تحریر: لیلا نزریویچ
ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی ’’غزہ امن منصوبے‘‘ کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد اسے امن کی راہ نہیں بلکہ تباہ حال علاقے پر کنٹرول کو باضابطہ بنانے کی ایک کوشش قرار دے رہی ہے۔
امریکی صدر نے اس منصوبے کو اپنی انتخابی مہم کی خارجہ پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے ’’جنگ کے خاتمے اور غزہ کی تعمیر نو‘‘ کا انسان دوست وژن کہا ہے۔ تاہم اس میں شامل نکات — جن میں حماس کی مکمل ہتھیار ڈالنے کی شرط، علاقے پر بین الاقوامی نگرانی، اور ٹرمپ کی سربراہی میں قائم ہونے والے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی تقرری شامل ہے — نے مشرقِ وسطیٰ کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جو سمجھتے ہیں کہ یہ منصوبہ تنازع کی جڑوں کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید گہرا کرتا ہے۔
طاقت پر مبنی منصوبہ، شراکت نہیں
ناقدین کے مطابق اس منصوبے کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ فلسطینی اس میں شامل ہی نہیں۔
یونیورسٹی آف ڈینور کے مرکزِ برائے مشرقِ وسطیٰ کے ڈائریکٹر نادر ہاشمی نے المیادین انگلش سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے مسئلے کو ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے پہلوؤں سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ فوری نوعیت کے معاملات پر توجہ دے رہے ہیں — جیسے یرغمالیوں کی رہائی، جنگ بندی کی مدت، انسانی امداد — مگر طویل المدتی سوالات جیسے ٹونی بلیئر کی غزہ میں انتظامی سربراہی اور حماس کے غیر مسلح کیے جانے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔‘‘
منصوبے کے مطابق جنگ بندی کو سخت شرائط کے ساتھ مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، جس کے بعد عرب اور اسلامی ممالک کی افواج پر مشتمل ایک بین الاقوامی فورس تعینات کی جائے گی۔ حماس کے غیر مسلح ہونے کے بعد ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے نام سے ایک عبوری انتظامیہ غزہ کا نظم و نسق اور تعمیرِ نو کی نگرانی سنبھالے گی۔
ٹرمپ نے اس تجویز کو ’’امن کو موقع دینے والا تاریخی سمجھوتہ‘‘ قرار دیا ہے، جو اسرائیلی سلامتی کو تحفظ فراہم کرے گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ امن کے معمار وہی طاقتیں ہیں جو برسوں سے اسرائیلی محاصرے اور فوجی غلبے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ہاشمی کے مطابق ’’اس منصوبے میں کوئی فلسطینی نمائندگی نہیں، کسی فلسطینی سے مشاورت تک نہیں کی گئی، حتیٰ کہ رام اللہ کے رہنماؤں سے بھی نہیں۔ یہ ایک بہت بڑا خلا ہے، خصوصاً جب ٹرمپ اور کئی ممالک اسے مشرقِ وسطیٰ کے امن منصوبے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔‘‘
کمیٹی فار جسٹس اینڈ لبرٹیز کے سربراہ اور سیاسی تجزیہ کار یاسر لواتی کا کہنا تھا کہ دو برسوں کی تباہی کے بعد ’’امن‘‘ کی بات ہی گمراہ کن ہے۔ ان کے مطابق ’’نسل کشی کے بعد غزہ کے عوام کی فتح کی بات کرنا دشوار ہے۔ تاہم ہر غیر متوازن جنگ میں اگر قابض فریق جیتنے میں ناکام ہو جائے تو وہ شکست کھا لیتا ہے — اور اسرائیل کے تمام اعلان کردہ مقاصد ناکام ہو چکے ہیں۔‘‘
لواتی نے مزید کہا کہ اس لمحے کو امن یا کامیابی قرار دینا حقیقت سے انکار ہے، کیونکہ فلسطینیوں کے پاس اب بھی نہ خوراک ہے، نہ پانی، نہ صحت کی سہولیات۔
فلسطینیوں کو اپنے مستقبل سے محروم رکھنا
بہت سے مبصرین کے مطابق فلسطینیوں کی عدم شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ منصوبہ مفاہمت نہیں بلکہ انتظامی کنٹرول کے بارے میں ہے — ایک ایسا بین الاقوامی نظام جو غزہ کی آبادی کو تابع رکھے۔
مشرقِ وسطیٰ کے سینئر تجزیہ کار اور فاؤنڈیشن فار مڈل ایسٹ پیس کے سابق ڈائریکٹر جیفری ایرونسن بھی اس رائے سے متفق ہیں۔
انہوں نے المیادین انگلش سے گفتگو میں کہا کہ ’’اس منصوبے میں کوئی فلسطینی سرکاری یا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ شراکت دار نہیں ہے۔ پی ایل او اور فلسطینی اتھارٹی کو واضح طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔‘‘
ان کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی دانستہ عدم شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ اوسلوعمل جیسے ماضی کے سفارتی ڈھانچوں کو عملاً بائی پاس کیا جا رہا ہے۔ ایرونسن کے مطابق ٹرمپ کا منصوبہ نہ صرف یہ طے کرتا ہے کہ ’’کون بول سکتا ہے‘‘ بلکہ یہ بھی کہ ’’کون طاقت رکھتا ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم پہلے بھی اس مرحلے سے گزر چکے ہیں۔ اوسلوعمل کے دور میں اسرائیلی انخلا، پی ایل او کی تسلیم شدگی، اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کی بات ہوتی تھی۔ اب بھی یہی بنیادی نکات ہیں، نیا پہیہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
لواتی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے منصوبے کی قبولیت — جو پہلے ناقابلِ تصور تھی — دراصل اس کی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے۔ ’’ان کی فوج تھک چکی ہے، مالی وسائل ختم ہو رہے ہیں، اور یہ معاہدہ اسرائیل کو بچانے کے لیے تھا، جو مزید طویل جنگ جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔‘‘
’نسل کشی کو بطور دباؤ استعمال کرنے والا منصوبہ‘
ہاشمی کے مطابق یہ منصوبہ امن سازی نہیں بلکہ جبر پر مبنی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’منصوبے کی صرف وہی باتیں مثبت ہیں جن میں جنگ بندی اور انسانی امداد کا ذکر ہے — لیکن یہ تو بنیادی انسانی حقوق ہیں، مذاکراتی نکتے نہیں۔ اسی لیے میں اسے نسل کشی کے بدلے میں دباؤ کا منصوبہ کہتا ہوں، کیونکہ ٹرمپ نے خود کہا ہے کہ اگر حماس نے مکمل ہتھیار نہیں ڈالے تو وہ نتن یاہو کو نسل کشی جاری رکھنے اور فلسطینیوں کو بھوکا رکھنے کی اجازت دے گا۔‘‘
لواتی نے اس منصوبے کو ’’سفارت کاری کے بھیس میں وقتی جنگ بندی‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق ’’اسرائیل کبھی جنگ بندی پر عمل نہیں کرے گا — اس نے کبھی کیا بھی نہیں اور کبھی کرے گا بھی نہیں۔ یہ منصوبہ محض اسرائیل کو اگلی جنگ سے قبل سانس لینے کا موقع دینے کے لیے ہے۔‘‘
منصوبے میں خوراک اور امداد کو سیاسی اطاعت سے جوڑنے کی شرط کو ناقدین نے ایک نئی نوآبادیاتی ترتیب سے تشبیہ دی ہے۔ اس میں وہی طاقتیں — امریکہ اور اسرائیل — جو تباہی کی ذمہ دار ہیں، غزہ کی تعمیرِ نو کی شرائط طے کریں گی۔
منصوبہ فلسطینیوں کو نہ کسی قانونی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، نہ آزاد نقل و حرکت کی، اور نہ ہی یہ یقین دہانی کہ تعمیرِ نو اسرائیلی کنٹرول سے آزاد ہوگی۔ بلکہ اس کے تحت ایک ایسا نظام قائم ہوگا جس میں محصور آبادی کی بقا انہی طاقتوں کی مرضی پر منحصر ہوگی جو اس کی محاصرے کی نگران ہیں۔
’نوآبادیاتی عہد کی واپسی‘
ہاشمی نے کہا کہ یہ منصوبہ امن کی جانب نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے ایک نئے سرپرستانہ نظام کی طرف قدم ہے۔
’’یہ حقیقت پسندانہ نہیں۔ اس کا تصور ہے کہ حماس ہتھیار ڈال کر علاقے سے نکل جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ یہ کون کرے گا؟ غزہ اسی طرح چلایا جائے گا جیسے برطانویوں نے 105 برس پہلے فلسطین پر حکمرانی کی تھی۔‘‘
ٹرمپ کے تصور کے مطابق ’’بورڈ آف پیس‘‘ — جس میں امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور چند عرب ممالک کے نمائندے شامل ہوں گے — غزہ کی انتظامی اتھارٹی سنبھالے گا۔ اس بورڈ کی ممکنہ مشترکہ صدارت کے لیے ٹونی بلیئر کا نام سامنے آیا ہے، جس پر خاصی تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ عراق جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی کی حیثیت سے ان کی کارکردگی وعدوں کے برعکس رہی تھی۔
ہاشمی کے مطابق اس منصوبے کی علامتی حیثیت واضح ہے: ایک مغربی قیادت کے تحت ادارہ، جو مقبوضہ علاقے کی نگرانی کرے گا، جبکہ فلسطینی محض امداد کے محتاج اور نظم کے تابع رہیں گے۔
لواتی نے کہا کہ اس ماڈل سے اسرائیل کے ’’بے لگام ریاستی رویے‘‘ کو مزید تقویت ملے گی، اور اس کی مثال انہوں نے فرانس کی الجزائر میں نوآبادیاتی جنگ سے دی۔ ’’الجزائر کی قومی تحریک FLN نے فوجی طور پر شاید نہ جیتا ہو، مگر اخلاقی و عالمی سطح پر جیت گئی تھی۔ یہی صورت حال یہاں بھی ہے — اسرائیل نے اخلاقی جنگ ہار دی ہے اور عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔‘‘
’حقیقت سے یکسر کٹا ہوا منصوبہ‘
ایرونسن نے اس منصوبے کو ناقابلِ عمل اور حقیقت سے کٹا ہوا قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ مضحکہ خیز ہے۔ یہ زمینی حقائق سے بالکل منقطع ہے۔ حماس یوں ہی غائب نہیں ہو جائے گی۔
ان کے مطابق ’’پچھلے سترہ برس کے سیاسی و عسکری حقائق کو نظر انداز کرنا غیر حقیقی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ابھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ مصر اور ترکی جیسے ممالک کہہ رہے ہیں کہ جو مسودہ وائٹ ہاؤس یا اسرائیل کے پاس ہے، وہ وہی نہیں جو انہوں نے ابتدا میں حمایت کی تھی۔ یوں یہ منصوبہ بھی ناکام امن کوششوں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے۔
لواتی کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اس منصوبے کو ریاستی بصیرت کے طور پر پیش کر رہے ہیں، دراصل یہ ’’ایک کمزور اسرائیل کے لیے نجات کا راستہ‘‘ ہے۔ ان کے بقول ’’نتن یاہو کا وقت ختم ہو رہا ہے — حتیٰ کہ اس کے مغربی حمایتی بھی تنگ آ چکے ہیں۔ یہ منصوبہ اسرائیلی معاشرے کے اندرونی بحران کو محض کچھ دیر کے لیے مؤخر کرتا ہے۔‘‘
ایک فریق کے لیے تحفظ، دوسرے کے لیے خاموشی
ہاشمی اور ایرونسن دونوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کی سلامتی تو یقینی بناتا ہے مگر فلسطینیوں کے لیے کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتا۔
ہاشمی نے کہا، ’’یہ منصوبہ اسرائیلی سلامتی کی ضرورتوں پر مبنی ہے، نہ کہ فلسطینی حقوق پر۔ اس میں بین الاقوامی ضمانت ہونی چاہیے تھی — اسرائیلی انخلا، عالمی برادری کی نگرانی میں جنگ بندی، محاصرہ اٹھانا، اور غزہ پر پروازوں کی ممانعت — مگر ان میں سے کچھ بھی اس معاہدے میں شامل نہیں۔‘‘
ایرونسن نے بھی اعتراف کیا کہ منصوبہ موجودہ حیثیتِ جمود کو برقرار رکھتا ہے۔ ’’یہ ایک یکطرفہ راستہ ہے۔ اسرائیل کے خدشات کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے، جبکہ فلسطینی حقوق کو اختیاری قرار دیا گیا ہے۔‘‘
لواتی نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کا محدود اقدام بھی اس منصوبے کے ’’امن‘‘ کے دعوے کی منافقت کو ظاہر کرتا ہے۔ ’’جو قیدی رہا کیے گئے، وہ مجرم نہیں بلکہ یرغمالی تھے۔ یہ معمولی علامتی کامیابی ہے، جبکہ ہزاروں فلسطینی اب بھی اسرائیلی جیلوں میں ہیں۔ اسرائیل نے یہ رعایت صرف اس لیے دی کہ ٹرمپ کا منصوبہ قابلِ قبول لگ سکے۔‘‘
عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل غزہ کی سرحدوں، فضائی حدود، اور تعمیرِ نو کے فنڈز پر کنٹرول برقرار رکھے گا — وہ بھی ’’سلامتی‘‘ کے نام پر۔ ہاشمی کے مطابق اس کا نتیجہ ایک نئی شکل میں قبضے کا تسلسل ہے۔
’’اگر اسرائیل کو غزہ کی حکمرانی، نقل و حرکت، اور امداد پر ویٹو کا اختیار ملتا ہے تو یہ امن نہیں، تسلط ہے۔‘‘
عرب دنیا کی خاموشی اور شراکت
ٹرمپ کے منصوبے کا سب سے حیران کن پہلو شاید عرب و مسلم حکومتوں کا ردعمل ہے۔
ہاشمی نے کہا کہ ان حکومتوں نے اس منصوبے کو قبول کر کے دراصل غزہ کی نوآبادیاتی حیثیت کو جائز بنا دیا ہے، اور فلسطین کے مسئلے کو دفن کر دیا ہے۔ یہ ان کی اخلاقی دیوالیہ پن کا مظہر ہے۔
علاقائی ردعمل محتاط حمایت سے لے کر خاموش رضامندی تک رہا۔ مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس منصوبے میں ’’دلچسپی‘‘ ظاہر کی ہے، اسے خطے میں استحکام کے موقع کے طور پر پیش کیا ہے۔
ایرونسن کے مطابق عرب اور اسلامی ممالک نے دروازہ بند نہیں کیا بلکہ یہ سوچا کہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ رکھنے سے شاید سفارت کاری مثبت سمت میں جا سکے۔
ان کے مطابق یہ رویہ ’’ابراہام معاہدوں‘‘ کے بعد پیدا ہونے والی وسیع تر اسٹریٹیجک تبدیلی کی علامت ہے، جہاں عرب ممالک نے اسرائیل اور امریکہ سے تعلقات کو ترجیح دی ہے۔ ٹرمپ کا منصوبہ اسی رجحان کو ’’جنگِ بعد کی تعمیرِ نو‘‘ کے نام پر مزید بڑھانے کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
وسیع تر علاقائی جدوجہد
ایرونسن کے مطابق غزہ کا منصوبہ صرف اسی علاقے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر زمینی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
ان کے بقول ’’بالآخر یہ زمین کے بارے میں تنازع ہے، اور زمین ہی وہ کرنسی ہے جس کے ذریعے یہ پالیسی کامیاب یا ناکام ہو سکتی ہے۔‘‘
انہوں نے نشاندہی کی کہ جب دنیا کی توجہ غزہ پر مرکوز ہے، اسرائیل مغربی کنارے میں غیر معمولی توسیع کر رہا ہے، نئی بستیاں قانونی قرار دے رہا ہے اور القدس کے گرد اسٹریٹیجک علاقوں پر قبضہ بڑھا رہا ہے۔
ہاشمی نے خبردار کیا کہ یہی ماڈل اب مغربی کنارے پر بھی آزمایا جائے گا — بیرونی کنٹرول، بستیاں روکنے کا کوئی مطالبہ نہیں، اور خودمختاری کا کوئی راستہ نہیں۔
لواتی کے مطابق صرف چند ممالک — لبنان، یمن، اور ایران — نے فلسطینی مزاحمت کی کھل کر حمایت کی ہے۔ ’’ہم ان پر تنقید کر سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ ممالک ہیں جنہوں نے مزاحمت کے حق میں کھڑے ہونے کی جرات دکھائی۔ بیشتر عرب حکومتیں حلیف نہیں، شریکِ جرم بن چکی ہیں۔‘‘
پرانے تنازع کا نیا پیکج
ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی منصوبہ اسرائیل کی سلامتی اور حماس کے عسکری پہلو کو نظرانداز کر کے کامیاب نہیں ہو سکتا۔ لیکن ناقدین کے مطابق ’’تسلیم کے بدلے امن‘‘ کا یہ فارمولا فلسطینی حقیقتوں کو مسخ کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون و اصولوں کو مٹا دیتا ہے۔
ایرونسن نے کہا کہ ٹرمپ کی کوشش کی خامیاں اوسلوعمل یا روڈ میپ سے مختلف نہیں۔ ہم پھر اسی عدم توازن پر لوٹ آئے ہیں — اسرائیلی طاقت اپنی انتہا پر، فلسطینی کمزوری اپنی حد پر۔
ہاشمی کے مطابق منصوبے کا اصل پیغام واضح اور خطرناک ہے:
جو بھی اسرائیل یا مغرب کے خلاف مزاحمت کرے گا، وہ ناکام ہوگا، اور فلسطینی صرف اسی صورت زندہ رہ سکتے ہیں جب وہ اسرائیلی کنٹرول کو قبول کریں۔
لواتی نے کہا کہ یہ بیانیہ اس لیے بنایا جا رہا ہے تاکہ فلسطینی سیاسی عزم کو کچلا جائے اور اسرائیل کے خلاف ابھرنے والے عالمی غصے کو ختم کیا جا سکے۔ اس جنگ نے اسرائیل کے اخلاقی سرمائے کو ختم کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا منصوبہ دراصل واشنگٹن کی طرف سے اپنے شکست خوردہ اتحادی کو ’امن معاہدے‘ کے پردے میں سہارا دینے کی کوشش ہے۔
ہاشمی کے مطابق ٹرمپ کا منصوبہ امن کی تجویز نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام ہے — عرب دنیا، واشنگٹن کے اتحادیوں، اور خود فلسطینیوں کے لیے۔
یہ اس بات کا اعلان ہے کہ خودمختاری پر مذاکرات کا دور ختم ہو چکا ہے، اور اب باقی ہے ایک ’’منظم قبضہ‘‘ — جسے ’’استحکام‘‘ کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔
امن یا مستقل کنٹرول؟
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ مذاکرات جاری ہیں، ٹرمپ کا منصوبہ جنگ کے خاتمے کا نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی نظم کے نفاذ کا ذریعہ بنے گا — ایسا نظم جو اسرائیلی غلبے کو مضبوط کرے گا اور قبضے کے اخراجات کو بین الاقوامی و علاقائی قوتوں پر منتقل کر دے گا۔
اس تصور میں غزہ آزادی کی نہیں بلکہ ’’جنگ کے بعد اطاعت‘‘ کی تجربہ گاہ بن جائے گا۔ انسانی امداد کو حقوق کا متبادل بنا دیا جائے گا، اور انتظامی کنٹرول کو خودمختاری پر فوقیت دی جائے گی۔
دنیا جو جنگ سے تھک چکی ہے، شاید اس انتظام کو قبول کر لے۔
لیکن لاکھوں فلسطینیوں کے لیے، اس کا مطلب ہوگا ایک ایسے امن میں جینا جو دراصل ان کا اپنا نہیں۔

