اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیبرطانیہ میں فلسطین ایکشن پر پابندی کا عدالتی جائزہ منظور

برطانیہ میں فلسطین ایکشن پر پابندی کا عدالتی جائزہ منظور
ب

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – برطانیہ کی وزارتِ داخلہ کو اُس وقت ایک اہم قانونی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب عدالتِ استیناف نے فلسطین ایکشن پر عائد دہشت گردی کی پابندی کے خلاف عدالتی جائزے کو روکنے کی سرکاری کوشش مسترد کردی۔

جمعہ کے روز عدالتِ استیناف نے حکومت کی جانب سے دائر اپیل کو خارج کرتے ہوئے فلسطین ایکشن کو یہ اجازت دے دی کہ وہ دہشت گرد گروہ قرار دیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کر سکے۔

فیصلے کے دوران چار ججوں، جن میں لیڈی چیف جسٹس بھی شامل تھیں، نے تنظیم کی شریک بانی هدیٰ عموری کو دو مزید قانونی بنیادوں پر اپیل کی اجازت دی جنہیں قبل ازیں مسترد کر دیا گیا تھا۔

ان بنیادوں میں یہ مؤقف شامل ہے کہ اُس وقت کی وزیرِ داخلہ نے متعلقہ معلومات کو مدنظر نہیں رکھا یا غیر متعلقہ معلومات کو اہمیت دی، اور یہ بھی کہ انہوں نے اپنی شائع شدہ پالیسی کی خلاف ورزی کی جس میں واضح کیا گیا ہے کہ کن عوامل کو فیصلے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

فیصلے کے بعد ھدیٰ عموری نے اس عدالتی فیصلے کو ’’آمریت پسند پابندی کے خلاف تاریخی کامیابی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف شہری آزادیوں پر حالیہ برطانوی تاریخ کے سخت ترین حملوں میں سے ایک کے خلاف جیت ہے بلکہ اس اصول کی بھی فتح ہے کہ سرکاری وزرا کو غیر قانونی اقدام پر جواب دہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پُرامن مظاہرین اور اسلحہ تجارت کو روکنے والوں کی گرفتاری انسدادِ دہشت گردی کے وسائل کا خطرناک غلط استعمال ہے، اب تک دو ہزار سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فلسطین ایکشن پر عائد پابندی کے خلاف عدالتی جائزہ 25 نومبر کو شروع ہوگا، جس میں تنظیم ان نئی بنیادوں پر بھی اپنا مؤقف پیش کر سکے گی۔

گزشتہ ماہ وزارتِ داخلہ نے اپیل میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلسطین ایکشن کی جانب سے دہشت گرد گروہ کے طور پر نامزدگی کو چیلنج کرنے کا موزوں فورم Proscribed Organisations Appeal Commission ہے، جسے پارلیمان نے اسی مقصد کے لیے قائم کیا ہے، نہ کہ عدالتی جائزہ۔

تاہم عدالتِ استیناف نے جج چیمبرلین کے اس فیصلے سے اتفاق کیا کہ عدالتی جائزہ اس بات کا تعین کرنے کے لیے زیادہ تیز اور مؤثر طریقہ ہے کہ آیا فلسطین ایکشن کو واقعی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

رواں سال کے اوائل میں اُس وقت کی وزیرِ داخلہ یویٹ کوپر نے فلسطین ایکشن پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

اس پابندی کے تحت تنظیم کی حمایت یا رکنیت کا اظہار ایک فوجداری جرم ہے جس پر زیادہ سے زیادہ 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

پابندی کے بعد Defend Our Juries نامی ایک گروہ نے اس فیصلے کے خلاف سول نافرمانی کی مہم شروع کی۔

اس گروہ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو فلسطین ایکشن پر پابندی کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین