مانٹرئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)عالمی اور مقامی دونوں منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو جغرافیائی تناؤ اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
جمعرات کے روز عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت پہلی بار 4,300 ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو اس ہفتے کے دوران 7.6 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یہ اضافہ امریکا اور چین کے درمیان دوبارہ بڑھتی تجارتی کشیدگی اور امریکی شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث ہوا۔
جمعے کو بھی سونے کی قیمت میں مزید 141 ڈالر فی اونس کا اضافہ ہوا، جس سے نئی بلند ترین سطح 4,358 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی۔
اس کے اثرات پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں بھی واضح طور پر دیکھے گئے۔
پاکستان میں 24 قیراط سونا فی تولہ 14,100 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 56 ہزار 900 روپے کا ہو گیا، جبکہ 10 گرام سونا 12,089 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 91 ہزار 718 روپے پر پہنچ گیا — دونوں ہی ملکی تاریخ کی بلند ترین قیمتیں ہیں۔
اسی طرح چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، جہاں فی تولہ چاندی 167 روپے بڑھ کر 5,504 روپے اور 10 گرام چاندی 143 روپے اضافے سے 4,718 روپے ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق چین، برازیل، بھارت، سعودی عرب اور دبئی کے مرکزی بینکوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی طلب، اور امریکا، روس اور جرمنی میں سونے کے سکوں کی خریداری نے سونے کی حیثیت کو ایک محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven Asset) کے طور پر مزید مستحکم کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کی پیشگوئی ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2026 تک سونا 5,000 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتا ہے، جس سے عالمی اور مقامی دونوں مارکیٹوں پر دباؤ برقرار رہے گا۔

