ماسکو (مشرق نامہ) – روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے واضح کیا ہے کہ ماسکو کسی بھی ایسے اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا جو کسی دوسرے ملک کو نشانہ بنائے، خاص طور پر چین کو۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا روس اور امریکہ چین پر جوہری تخفیفِ اسلحہ کے مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالنے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔
ستمبر کے آخر میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تجویز دی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود آخری جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کے معاہدے نیو اسٹارٹ کو مزید ایک سال کے لیے بڑھا دیا جائے، جو 5 فروری 2026 کو ختم ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے اس تجویز کو "ایک اچھا خیال” قرار دیا تھا، تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس سے قبل ٹرمپ کئی بار یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ چین کو بھی امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والے تخفیفِ اسلحہ کے مذاکرات میں شامل کیا جائے۔
بدھ کے روز روسی اخبار کومرسانت کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لاوروف سے جب پوچھا گیا کہ کیا ماسکو، واشنگٹن کے ساتھ مل کر چین پر مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالنے پر غور کر سکتا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ روس کسی کے خلاف کسی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گا، خاص طور پر چین کے خلاف — یہ ناقابلِ تصور ہے۔
لاوروف نے کہا کہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان ایسے دوطرفہ معاہدے موجود ہیں جو دونوں ممالک کے تعلقات کو واضح طور پر متعین کرتے ہیں، جن کا مقصد ایک دوسرے کی مدد، اقتصادی و دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ موقف کو مستحکم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی کئی برسوں سے چین کو جوہری تخفیفِ اسلحہ کے مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چین کا اس پر اپنا مؤقف ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ چین کہتا ہے کہ وہ ابھی اس مرحلے پر نہیں پہنچا جہاں اس کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کا توازن قائم ہو، اور وہ ابھی برابری سے کافی دور ہے۔ ہم اس موقف کا احترام کرتے ہیں۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق روس کے پاس دنیا کا سب سے بڑا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے جس میں 5,459 وار ہیڈز شامل ہیں، جبکہ امریکہ کے پاس 5,177 اور چین کے پاس تقریباً 600 جوہری وار ہیڈز ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو دیگر ممالک کے مقابلے میں تیزی سے بڑھا رہا ہے۔
گزشتہ ماہ بیجنگ نے پیوٹن کی جانب سے نیو اسٹارٹ معاہدے کی مدت بڑھانے کی تجویز کا خیر مقدم کیا تھا۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے کہا تھا کہ دنیا کے سب سے بڑے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک، یعنی امریکہ اور روس، کو جوہری تخفیف کے حوالے سے اپنی خصوصی اور بنیادی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کرنا چاہیے۔

