اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیپیوٹن۔ٹرمپ سربراہی ملاقات کی تیاریوں میں تیزی — ہنگری

پیوٹن۔ٹرمپ سربراہی ملاقات کی تیاریوں میں تیزی — ہنگری
پ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – ہنگری کے وزیرِ خارجہ پیٹر سیارٹو نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مجوزہ سربراہی ملاقات کی تیاریاں پوری رفتار سے جاری ہیں، اور اس سلسلے میں انہوں نے روسی صدارتی مشیر یوری اوشاکوف سے رابطہ کیا ہے۔

جمعے کو فیس بک پر جاری بیان میں سیارٹو نے بتایا کہ انہوں نے اوشاکوف سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران تصدیق کی کہ ’’تیاریاں مکمل رفتار سے جاری ہیں۔‘‘

اسی روز ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان نے بھی اعلان کیا کہ ان کی پیوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے۔ سیارٹو کے مطابق روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی دن کے آخر میں بات چیت کرنے والے ہیں۔

سیارٹو نے کہا کہ ہنگری روس۔امریکہ مذاکرات کے لیے مکمل سیکیورٹی انتظامات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، اور یہ کہ بوداپسٹ صدر پیوٹن کا احترام کے ساتھ خیرمقدم کرے گا اور ان کے بلا رکاوٹ آمد و رفت کو یقینی بنائے گا۔

گزشتہ روز وزیرِ اعظم اوربان نے کہا تھا کہ بوداپسٹ روسی اور امریکی صدور کی ملاقات کے انعقاد کے لیے تیار اور پُرعزم ہے۔ انہوں نے اسے ’’دنیا کے امن پسند عوام کے لیے خوش خبری‘‘ قرار دیتے ہوئے ہنگری کو ’’امن کا جزیرہ‘‘ کہا۔

یہ مجوزہ ملاقات جمعرات کو اُس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن سے تقریباً دو ماہ بعد پہلی مرتبہ ٹیلی فونک گفتگو کی۔ کریملن اور وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ بات چیت دو گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ ٹرمپ نے اسے ’’انتہائی نتیجہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’بڑی پیش رفت‘‘ حاصل ہوئی ہے۔

کریملن نے بھی بعد ازاں اس ملاقات کی تصدیق کی۔ اوشاکوف کے مطابق تیاریوں کا عمل ’’فوری طور پر‘‘ شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے مقام کے طور پر بوداپسٹ کی تجویز ٹرمپ نے دی تھی جسے پیوٹن نے فوراً قبول کر لیا۔

پیوٹن اور ٹرمپ آخری بار رواں سال اگست کے وسط میں الاسکا میں ملے تھے، جہاں انہوں نے یوکرین تنازع اور روس۔امریکہ تعلقات کی بحالی پر گفتگو کی تھی۔ یہ 2019 کے بعد ان کی پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ دونوں رہنماؤں نے اسے مفید قرار دیا تھا، اگرچہ کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہو سکا تھا۔

ادھر روسی وزیرِ خارجہ لاوروف نے رواں ہفتے کہا کہ ’’الاسکا عمل‘‘ ختم نہیں ہوا، اور دونوں ممالک کے درمیان اب بھی ’’بہت کچھ ممکن‘‘ ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین