرے اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالے، اسے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔
ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق الزامات ایک ایسی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آئے جن میں انکشاف ہوا کہ بولٹن نے مبینہ طور پر ذاتی اکاؤنٹس کے ذریعے خفیہ معلومات شیئر کیں اور ان دستاویزات کو اپنے گھر میں محفوظ رکھا، جو وفاقی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
بولٹن کے وکیل ایبی لوویل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے حقائق برسوں پہلے طے ہو چکے تھے، اور موجودہ الزامات صرف ذاتی ڈائریوں پر مبنی ہیں جو غیرخفیہ ہیں اور صرف خاندان کے افراد کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں۔
فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ بولٹن نے بطور قومی سلامتی مشیر اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور اپنی سرگرمیوں سے متعلق ایک ہزار سے زائد صفحات کی معلومات دو ایسے افراد کے ساتھ شیئر کیں جو ان کے رشتہ دار ہیں مگر انہیں سیکیورٹی کلیئرنس حاصل نہیں۔
76 سالہ بولٹن پر الزام ہے کہ انہوں نے قومی دفاع سے متعلق دستاویزات، جو “انتہائی خفیہ” درجہ رکھتی تھیں، اپنے میری لینڈ کے گھر میں غیر قانونی طور پر محفوظ رکھیں۔
اگر وہ قصوروار ثابت ہوئے تو انہیں ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا ہوسکتی ہے، اگرچہ ایسے مقدمات میں عام طور پر سزا کم دی جاتی ہے۔
ایف بی آئی نے اگست میں بولٹن کے گھر اور دفتر کی تلاشی لی تھی۔ سرچ وارنٹ میں ان کی کتاب کے پری پبلی کیشن جائزے اور ان کے اے او ایل اکاؤنٹ پر غیر ملکی ہیک کے واقعات کو بنیاد بنایا گیا تھا۔
فردِ جرم کے مطابق بولٹن نے جولائی 2021 میں حکومت کو اس ہیک کے بارے میں اطلاع دی تھی، لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس اکاؤنٹ میں قومی دفاع سے متعلق خفیہ معلومات موجود تھیں۔
یہی کتاب “دی روم ویئر اِٹ ہیپنڈ” تحقیقات کا مرکزی نکتہ بنی۔ اس میں بولٹن نے بطور قومی سلامتی مشیر اپنے تجربات بیان کیے تھے، اور کتاب ٹرمپ کے پہلے مواخذے کے دوران خاصی متنازع بن گئی تھی۔
بولٹن نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ نے یوکرین کو فوجی امداد اس شرط پر روکی تھی کہ وہ جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کی تحقیقات کرے، جس کی ٹرمپ نے تردید کی تھی۔
بولٹن کی یہ کتاب 23 جون 2020 کو شائع ہوئی۔ اس میں انہوں نے ٹرمپ کو ایک "ناسمجھ شخص” قرار دیا جو امریکی خارجہ پالیسی کی بنیادی باتوں سے ناواقف ہے۔
رواں سال جنوری میں جب ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے اپنے پہلے ہی دن 40 سے زائد سابق انٹیلی جنس عہدیداروں، بشمول بولٹن، کے سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دیے۔
بولٹن ریپبلکن پارٹی کے ایک نمایاں رکن سمجھے جاتے ہیں۔ وہ سخت قدامت پسند سیاسی نظریات کے حامل ہیں اور بعض دائیں بازو کے حلقے انہیں ایک نظریاتی شخصیت قرار دیتے ہیں۔ وہ امریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ (AEI) کے سابق سینئر فیلو اور فاکس نیوز کے تبصرہ نگار بھی رہ چکے ہیں۔

