اتوار, فروری 15, 2026
ہوممضامینصیہونی ایران کو اپنی گونج گاہوں کے باعث بنیادی طور پر غلط...

صیہونی ایران کو اپنی گونج گاہوں کے باعث بنیادی طور پر غلط سمجھتے ہیں
ص

تحریر: رابرٹ انلیکیش

امریکہ اور اسرائیلی تھنک ٹینک، ایران کو کمزور کرنے میں ناکامی کے باوجود، تکبر اور فریبِ خودی میں مبتلا ہو کر ایک اور جنگ کی وکالت کر رہے ہیں، گویا وہ اپنی سابقہ شکستوں کو دہرانا چاہتے ہیں۔

ایران کو فیصلہ کن دھچکا دینے کی پہلی کوشش سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر، واشنگٹن کے جنگ پرست تھنک ٹینک دوبارہ جنگ کے لیے پرجوش نظر آتے ہیں اور انہی وہم و گمان پر قائم ہیں جنہوں نے انہیں 12 روزہ جنگ میں ناکامی تک پہنچایا تھا۔

جون میں تہران پر حملے کے بعد، اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے فوری طور پر یہ دعویٰ شروع کر دیا کہ انہوں نے اسلامی جمہوریہ پر چھ منٹ میں ایسا وار کیا جو حزب اللہ کے خلاف ایک ہفتے میں ممکن ہوا تھا۔ اس کے بعد اسرائیلیوں نے اپنے اس کٹھ پتلی کو بروئے کار لانا شروع کیا جسے وہ ’’ولی عہد‘‘ قرار دیتے ہیں — یعنی معزول ایرانی بادشاہ کے بیٹے کو۔

اگرچہ لبنان میں حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت کے خلاف بڑے پیمانے پر کی جانے والی اسرائیلی قتل و غارت نے مزاحمتی جماعت کو ایک ناقابلِ انکار دھچکا پہنچایا، لبنان کے اندر طاقت کے توازن میں تبدیلیاں پیدا کیں اور چند عسکری کامیابیاں حاصل کیں، لیکن جب یہی حکمتِ عملی ایران کے خلاف آزمائی گئی تو وہ بری طرح ناکام ہو گئی۔ ایرانی جنرلوں اور جوہری سائنسدانوں کو قتل کرنے کی کارروائیاں — جن میں سے اکثر شہری آبادی والے علاقوں میں انجام پائیں — اپنے مطلوبہ نتائج کے برعکس ثابت ہوئیں۔

یقیناً کسی بھی ملک کے لیے اپنے سائنسدانوں اور عسکری عہدیداروں کو کھونا ایک نقصان ہوتا ہے، خصوصاً ایران کے لیے اس کے جوہری پروگرام کے ضمن میں، مگر یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہرگز نہیں تھا۔ درحقیقت چند ہی گھنٹوں میں پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (IRGC) نے اپنے کمانڈروں کو تبدیل کر کے فضائی دفاعی نظام بحال کرنے اور صہیونی جارحیت کے خلاف فوجی ردعمل کی تیاری شروع کر دی۔

اگرچہ 12 روزہ جنگ کی تفصیلات میں زیادہ جانے کی ضرورت نہیں، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کا مقصد ایران کے اندر خانہ جنگی بھڑکانا تھا — ایک منصوبہ جو بری طرح ناکام ہوا۔ اس منصوبے کا ایک ستون معزول شاہ کے بیٹے کی تقاریر کے ذریعے عوامی احتجاج کو بھڑکانا تھا، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ شاہ کا بیٹا ہر نئی تقریر کے ساتھ بڑھتی ہوئی جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتا گیا۔ بعد ازاں انکشاف ہوا کہ اس مہم کو اسرائیل کے زیرِ تنخواہ بوٹس اور جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے فروغ دیا گیا، جو بالآخر اسی نام نہاد ’’اپوزیشن رہنما‘‘ کے لیے سبکی کا باعث بنی۔

ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے کچھ بھی نہیں سیکھا۔ واشنگٹن کے تھنک ٹینک ایک بار پھر جنگ کی وکالت کر رہے ہیں، مگر وہ اپنی ہی فکری گونج گاہوں میں اس قدر محصور ہیں کہ وہ ایرانی عوام کے بارے میں ایسی مفروضہ رائے رکھتے ہیں جس کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں۔

مثال کے طور پر، فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز (FDD) نامی تھنک ٹینک کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والا ایک مضمون بعنوان "Iranians Are Not Rallying Behind the Islamic Republic” اسی فریب پر مبنی ہے۔ اس میں ایرانی عوامی رائے کا تجزیہ پیش کیا گیا مگر کسی مستند ڈیٹا، سروے یا زمینی حقیقت کا حوالہ دیے بغیر — گویا یہ مضمون کسی خیالی دنیا میں تحریر کیا گیا ہو۔

اسی طرح، واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی سمیت دیگر ادارے ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ حملے کے حق میں دلائل دے رہے ہیں، یہ کہہ کر کہ اس بار یہ حملہ فیصلہ کن ہونا چاہیے — ایک ایسی آخری جنگ جو صہیونی مقاصد کو طویل مدت کے لیے پورا کر دے۔

اصل میں ایران سے متعلق ایک مخصوص ’’ایکو چیمبر‘‘ یعنی فکری گونج گاہ کئی دہائیوں کے جھوٹ اور تنقیدی فہم کی کمی پر مبنی ہے۔ اس نے مغربی تجزیہ کاروں کی سوچ کو اس حد تک بگاڑ دیا ہے کہ استعماری اور نسلی برتری کے نظریات نے ان کی بصیرت کو دھندلا دیا ہے۔ یہ تکبر اب انتہا پر پہنچ چکا ہے، خصوصاً ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں۔

ہم نے دیکھا کہ اسی تکبر نے خطے کے ممالک اور عوام کو کمتر سمجھنے کے رجحان کو جنم دیا۔ اس کی سب سے واضح مثال اس وقت سامنے آئی جب وہ ’’آپریشن الطوفان الاقصیٰ‘‘ (Operation Al-Aqsa Flood) سے مکمل طور پر حیران رہ گئے، کیونکہ وہ سادہ لوحی سے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ فلسطینی حقوق کو ہمیشہ کے لیے پسِ پشت ڈال سکتے ہیں۔

لبنان میں، امریکی ایلچی ٹام بیریک نے حال ہی میں خطے اور عربوں کے بارے میں نہایت انکشاف انگیز تبصرے کیے، جن میں اس نے انہیں ’’تابع نہ ہونے والے‘‘ قرار دیا، صحافیوں کو ’’وحشی‘‘ کہہ کر انہیں ’’مہذب‘‘ بننے کا مشورہ دیا، اور ہنسی مذاق میں یہ بھی کہا کہ واشنگٹن لبنانی فوج کو ’’اپنے ہی عوام سے لڑنے‘‘ کے لیے اسلحہ دیتا ہے۔ ہمسایہ شام میں وہ جس طرح چاہے رویہ اختیار کرتا ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہاں کی موجودہ حکومت ’’سیاسی ناتجربہ کار‘‘ افراد پر مشتمل ہے جو محض کٹھ پتلیاں ہیں۔

یہ تکبر ان عرب حکمرانوں سے جنم لیتا ہے جن کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ذہانت دوہندسوں تک محدود ہے، اور ان سے معاملات کرنے کی عادت نے ان کی فکری گراوٹ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مزید برآں، کئی عرب ممالک کی آبادی یا تو باہمی تنازعات میں الجھ چکی ہے یا مغربی سرپرستوں کی عطا کردہ مادی آسائشوں میں مصروف ہو چکی ہے۔ امریکی، یورپی اور صہیونی اتحاد نے ’’تکفیری نظریے‘‘ کے پھیلاؤ میں بھی کامیابی حاصل کی، جس نے مسلم معاشروں کی فکری بنیادوں کو آلودہ کر دیا۔

ایرانی قیادت کے زیرِ سرپرستی مزاحمتی محور (Axis of Resistance) نے بھی 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غلطیاں کی ہیں اور انہیں متعدد جھٹکے لگے ہیں۔ مگر ان تمام عوامل نے ایک زخمی اور انتقامی اسرائیلی قیادت کو اس حد تک مشتعل کر دیا ہے کہ وہ ان منصوبوں کو تیز رفتار سے نافذ کرنا چاہتی ہے جنہیں وہ دہائیوں میں مکمل کرنا چاہتی تھی۔ دوسری طرف، امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی محدود کامیابیوں پر غیر حقیقی خوش فہمی میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔

جب مغربی و اسرائیلی تجزیے ایران پر بات کرتے ہیں تو ان کی سوچ کو ایک اور عنصر بھی متاثر کرتا ہے: ایرانی جلاوطن برادری۔ یہ افراد — جن میں سے بہت سے کے اہل خانہ اب بھی ایران میں ہیں — مخصوص فکری حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور انہی کی آراء امریکہ و اسرائیل کی ایرانی معاشرے سے متعلق فہم کو تشکیل دیتی ہیں۔ مگر ان کے خیالات زیادہ تر ’’وائس آف امریکہ‘‘، ’’بی بی سی فارسی‘‘ یا ’’ایران انٹرنیشنل‘‘ جیسے ذرائع سے اخذ ہوتے ہیں۔

یوں اسرائیل اور مغربی حکومتیں وہی پروپیگنڈا فنڈ کرتی ہیں جو ایک طبقے کو ان کے من چاہے زاویے سے سوچنے پر آمادہ کرتا ہے، اور پھر انہی خیالات کو ’’ایرانی عوام‘‘ کے نقطہ نظر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے — حالانکہ ان کا منبع خود تل ابیب اور واشنگٹن ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب وہ ’’ایرانی عوام‘‘ کا حوالہ دیتے ہیں تو وہ کسی بھی طبقے کی نمائندگی نہیں کرتے۔ یقینی طور پر کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں کامیابی سے گمراہ کیا گیا ہے، مگر یہ تصویر پورے معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتی، نہ ہی یہ اس بات کی درست پیش گوئی کر سکتی ہے کہ ایرانی عوام اپنے ملک پر کسی بیرونی حملے کے وقت کیا ردعمل دکھائیں گے۔

آخرکار، یہی نسلی تعصب اور استعماری سوچ مغربی و اسرائیلی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ غزہ کے خلاف ان کے مضحکہ خیز منصوبوں کو ہی دیکھ لیجیے — وہ ہر بار ایسے منصوبوں پر سرمایہ لگاتے ہیں جو یا تو فوراً ناکام ہو جاتے ہیں یا ابتدا ہی سے تباہی کے دہانے پر ہوتے ہیں۔

یہ سب سوال پیدا کرتا ہے: آخر وہ حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟ خطے کی اقوام پر دائمی قبضہ اور ظلم و جبر کے سوا ان کی حکمتِ عملی پائیدار کیسے ہو سکتی ہے؟ حتیٰ کہ اگر وہ وقتی طور پر اپنے مقاصد میں کامیاب بھی ہو جائیں، تو کب تک؟ کب تک عوام دوبارہ نہیں اٹھ کھڑے ہوں گے؟ شام کی مثال لیں، وہ ملک جسے بحال ہونے میں برسوں لگیں گے، لیکن کیا وہ لوگ جو ایک قدیم تہذیب اور گہری ثقافت سے وابستہ ہیں، ہمیشہ کے لیے خاموش رہ سکتے ہیں؟

ایران کے معاملے میں بھی یہی سوال اٹھتا ہے۔ فرض کیجیے اسرائیل مزید قتل و غارت، خفیہ آپریشنز، تخریب کاری اور ہائبرڈ وار فیئر کے حربے آزماتا ہے — تو اس کا آخری مقصد کیا ہے؟

ایک طرف امریکی و اسرائیلی قیادت ایران کے جوہری پروگرام کی تباہی اور اس کی میزائل صلاحیت کے خاتمے کے دعوے کرتی ہے، اور اگلے ہی لمحے انہی اہداف پر دوبارہ حملوں کی ضرورت پر زور دیتی ہے — جو اس بات کا غیر اعلانیہ اعتراف ہے کہ پچھلی بار وہ ناکام رہے۔ تو اگر وہ مزید قتل و غارت، سائنسدانوں کے قتل، یا جوہری و میزائل تنصیبات پر حملے کرتے ہیں، نتیجہ وہی نکلے گا جو پچھلی جنگ میں نکلا — ایران نے آخری وار کر کے میدان بند کیا تھا۔

کیا اب وہ ایران کے تیل، پانی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی حکمتِ عملی اپنائیں گے، اس امید پر کہ پابندیوں کے ساتھ یہ سب ’’ایک کامل طوفان‘‘ پیدا کرے گا جو شام طرز کی حکومت کی تبدیلی کا باعث بنے؟ اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو نتائج ان کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل حزب اللہ اور غزہ کی فلسطینی مزاحمت کو شکست نہیں دے سکا، نہ ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر سکا، اور نہ ہی ایران کو مفلوج کرنے میں کامیاب ہوا۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں یمن میں انصاراللہ کے خلاف بھی ناکام رہے۔

یہ سچ ہے کہ مزاحمتی محور کو متعدد دھچکے لگے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں، مگر یہ ایک طویل علاقائی جنگ ہے جس میں ایسے نقصانات فطری ہیں۔ لیکن نیتن یاہو جس ’’مکمل فتح‘‘ کا خواب دیکھتا ہے، وہ اب تک کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ مزاحمتی حامیوں کا حوصلہ ضرور متاثر ہوا ہے، مگر یہ مکمل شکست کی علامت نہیں۔ یہ جنگ اب بھی جاری ہے، اور بالآخر اس کا نتیجہ کسی ایک فریق کی اسٹریٹجک شکست پر منتج ہوگا۔ موجودہ حالات میں امریکہ اور اسرائیل کا تکبر یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک بار پھر حد سے تجاوز کر رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین