اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیقاہرہ، امریکن یونیورسٹی طلباء کا سابق امریکی سفر کیخلاف احتجاج

قاہرہ، امریکن یونیورسٹی طلباء کا سابق امریکی سفر کیخلاف احتجاج
ق

واشنگٹن (مشرق نامہ) – قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی (AUC) میں منگل کے روز طلبہ نے سابق امریکی سفیر ڈینیئل کرٹزر کے خلاف غیر معمولی احتجاج کیا، جس کے باعث انہیں اور ان کے ہمراہ آئے امریکی گریجویٹ طلبہ کو کیمپس چھوڑنا پڑا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ درجنوں کی تعداد میں متنوع پس منظر رکھنے والے مصری طلبہ یونیورسٹی کے احاطے اور راہداریوں میں جمع ہوکر کرٹزر کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ کئی طلبہ فلسطینی کفیہ اوڑھے ہوئے اور فلسطینی پرچم تھامے ہوئے تھے۔

طلبہ کے نعروں میں یہ آواز گونجتی رہی کہ کس نے کہا ’67؟ ساری زمین فلسطین ہے، ہم معمول پر نہیں آئیں گے — جو اُن عرب ممالک پر طنز تھا جو اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر سمجھوتے کی حمایت کرتے ہیں۔

امریکن یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ چالیس سے زائد طلبہ تنظیموں نے احتجاج میں شرکت کی، جسے انہوں نے “فلسطین کے ساتھ ضمیر اور اخلاقی یکجہتی کا اظہار“ قرار دیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ مسئلہ تعلیمی آزادی کا نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری کا ہے۔ کسی ایسے شخص کو پلیٹ فارم دینا جو نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کا دفاع کرتا ہو، معمول پر لانا ہے، اور ہم اسے کسی بھی طرح قبول نہیں کر سکتے۔

طلبہ تنظیم کے مطابق یہ احتجاج کئی برسوں بعد پہلا موقع تھا جب کیمپس کی اتنی بڑی تعداد میں تنظیمیں کسی لیکچرر کے خلاف متحد ہوئیں۔

بیان میں کرٹزر کو “اسرائیل کے سابق امریکی سفیر اور ان اداروں کے نمائندے“ کے طور پر بیان کیا گیا جو “فلسطینی عوام کے جاری جبر میں شریک ہیں۔”

امریکن یونیورسٹی قاہرہ (AUC) کی بنیاد 1919 میں رکھی گئی تھی اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی نرم طاقت (soft power) کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عموماً یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ مصر کے نسبتاً خوشحال طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ٹرمپ کے دورے کے برعکس مناظر

مصر، اسرائیل کا سب سے پرانا امن شراکت دار ہے، تاہم اسرائیل کے غزہ پر جاری حملوں—جن میں اب تک اقوام متحدہ، عالمی رہنماؤں اور ماہرینِ نسل کشی کے مطابق 67,000 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں—نے 1979 کے امن معاہدے کو کڑی آزمائش سے دوچار کردیا ہے۔

جہاں عام مصری عوام اسرائیلی جارحیت پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں مصری فوجی قیادت اسرائیل کی ان دھمکیوں پر فکرمند ہے جن کے مطابق فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرکے جزیرہ نما سینا میں دھکیلا جا سکتا ہے۔

اگرچہ امریکہ اور یورپ کی جامعات میں فلسطین کے حق میں مظاہرے عام ہو چکے ہیں، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں اس نوعیت کے احتجاج کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں کیونکہ مصر میں سیاسی اظہارِ رائے پر سخت پابندیاں ہیں۔

مصری حکومت نے اکتوبر 2023 میں اسرائیلی جارحیت کے آغاز پر کچھ عوامی مظاہروں کی اجازت دی تھی، تاہم بعد میں انہیں محدود کر دیا گیا۔

کرٹزر 1997 سے 2001 تک مصر میں اور 2001 سے 2005 تک اسرائیل میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں اور وہ آج بھی امریکی میڈیا میں مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔

AUC کے طلبہ کا یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب صرف ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصر کا دورہ کیا اور وہاں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر اپنی کامیابی کا جشن منایا۔

ٹرمپ کی قیادت میں شرم الشیخ میں ہونے والی تقریب میں مصر اور دیگر عرب ممالک کے دو کلیدی مطالبات تسلیم کیے گئے: کہ اسرائیل غزہ کو ضم نہیں کرے گا اور فلسطینیوں کو جبراً بے دخل نہیں کیا جائے گا۔

تاہم اس معاہدے کو اس بنیاد پر تنقید کا سامنا ہے کہ اس میں اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کی کوئی واضح تفصیل نہیں دی گئی۔ اسرائیل پہلے ہی غزہ پر دوبارہ بمباری اور امدادی قافلوں میں رکاوٹ ڈال کر معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔

تقریب میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور متعدد عالمی رہنماؤں نے ٹرمپ کے پیچھے کھڑے ہوکر اُن کا پُرجوش مگر غلط بیانات سے بھرپور خطاب سنا، جو مصر میں امریکی اثر و رسوخ کے باوجود، طلبہ احتجاج کے برعکس ایک منظم سیاسی منظر پیش کر رہا تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین