مغربی کنارہ (مشرق نامہ) – قابض اسرائیلی افواج نے جمعے کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں چھاپوں اور گرفتاریوں کی ایک نئی لہر شروع کی، جس کے تحت فلسطینی شہریوں کے خلاف جبر و تشدد کی مہم کو جاری رکھا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق قابض فوج نے بیتار عیلت نامی صہیونی بستی میں وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائیاں کیں، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ کسی ممکنہ "سکیورٹی واقعے” کا خدشہ ہے۔ یہ چھاپے ایسے وقت میں کیے گئے جب مغربی کنارے میں قابض فورسز کی روزانہ کی دراندازیوں اور فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
نابلس میں چھاپے اور زخمی
شمالی شہر نابلس میں قابض فورسز نے علی الصبح دو فلسطینی نوجوانوں کو چھاپے کے دوران گرفتار کر لیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان میں سے ایک نوجوان کو اس کے گھر کے اندر گولی مار کر زخمی کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی خصوصی یونٹس اندھیرے کی آڑ میں المخفیہ محلے میں داخل ہوئیں، جس کے بعد بکتر بند فوجی گاڑیاں علاقے میں داخل ہو گئیں۔ فورسز نے ایک رہائشی عمارت کا محاصرہ کیا، ایک گھر کے اندر گولیاں چلائیں اور بعد ازاں دو فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا، جن میں سے ایک زخمی حالت میں تھا۔
جنین میں فلسطینی نوجوان شہید
جمعرات کی شام، قابض اسرائیلی فورسز نے جنین کے جنوبی قصبے قباطیہ میں چھاپے کے دوران ایک فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ یہ واقعہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی شہادتوں کی تازہ ترین مثال ہے، جو اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور اجتماعی سزا کے تسلسل کے باعث پیش آ رہی ہیں۔
قابض افواج مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک کو بار بار چھاپوں، گھروں میں گھسنے اور بلاجواز گرفتاریوں کے ذریعے نشانہ بناتی رہتی ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں اکثر شدید جھڑپیں، جانی نقصان اور شہری علاقوں میں وسیع تباہی دیکھی جاتی ہے۔
مغربی کنارے میں تشدد کی حالیہ لہر ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب اسرائیلی حکومت نے 9 اکتوبر کو فلسطینی مزاحمت کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کے بعد غزہ میں اپنی بیشتر جارحانہ کارروائیاں روک دی ہیں۔

