مانٹرئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ایک حالیہ مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال نوعمر بچوں کی دماغی نشوونما اور ذہانت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، 9 سے 13 سال کی عمر کے وہ بچے جو سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارتے ہیں، پڑھنے، یادداشت اور زبان سے متعلق ٹیسٹوں میں کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
یہ مطالعہ ملک گیر "ایڈولیسنٹ برین کوگنیٹو ڈیولپمنٹ” (ABCD) منصوبے کے تحت کیا گیا، جس میں 9 سے 13 برس کے 6,500 سے زائد بچوں کو شامل کیا گیا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا کا قلیل مدتی استعمال بھی نو عمر بچوں میں پڑھنے اور سیکھنے کی کمزوری سے منسلک ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کم عمری میں بچوں کے دماغ ڈیجیٹل ایکسپوژر کے لیے خاص طور پر حساس ہوتے ہیں، اور اس مرحلے پر ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم علمی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
مطالعے کے مطابق، تقریباً 58 فیصد بچوں نے سوشل میڈیا کا استعمال نہ ہونے کے برابر کیا، 37 فیصد نے 13 سال کی عمر تک روزانہ ایک گھنٹہ استعمال کیا، جبکہ 6 فیصد بچے روزانہ تین گھنٹے تک سوشل میڈیا پر مصروف رہے۔
نتائج سے پتا چلا کہ سوشل میڈیا کا کم استعمال کرنے والے بچوں نے علمی ٹیسٹوں میں 1 سے 2 پوائنٹس کم اسکور کیا، جبکہ زیادہ استعمال کرنے والے بچوں کے نتائج 4 پوائنٹس تک کم رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچے یہی وقت مطالعے یا ہوم ورک میں صرف کریں تو ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ سوشل میڈیا استعمال کرنے اور نہ کرنے والے بچوں کے درمیان فرق بظاہر معمولی ہے، مگر اس کے مجموعی تعلیمی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔
تحقیق میں یہ نتیجہ بھی نکالا گیا ہے کہ کم عمر سے ہی صحت مند اسکرین عادات اپنانا بچوں کی علمی ترقی اور سیکھنے کی صلاحیت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ یہ ایک مشاہداتی مطالعہ ہے، جو اس بات کی تائید کرتا ہے کہ اسکولوں میں اسکرین ٹائم کو محدود کیا جائے اور کم عمر نوعمر بچوں کے لیے سخت رہنما اصول نافذ کیے جائیں۔

