واشنگٹن (مشرق نامہ) – ایک تازہ تجزیے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ کی دوا سازی کی صنعت چین پر گہرے انحصار میں مبتلا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں استعمال ہونے والی تقریباً 700 ادویات میں کم از کم ایک کیمیائی جز ایسا ہے جو صرف چین سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ انکشاف واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی دوا سپلائی چین کی کمزوریوں کے حوالے سے خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے۔
بدھ کے روز امریکی غیر منافع بخش ادارے یو ایس فارماکوپیا کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ میں دوا سازی میں استعمال ہونے والے اہم کیمیکلز کے ماخذات کی نشاندہی کی گئی۔ تحقیق کے مطابق چین کئی اہم ادویات کے اجزاء کا واحد سپلائر ہے، جن میں اینٹی بایوٹک ایموکسی سلین، دل کی بیماری، کینسر، مرگی اور ایچ آئی وی کے علاج میں استعمال ہونے والی دوائیں شامل ہیں۔
اسی فہرست میں ڈائفی نہائیڈر امین (Diphenhydramine) بھی شامل ہے، جو عام طور پر برانڈ نام Benadryl کے تحت جانی جاتی ہے۔
ماہرین کا انتباہ: ممکنہ وبا یا تجارتی جنگ میں بحران
رپورٹ کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چین پر یہ حد سے زیادہ انحصار امریکہ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ اگر مستقبل میں کوئی عالمی وبا، تجارتی تنازع یا چین کی جانب سے خام مواد کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی تو امریکہ میں دواؤں کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں دوا سازی کے بنیادی خام کیمیکلز تیار کرنا مہنگا اور غیر منافع بخش ہے کیونکہ وہاں محنت کی لاگت زیادہ، ماحولیاتی ضوابط سخت، اور منافع کے امکانات کم ہیں۔ اس کے برعکس چین میں فیکٹریوں پر ماحولیاتی پابندیاں نرم ہیں، جس سے وہ یہ مواد کم لاگت پر تیار کر لیتے ہیں۔
ٹرمپ کی چین پر 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمد پر عائد پابندیوں کے جواب میں تمام چینی درآمدات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کریں گے، جس میں دوا سازی کے اجزاء بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ اقدام نافذ ہوا تو امریکی فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے ضروری خام مواد کی فراہمی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے یورپی یونین اور دیگر خطوں سے درآمد ہونے والی برانڈڈ ادویات پر بھی 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی، تاہم ان منصوبوں پر فی الحال عمل درآمد مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ایک انتظامی اہلکار کے مطابق جنیرک ادویات کو کسی بھی مستقبل کے ٹیرف سے استثنا حاصل ہوگا۔
امریکی صنعت کے اقدامات اور چین کا ردِعمل
موجودہ تجارتی کشیدگی کے پیشِ نظر کئی بڑی دواساز کمپنیوں نے امریکہ میں نئی فیکٹریاں قائم کرنے یا موجودہ پیداواری یونٹس کو وسعت دینے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ فیکٹریاں زیادہ تر ادویات کی آخری تیاری کے مراحل پر توجہ دیں گی، نہ کہ ان بنیادی کیمیائی اجزاء کی تیاری پر جن پر اصل انحصار چین پر ہے۔
دوسری جانب چین کی وزارتِ تجارت نے ٹرمپ کے 100 فیصد ٹیرف کے اعلان پر واشنگٹن پر “دوہرے معیار” اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ وزارت کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکی بیان دوغلے پن کی واضح مثال ہے۔ امریکہ کے حالیہ اقدامات نے چین کے مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی مذاکرات کے ماحول کو سخت متاثر کیا ہے۔
یہ رپورٹ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی رسہ کشی کے اس نئے باب کو نمایاں کرتی ہے جس کے اثرات نہ صرف عالمی تجارت بلکہ عالمی صحت کے نظام تک پھیل سکتے ہیں۔

