اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیکیا غزہ جنگ بندی جنوبی افریقہ کے اسرائیل کیخلاف نسل کشی مقدمے...

کیا غزہ جنگ بندی جنوبی افریقہ کے اسرائیل کیخلاف نسل کشی مقدمے پر اثر ڈالے گی؟
ک

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ دسیوں ہزار فلسطینی اب اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں۔ تاہم جنوبی افریقہ — جو فلسطین کا سب سے مضبوط حامی سمجھا جاتا ہے — میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ یہ معاہدہ شاید دیرپا اور بامعنی امن کی راہ نہ ہموار کر سکے۔

یہ 2023 میں غزہ پر جنگ کے چند ہی ماہ بعد تھا جب جنوبی افریقہ نے تاریخ رقم کی اور اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں نسل کشی کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ اس اقدام نے جنوبی افریقہ اور پورے براعظم افریقہ میں فلسطین کے ہزاروں حامیوں کی امیدوں کو جلا بخشی، جب کہ اس وقت دو ملین فلسطینی غزہ میں شدید بمباری کے زیرِ اثر زندگی گزار رہے تھے۔

گزشتہ ہفتے، دو سال سے زیادہ طویل جنگ کے بعد، جس میں کم از کم 67,967 فلسطینی جاں بحق ہوئے، دنیا بھر میں اس وقت سکون کی لہر دوڑ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر اسرائیل اور حماس نے اتفاق کر لیا۔ تاہم جنوبی افریقہ میں حکومت اور اس کے حامیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں پر ڈھائے گئے مظالم کے لیے اسرائیل کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

جنوبی افریقہ کی سابق وزیرِ خارجہ نالیدی پانڈور، جن کے دور میں دسمبر 2023 میں یہ مقدمہ دائر کیا گیا تھا، نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکی امن منصوبے کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ اسرائیل کو غزہ کی جنگ اور دیگر خلاف ورزیوں کے سلسلے میں عدالت کے سامنے جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

پانڈور نے کہا کہ جنگ بندی خوش آئند قدم ہے کیونکہ قتل و غارت کا رکنا ناگزیر تھا، مگر ان کے بقول فلسطینی عوام کی جدوجہد اس جنگ یا گزشتہ دو سال کی نسل کشی سے کہیں زیادہ گہری ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام خود ارادیت، آزادی اور انصاف کے لیے کوشاں ہیں اور موجودہ جنگ بندی ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کرتی۔

پانڈور نے زور دے کر کہا کہ آئی سی جے کا مقدمہ جاری رہنا چاہیے، کیونکہ ماضی کی مثالوں جیسے روانڈا اور بوسنیا میں بھی جنگی مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ثابت ہوا۔ ان کے مطابق، یہی قرض ہے جو غزہ اور فلسطین کے دیگر حصوں میں جانیں قربان کرنے والوں کا ہے۔

پانڈور کے یہ خیالات جنوبی افریقہ کے سرکاری مؤقف سے ہم آہنگ ہیں۔ صدر سیرل راما فوسا نے منگل کو کیپ ٹاؤن میں ارکانِ پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے — ایک ایسا انجام جو فلسطینیوں کے لیے شفا اور انصاف کا باعث بنے گا۔

راما فوسا نے کہا کہ حالیہ امن معاہدہ، جس کا خیرمقدم کیا گیا ہے، بین الاقوامی عدالت میں جاری مقدمے پر کسی صورت اثرانداز نہیں ہوگا۔

جنوبی افریقہ کا اسرائیل کے خلاف نسل کشی مقدمہ

جب جنوبی افریقہ کے ممتاز ماہرینِ قانون جنوری 2024 میں ہیگ پہنچے تاکہ فلسطین کی نمائندگی کریں، تو عدالت کے باہر ہزاروں افراد نے فلسطینی پرچم بلند کر کے ان کا استقبال کیا۔ اس وقت برطانیہ اور فرانس جیسے مغربی ممالک اسرائیل کے ساتھ کھڑے تھے اور اس کے دفاع کے حق کا حوالہ دے رہے تھے۔ تاہم بعد ازاں دونوں ممالک نے اپنا مؤقف نرم کیا اور اسرائیلی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے ستمبر میں ریاستِ فلسطین کو باضابطہ تسلیم کر لیا۔

جنوبی افریقہ کی ’’ڈریم ٹیم‘‘ کہلانے والی وکلا کی ٹیم میں ممتاز قانون دان اور ماہرِ بین الاقوامی قانون جان ڈوگارڈ، سینئر کونسل میکس ڈو پلیسس، اور بیرسٹر ادیلہ حاسم سمیت دیگر شامل تھے۔ ان کے طویل دلائل میں اسرائیل پر 1948 کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی اور ’’75 سالہ نسلی امتیاز، 56 سالہ قبضے، اور 16 سالہ ناکہ بندی‘‘ کے جرائم کا الزام عائد کیا گیا۔

اسرائیلی ٹیم کی قیادت برطانوی وکیل میلکم شا اور آسٹریلوی نژاد اسرائیلی وکیل تال بیکر کر رہے تھے، جنہوں نے اسرائیل کے دفاع کے حق اور جنوبی افریقہ کے دعوؤں کی بنیادوں پر اعتراض اٹھایا۔

عدالت نے جنوری 2024 میں اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ ’’قابلِ قیاس‘‘ ہے کہ اسرائیل نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اور اسے حکم دیا کہ وہ نسل کشی روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

بعد ازاں مارچ 2024 میں، جنوبی افریقہ کی جانب سے مزید درخواست پر، عدالت نے اسرائیل کو حکم دیا کہ غزہ میں قحط کے دوران خوراک کی فراہمی یقینی بنائے۔ مئی 2024 میں ایک اور حکم نامے میں اسرائیل کو رفح پر حملے روکنے کی ہدایت دی گئی، جہاں اس وقت لاکھوں فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے تینوں عدالتی احکامات پر مکمل عمل نہیں کیا۔ تاہم اس مقدمے کے اثرات ضرور دیکھے گئے — بیلجیم کے علاقے والونیا کی حکومت نے عدالتی فیصلوں کے بعد اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد معطل کر دی، جب کہ جاپانی کمپنی ’’ایٹوچو‘‘ نے اسرائیلی دفاعی ٹھیکیدار ’’ایل بِٹ سسٹمز‘‘ سے تعلقات ختم کر دیے۔

ماہرین کے مطابق جنوبی افریقہ کے لیے سب سے مشکل مرحلہ یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اسرائیل نے دانستہ طور پر غزہ میں نسل کشی کا ارادہ کیا تھا۔ پانڈور نے کہا کہ ان کی ٹیم نے یہ نکتہ ثابت کر دیا ہے، کیونکہ جنوبی افریقہ نے اکتوبر 2024 میں 500 صفحات پر مشتمل ثبوت عدالت میں جمع کرائے۔ اسرائیل کو اپنا جواب 12 جنوری 2026 تک داخل کرانا ہے، زبانی سماعتیں 2027 میں ہوں گی، اور حتمی فیصلہ 2027 کے اواخر یا 2028 کے اوائل میں متوقع ہے۔

احتساب پر بات غائب

اگست میں بین الاقوامی ایسوسی ایشن آف جینوسائیڈ اسکالرز (IAGS) نے غزہ جنگ کو نسل کشی قرار دیا۔ تنظیم نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کو بھی ’’بین الاقوامی جرائم‘‘ قرار دیا، جن میں تقریباً 1,100 افراد ہلاک اور 200 کے قریب گرفتار ہوئے تھے۔

IAGS کی صدر میلینی او برائن نے الجزیرہ کو بتایا کہ جنوبی افریقہ نے عدالت میں غزہ کا مقدمہ درست طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق، آئی سی جے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں جاری قانونی کارروائیاں خاص طور پر اس امن معاہدے کے تناظر میں نہایت اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احتساب کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور یہ امر حیران کن ہے کہ جنگ بندی اور امن مذاکرات میں احتساب پر کوئی بات نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق، اگر مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو نہ مصالحت ممکن ہوگی اور نہ ہی تشدد کا سلسلہ رکے گا۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا آئی سی جے کے شیڈول پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ اسرائیل کے دفاع کے حق میں یہ دلیل کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔

ٹریٹی کالج ڈبلن کے قانون دان مائیک بیکر کے مطابق اسرائیل ممکنہ طور پر یہ مؤقف اختیار کرے گا کہ حالیہ پیش رفت اس کے نسل کشی کے ارادے کے خلاف ثبوت فراہم کرتی ہیں۔

امریکہ کی ناراضگی اور دباؤ

2025 میں جنوبی افریقہ کو اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی، یعنی امریکہ، کی شدید ناراضی کا سامنا رہا۔ واشنگٹن اور پریٹوریا کے تعلقات کئی دہائیوں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کا مقدمہ ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی افریقہ کے چین اور روس سے قریبی تعلقات اور صدر ٹرمپ کے وہ بیانات بھی کشیدگی کا باعث بنے جن میں انہوں نے جھوٹے دعوے کیے کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام آبادی کے خلاف ’’نسل کشی‘‘ ہو رہی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس دعوے کے تحت کئی سفید فام جنوبی افریقیوں کو پناہ دی، جبکہ دوسری جانب تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا۔ اس کے علاوہ اگست میں امریکہ نے جنوبی افریقہ پر 30 فیصد تک اضافی محصولات عائد کر دیے، جس کی ایک وجہ اسرائیل کے خلاف مقدمہ بھی بتائی گئی۔

یہ محصولات افریقی ترقی و مواقع ایکٹ (AGOA) کے تحت امریکی منڈیوں میں جنوبی افریقی برآمدات کو حاصل ترجیحی حیثیت ختم کر سکتی ہیں۔ اس اقدام سے تقریباً 30,000 نوکریاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ لختنسٹائن کی جیو پولیٹیکل انٹیلیجنس سروسز (GIS) کے مطابق جنوبی افریقہ کی 9 فیصد برآمدات — جن میں قیمتی دھاتیں، گاڑیاں اور پھل شامل ہیں — امریکہ کو جاتی ہیں۔

تاہم پانڈور نے کہا کہ جنوبی افریقہ کی اپنی نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد نے اسے یہ اخلاقی ذمہ داری دی ہے کہ وہ غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائے، چاہے اس سے کسی کو ناگوار گزرے۔

ان کے بقول، جب جنوبی افریقہ خود نسلی امتیاز کے خلاف لڑ رہا تھا، تو دنیا بھر کے ممالک اور سول سوسائٹی نے اس کی مدد کی۔ لہٰذا بین الاقوامی یکجہتی کے یہ رشتے جنوبی افریقہ کے لیے اصولی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کی نسلی امتیاز پر مبنی ریاست کے ہاتھوں سنگین جرائمِ انسانیت اور جنگی جرائم ہو رہے تھے، اور فلسطینیوں خصوصاً غزہ کے عوام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خطرہ لاحق تھا، اس لیے خاموش رہنا ممکن نہیں تھا۔

جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کا خاتمہ 1990 میں نیلسن منڈیلا کی رہائی سے شروع ہوا اور 1994 میں پہلا آزادانہ انتخاب ہونے پر مکمل ہوا۔ منڈیلا اور فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے قریبی تعلقات معروف ہیں، اور منڈیلا کی آزادی کے بعد عرفات نے خود ان کا خیرمقدم کیا۔

دسمبر 1997 میں جنوبی افریقہ میں غیر ملکی مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے منڈیلا نے وہ تاریخی جملہ کہا جو آج تک حکومتی پالیسی کا محور سمجھا جاتا ہے: ہم جانتے ہیں کہ ہماری آزادی اُس وقت تک نامکمل ہے جب تک فلسطینی عوام آزاد نہیں ہوتے۔

تقریباً دو سال بعد، جنوبی افریقہ کا اولین مقصد — غزہ میں قتل و غارت کا خاتمہ — بالآخر حاصل ہو گیا، اگرچہ اس میں بے شمار جانوں کی قربانی دینا پڑی۔

اب، پانڈور کے مطابق، اصل ہدف فلسطینی عوام کے بنیادی مطالبات کی تکمیل ہے: خود ارادیت، خودمختاری، اور انصاف۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کاغذی امن سے کہیں زیادہ کے منتظر ہیں۔ دنیا نے اپنی اخلاقی ساکھ کھو دی ہے، جسے بحال کرنا ناگزیر ہے۔ اور مجھے فخر ہے کہ میرے ملک نے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے احترام میں جرات کے ساتھ یہ قدم اٹھایا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین