نئی دہلی(مشرق نامہ): کیا بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کردی ہے کہ وزیرِاعظم نریندر مودی نے ان سے بدھ کے روز فون پر بات کرکے روسی تیل کی خریداری بند کرنے کا وعدہ کیا؟
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، چند گھنٹے بعد جب ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مودی نے ان سے فون پر گفتگو میں روسی تیل کی خریداری روکنے کی یقین دہانی کرائی ہے، تو بھارت کی وزارتِ خارجہ نے وضاحت کی کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان “گزشتہ روز کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔”
وزارتِ خارجہ نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ بھارت کی درآمدی پالیسی مکمل طور پر ملکی صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے وضع کی جاتی ہے، خصوصاً توانائی کے غیر مستحکم عالمی حالات میں۔
ترجمان وزارتِ خارجہ نے کہا:
“بھارت تیل اور گیس کا ایک بڑا درآمد کنندہ ملک ہے۔ توانائی کے غیر یقینی حالات میں ہمارا مستقل مقصد بھارتی صارف کے مفاد کا تحفظ رہا ہے۔ ہماری درآمدی پالیسیاں اسی ہدف کے تحت بنائی جاتی ہیں۔”
ترجمان نے مزید کہا:
“توانائی کے استحکام اور محفوظ سپلائی کو یقینی بنانا ہماری توانائی پالیسی کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔ اس میں توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا اور مارکیٹ کے حالات کے مطابق ان کا دائرہ وسیع کرنا شامل ہے۔”
انہوں نے دوہزار بائیس میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے بھارت کے اسی مؤقف کو دہرایا۔
امریکہ کے حوالے سے ترجمان نے کہا:
“ہم کئی برسوں سے توانائی کے حصول کے میدان میں تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور گزشتہ دہائی میں اس میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ موجودہ امریکی انتظامیہ نے بھی بھارت کے ساتھ توانائی کے شعبے میں گہرے تعاون میں دلچسپی ظاہر کی ہے، اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔”
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں کہا:
“یہ ایک جنگ ہے جو کبھی شروع نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن یہ وہ جنگ ہے جو روس کو پہلے ہفتے میں جیتنی چاہیے تھی، اور اب یہ چوتھے سال میں داخل ہو رہی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ ختم ہو۔”
انہوں نے مزید کہا:
“میں اس بات سے خوش نہیں تھا کہ بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے، لیکن آج مودی نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ اب روس سے تیل نہیں خریدیں گے۔ ظاہر ہے یہ فوراً نہیں ہو سکتا، مگر یہ عمل جلد مکمل ہو جائے گا۔”
ٹرمپ نے اسے “ایک بڑا قدم” قرار دیتے ہوئے کہا:
“اب ہم چین سے بھی یہی کروائیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ چین پر دباؤ ڈالنا “مشکل نہیں ہوگا، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ ہفتے جو کچھ ہم نے کیا اس کے بعد۔”
امریکی صدر کا اشارہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور اسرائیلی و فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے اس امن منصوبے کی جانب تھا جس کی انہوں نے ثالثی کی، جیسا کہ انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا:
“اگر بھارت تیل نہیں خریدتا تو روس-یوکرین جنگ کو ختم کرنا آسان ہو جائے گا۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ جلد ہی وہ روس سے تیل نہیں خریدیں گے، اور جنگ ختم ہونے کے بعد ہی دوبارہ روس سے خریداری کریں گے۔”
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے وزیرِاعظم مودی کے ساتھ بھارت کی روسی تیل کی درآمدات پر امریکی تشویش کا اظہار کیا، کیونکہ واشنگٹن کا خیال ہے کہ یہ بالواسطہ طور پر صدر ولادیمیر پیوٹن کی جنگ کو مالی مدد فراہم کرتا ہے۔
“میں اس سے خوش نہیں تھا کہ بھارت تیل خرید رہا ہے،” انہوں نے کہا۔
ٹرمپ نے مودی کے بارے میں مثبت انداز میں بات کرتے ہوئے کہا:
“مودی ایک عظیم شخص ہیں۔ وہ ٹرمپ سے محبت کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “میں کئی سالوں سے بھارت کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ ایک ناقابلِ یقین ملک ہے، جہاں ہر سال نیا رہنما آتا تھا، مگر میرا دوست (مودی) طویل عرصے سے وہیں ہے۔”
انڈین ایکسپریس کے مطابق، ٹرمپ کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب بھارت کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں، اور تقریباً دو ماہ قبل امریکہ نے روسی تیل کی درآمدات کے معاملے پر بھارت پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا تھا۔

