اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی پر انڈونیشیا، آذربائیجان اور پاکستان...

غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی پر انڈونیشیا، آذربائیجان اور پاکستان سے مذاکرات
غ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – امریکہ کی جانب سے غزہ میں فوجی تعیناتی کے امکان کو رد کرنے کے بعد، انڈونیشیا، آذربائیجان اور پاکستان ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے تحت غزہ میں ایک "استحکام فورس” میں شمولیت کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

امریکی جریدے پولیٹیکو کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار اور ایک سابق اہلکار نے بتایا کہ تینوں ممالک اس فورس میں شامل ہونے کے لیے نمایاں امیدوار ہیں۔ دونوں ذرائع نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر گمنامی برقرار رکھنے کی درخواست کی۔

رپورٹ کے مطابق، ابھی کسی ملک نے حتمی وعدہ نہیں کیا، تاہم ان تینوں نے اس فورس کے ڈھانچے اور ممکنہ ٹائم لائن کے حوالے سے گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔

ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے تحت، امریکہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ عرب اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک عارضی بین الاقوامی فورس تعینات کرے گا۔ اس فورس کا مقصد تربیت یافتہ فلسطینی پولیس یونٹوں کی معاونت اور تربیت فراہم کرنا ہے، جبکہ مصر اور اردن سے مسلسل مشاورت جاری رکھی جائے گی۔

منصوبے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ امریکی افواج کو غزہ کے اندر تعینات نہیں کیا جائے گا۔ تاہم پولیٹیکو کے مطابق تقریباً 200 امریکی فوجی پہلے ہی مقبوضہ فلسطین کے شمالی حصے میں واقع سول-ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر میں موجود ہیں۔ یہ فورس امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ماتحت مبینہ طور پر جنگ بندی کی کوششوں اور استحکام کے اقدامات کے لیے کام کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ مصر، قطر اور متحدہ عرب امارات کے فوجی بھی اسی مرکز سے کارروائیاں انجام دیں گے۔

مصر کی افواج اس وقت غزہ میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں برآمد کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔

اسلحہ بندی ختم کرنے کا مرحلہ

بیس اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور حالیہ جنگ بندی کے بعد، امریکہ کی توجہ اب حماس کے غیر مسلح کیے جانے پر مرکوز ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حماس اپنے ہتھیار ڈال دے گی۔ ان کے بقول، میں نے حماس سے بات کی اور کہا، تم غیر مسلح ہو جاؤ گے نا؟ انہوں نے کہا، جی سر، ہم غیر مسلح ہو جائیں گے۔ اگر وہ نہیں کریں گے تو ہم کریں گے۔

سابق امریکی عہدیدار ڈین شیپیرو کے مطابق، اس فورس کی تشکیل کا عمل فیصلہ ہونے کے دو سے تین ماہ بعد ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ فورس کے ڈھانچے اور مینڈیٹ کو عوامی طور پر واضح کرنا ٹرمپ کے منصوبے کی ساکھ بڑھانے میں مدد دے گا۔

شیپیرو کے مطابق، یہ ضروری ہے کہ ان ممالک کی نشاندہی کی جائے، انہیں آگے بڑھایا جائے، مینڈیٹ اور ساخت طے کی جائے اور عملی تیاریوں کا مظاہرہ کیا جائے۔

تاہم ایک سابق دفاعی اہلکار نے توجہ دلائی کہ انڈونیشیا اور آذربائیجان سینٹ کام کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں، جس سے ہم آہنگی کے معاملات پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ انتظامیہ نے تاحال وزارتِ خارجہ یا دیگر اداروں کی جانب سے اس فورس کے نفاذ کے لیے کوئی باضابطہ تکنیکی یا سفارتی ٹیم تشکیل نہیں دی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین