مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – تہران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی، جس دوران انہوں نے رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا خصوصی پیغام صدر پیوٹن تک پہنچایا۔
علی لاریجانی، جو رہبرِ انقلاب کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، جمعرات کی صبح روس کے دورے پر ماسکو پہنچے۔ ملاقات میں دونوں فریقوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ ہفتے صدر پیوٹن نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی حکام نے ان سے ایران کے لیے ایک پیغام پہنچانے کی درخواست کی ہے کہ تل ابیب مزید کشیدگی نہیں چاہتا اور تعلقات میں نرمی کا خواہاں ہے۔
صدر پیوٹن نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں "روس۔وسط ایشیا سمٹ” سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اسرائیلی قیادت کے ساتھ اعتماد پر مبنی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں، اور ہمیں اسرائیلی قیادت کی جانب سے ایسے اشارے موصول ہوئے ہیں جنہیں ہم نے اپنے ایرانی دوستوں تک پہنچایا ہے کہ اسرائیل کسی نئی محاذ آرائی میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ معاملات کو حل کرنے کا خواہاں ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اس وقت شدید ہو گئی جب صہیونی حکومت نے 13 جون کو ایران کے خلاف بلااشتعال جارحیت کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں بارہ روزہ جنگ چھڑ گئی۔
اس جنگ کے دوران اسرائیلی افواج نے ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور جوہری سائنسدانوں کو شہید کیا اور ملک کے مختلف حصوں میں سینکڑوں شہریوں کو نشانہ بنایا۔ امریکا نے بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر بمباری کی۔
یہ بارہ روزہ جنگ 24 جون کو اس وقت اختتام پذیر ہوئی جب ایران کے بھرپور جوابی حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی اور امریکی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد اسرائیل کو اپنی جارحیت روکنے اور یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

