واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اسرائیلی حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں، تو وہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں کی دوبارہ حمایت کریں گے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ اگر حماس غزہ میں لوگوں کو قتل کرتی رہی، جو کہ معاہدے کا حصہ نہیں تھا، تو ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ ہم جا کر انہیں قتل کریں۔
بعد ازاں ٹرمپ نے وضاحت کی کہ امریکی افواج غزہ میں داخل نہیں ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہم نہیں ہوں گے۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔
ٹرمپ کے مطابق، وہ لوگ جو بہت قریب ہیں، وہ جائیں گے اور یہ کام بہت آسانی سے کر دیں گے، لیکن ہماری سرپرستی میں۔
ان کے اس بیان کو عام طور پر اسرائیلی فورسز کے لیے اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی ہے جب صرف تین روز قبل مصر میں ایک غزہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔
ٹرمپ کا یہ موقف ان کے پہلے مؤقف سے واضح انحراف ہے، جب انہوں نے ہفتے کے آغاز میں حماس کی اسرائیلی حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں کی تائید کی تھی۔
انہوں نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ انہوں نے چند ایسے گروہ ختم کیے جو بہت برے تھے، انتہائی برے گروہ۔ اور انہوں نے انہیں ختم کیا، کئی مسلح افراد کو ہلاک کیا۔ اور صاف کہوں تو مجھے اس سے کوئی خاص مسئلہ نہیں، یہ ٹھیک ہے۔
منگل کو غزہ کی سیکیورٹی فورسز سے وابستہ “ڈیٹرنٹ فورس” نے ایک مختصر بیان میں کہا تھا کہ اس کے اہلکاروں نے مسلح ملیشیاؤں کے گڑھوں پر قبضہ کیا، مختلف محلوں میں دہشت گردوں کو ختم کیا، اور ان عناصر کے خلاف کارروائیاں کیں جو بے گھر افراد پر فائرنگ اور قتل میں ملوث تھے۔
جون میں اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے اعتراف کیا تھا کہ صہیونی حکومت نے “داعش سے وابستہ ملیشیاؤں” کو مسلح اور مدد فراہم کی تاکہ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اسی روز جمعرات کو ٹرمپ نے مزید کہا کہ بالآخر حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ غیر مسلح ہوں گے، اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم انہیں غیر مسلح کریں گے، اور یہ جلدی اور ممکنہ طور پر طاقت کے ذریعے ہوگا.
حماس کی یہ "صفائی مہم” اس وقت سامنے آیا جب غزہ میں ایک نازک جنگ بندی، جو امریکا کی ثالثی سے عمل میں آئی، نافذ ہے۔
یہ جنگ بندی ایسے وقت میں ہوئی جب اکتوبر 2023 سے اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیل مسلسل معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اور روزانہ فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہا ہے، اس بہانے کے تحت کہ وہ ان علاقوں کے قریب ہیں جو اسرائیلی فوج کے زیرِکنٹرول ہیں — حالانکہ ان کی سرحدیں واضح طور پر متعین نہیں کی گئیں۔

