مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے ایک تفصیلی تجزیہ شائع کیا ہے جس میں ترک انٹیلیجنس کے سربراہ ابراہیم کالن کے غزہ میں جاری مذاکرات میں اہم کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اخبار کے مطابق کالن موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا، شاباک کے سابق سربراہ رونن بار اور اسرائیل کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ تساخی ہانگبی سے بخوبی واقف ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کالن نے انقرہ میں سابق اسرائیلی سفیر ایریت لیلیان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی اور انہیں اکثر بڑے اجلاسوں میں مدعو کیا۔
اگرچہ صدر رجب طیب اردوگان اسرائیل کے خلاف سخت عوامی مؤقف رکھتے ہیں، تاہم اخبار کے مطابق، کالن اس صورتحال کو "زیادہ پیچیدگی” کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے صدر کے سیاسی مؤقف کی پیروی کرتے ہوئے بھی غزہ میں موجود اسرائیلی قیدیوں کے لیے "حقیقی ہمدردی” رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کالن اسرائیلی انٹیلیجنس حکام کے ساتھ پس پردہ رابطے میں سرگرم ہیں۔ شرم الشیخ سربراہی اجلاس کے دوران اسرائیل کے لاپتہ اور یرغمال افراد کے مرکز کے سربراہ جنرل الون کے ساتھ ان کے "گرم جوشانہ گلے ملنے” کو دونوں فریقوں کے درمیان جاری پیشہ ورانہ تعلقات کی علامت قرار دیا گیا۔ اخبار کے مطابق، کالن نے کہا کہ ہم غزہ میں معاہدے کے نفاذ میں مدد کے لیے موجود ہوں گے۔
مزید بتایا گیا کہ ترکی غزہ تعمیر نو کے لیے سینکڑوں کارکنان تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
تجزیے کے مطابق، کالن اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی تدریجی بحالی کے خواہاں ہیں، جس میں سفیروں کا تبادلہ، پروازوں کی بحالی، سیاحت میں اضافہ اور تجارت میں وسعت شامل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کالن کے قطر اور غزہ میں حماس قیادت سے براہ راست روابط نے انہیں مذاکرات میں ایک اہم ثالث بنا دیا ہے، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی نے حالیہ دنوں میں حماس پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔
یدیعوت احرونوت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کالن کے وفد نے نتن یاہو کی شرم الشیخ "امن” سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے لابنگ کی، تاکہ وہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط سے انکار کا کوئی بہانہ نہ بنا سکیں۔

