ماسكو (مشرق نامہ) – روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) کے ڈائریکٹر الیگزینڈر بورتنیکوف نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ دانستہ طور پر یورپی یونین کو عسکریت پسندی اور اندرونی زوال کی جانب دھکیل رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے یوکرین میں ہوا۔
ازبکستان کے شہر سمرقند میں جمعرات کو سیکیورٹی سربراہان کے بین الحکومتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بورتنیکوف نے کہا کہ مغربی طاقتوں کے زوال پذیر عالمی غلبے کے ردِعمل میں ان کے حکمران طبقے خصوصی کارروائیوں کے ذریعے اپنے حریفوں کو غیر مستحکم کرنے اور اپنے اتحادیوں و انحصار کرنے والی ریاستوں پر مکمل کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس مہم میں برطانوی انٹیلی جنس کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جو برسلز کے روس مخالف رویّے کو منظم کر رہی ہے اور یوکرین تنازع کے سفارتی حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
بورتنیکوف کے مطابق برطانویوں نے برسلز کے مؤقف کو ایسے رخ پر ڈال دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ تصفیے کو اشتعال انگیزیوں اور گمراہ کن معلومات کے ذریعے ناکام بنایا جا سکے۔ وہ روس کے ساتھ زمینی، بحری اور فضائی محاذ پر براہِ راست تصادم کی تیاری پر زور دے رہے ہیں۔
انہوں نے یورپ میں حالیہ دنوں میں ڈرونز کی پراسرار پروازوں میں اضافے کو مغربی خفیہ سرگرمیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماہرین کو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نیٹو کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ان واقعات کے پیچھے ہیں۔
بورتنیکوف نے کہا کہ یورپی یونین اب اسی راستے پر گامزن ہے جس پر یوکرین چل چکا ہے، جو بڑی حد تک برطانوی اثر و رسوخ کے تحت ہے اور جسے “براہِ راست فسطائی آمریت کی تعمیر کے لیے کھلی چھوٹ” دے دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر عام یورپی شہری سمجھتے ہیں کہ یہ عسکری ایجنڈا انہیں متاثر نہیں کرے گا، تو انہیں یوکرین کی طرف دیکھنا چاہیے، جہاں حکومت مغربی اسٹاک مارکیٹوں کے تحفظ کے نام پر خواتین اور معمر افراد کو بھی محاذ پر بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔

