اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیہر سال انتہائی گرم دنوں کی تعداس میں اضافہ ہوگا، ریسرچ

ہر سال انتہائی گرم دنوں کی تعداس میں اضافہ ہوگا، ریسرچ
ہ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – دنیا کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رواں صدی کے اختتام تک زمین پر ہر سال اوسطاً 57 اضافی “انتہائی گرم دن” شامل ہو جائیں گے۔

یہ تحقیق امریکی ادارے کلائمٹ سینٹرل اور ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن نے مشترکہ طور پر کی ہے، جس میں ایسے دنوں کو “انتہائی گرم” قرار دیا گیا ہے جو 1991 سے 2020 کے درمیان اسی تاریخ کے 90 فیصد دنوں سے زیادہ گرم ہوں۔

رپورٹ جمعرات کو جاری کی گئی۔ اگرچہ یہ ابھی تک تحقیقی جریدے میں شائع نہیں ہوئی، تاہم اس میں موسمیاتی انتساب (climate attribution) کے لیے تسلیم شدہ سائنسی طریقے استعمال کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں پیرس موسمیاتی معاہدے کے اثرات کو نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔

پیرس معاہدے سے قبل دنیا کا خطرناک راستہ

رپورٹ کے مطابق 2015 کے پیرس معاہدے سے قبل دنیا اس صدی کے اختتام تک اوسطاً 4 ڈگری سیلسیس (7.2 فارن ہائیٹ) زیادہ گرم ہونے کے راستے پر تھی، جس سے سالانہ 114 اضافی انتہائی گرم دن پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔

تاہم اگر موجودہ وعدوں پر عمل جاری رہا تو عالمی درجہ حرارت میں 2.6 ڈگری سیلسیس (4.7 فارن ہائیٹ) کا اضافہ متوقع ہے۔ اس صورت میں زمین پر ہر سال اوسطاً 57 مزید انتہائی گرم دن آئیں گے، یعنی تقریباً دو مہینے ایسے دن جب درجہ حرارت خطرناک حدوں کو چھوئے گا۔ یہ بدترین ممکنہ منظرنامے کے مقابلے میں نصف اضافہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2015 کے بعد سے دنیا میں اوسطاً 11 مزید انتہائی گرم دن شامل ہو چکے ہیں۔

ماہرین کا انتباہ

پوٹسڈیم کلائمٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جوہان راک سٹروم، جو تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے خبردار کیا کہ یہ سوچنا غلط ہوگا کہ دنیا اب محفوظ راستے پر ہے۔ ان کے مطابق پیرس معاہدے سے پہلے کے مقابلے میں بہتری ضرور آئی ہے، لیکن 2.6 ڈگری گرم دنیا بھی اربوں انسانوں کے لیے تباہ کن مستقبل کا اشارہ ہے۔

تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس درجہ حرارت میں اضافے سے کتنے افراد براہِ راست متاثر ہوں گے، تاہم شریک مصنفہ فریڈرِکے اوٹو (امپیریل کالج لندن) نے کہا کہ یقینی طور پر یہ تعداد دسیوں ہزار نہیں بلکہ لاکھوں میں ہوگی، کیونکہ ہر سال ہیٹ ویوز سے ہزاروں افراد پہلے ہی موت کا شکار ہو رہے ہیں۔

درجہ حرارت میں اضافے کا غیر منصفانہ بوجھ

رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں موجود عالمی عدم مساوات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق جن ممالک کو سب سے زیادہ خطرناک گرم دنوں میں اضافہ برداشت کرنا پڑے گا، وہ عموماً چھوٹے جزیرہ نما یا سمندری معیشتوں پر انحصار کرنے والے ممالک ہیں — جیسے پانامہ، سلیمان جزائر اور ساموا۔

ان دس ممالک میں پانامہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا، جہاں ہر سال 149 اضافی انتہائی گرم دن آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ حیران کن طور پر یہ دس ممالک مجموعی عالمی کاربن اخراج کا صرف 1 فیصد پیدا کرتے ہیں۔

اس کے برعکس دنیا کے سب سے بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک — امریکہ، چین اور بھارت — کو صرف 23 سے 30 اضافی انتہائی گرم دنوں کا سامنا کرنا پڑے گا، حالانکہ وہ دنیا کے 42 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔

ماہرین کا انتباہ: “نئے تنازعات کا خدشہ”

یونیورسٹی آف وکٹوریہ کے موسمیاتی سائنسدان اینڈریو ویور، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، نے کہا کہ درجہ حرارت کی یہ عدم مساوات عالمی ناہمواریوں کو مزید گہرا کرے گی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ترقی یافتہ اور پسماندہ اقوام کے درمیان ایک نئی خلیج پیدا کرے گی، جو آئندہ جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام کے بیج بو سکتی ہے۔

یہ مطالعہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ اگرچہ پیرس معاہدے کے بعد عالمی درجہ حرارت کے بدترین امکانات میں کمی آئی ہے، مگر زمین اب بھی ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں شدید گرمی، قحط، بیماریوں اور عدم مساوات کا پھیلاؤ معمول بن سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین