اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیسوڈان میں خانہ جنگی "بچوں کے خلاف جنگ" قرار، عالمی رپورٹ کا...

سوڈان میں خانہ جنگی "بچوں کے خلاف جنگ” قرار، عالمی رپورٹ کا انکشاف
س

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوڈان کی جاری خانہ جنگی میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ راول والن برگ سینٹر فار ہیومن رائٹس کی جانب سے جاری اس جامع رپورٹ کے مطابق سوڈانی فوج (SAF) اور اس کی مخالف نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) دونوں فریقوں نے بچوں کے خلاف سنگین جرائم کیے ہیں، جن میں قتل، جنسی تشدد، جبری بھرتی اور اسپتالوں و اسکولوں جیسے بنیادی ڈھانچے کی تباہی شامل ہے۔

رپورٹ نے متحدہ عرب امارات کے کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے، جسے سوڈان کی جنگ میں اہم بیرونی فریق قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، آر ایس ایف کے اندرونی ذرائع اور شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ امارات بھاری اسلحہ، بکتر بند گاڑیوں، گولہ بارود، ڈرونز اور مالی و سیاسی پشت پناہی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف پہلے ایک سال میں دس ملین سے زائد سوڈانی بچے تشدد کے خطرے سے دوچار ہوئے۔ حتیٰ کہ ایک سال کی عمر کے بچے بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنے۔

اقوام متحدہ میں سوڈان کے سابق نمائندے اور انسانی ہمدردی کے رابطہ کار موکیش کپِلا نے اپنی تمہیدی تحریر میں لکھا کہ یہ جرائم بچوں کی غلامی، جنسی تشدد، اور انہیں زبردستی فوج میں بھرتی کرنے جیسے مکروہ مظالم پر مشتمل ہیں۔

راول والن برگ سینٹر کو موصول ہونے والی متعدد رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف منظم جنسی تشدد، زیادتی، قید، بھوک سے نڈھال کرنے، اور انہیں خاندانوں سے زبردستی الگ کرنے جیسے واقعات عام ہو چکے ہیں۔

یونیسف کے نمائندے شیَلڈن یَیٹ کے مطابق، “بچے بھوک، بیماری اور براہِ راست تشدد سے مر رہے ہیں۔ انہیں ان خدمات سے محروم کیا جا رہا ہے جو ان کی زندگیاں بچا سکتی ہیں۔”

یونیسف کا کہنا ہے کہ بارہ ملین سے زیادہ سوڈانی شہری صنفی بنیاد پر تشدد کے خطرے سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی تشدد کی زیادہ تر وارداتیں رپورٹ نہیں ہوتیں، کیونکہ سماجی بدنامی، انتقامی کارروائی کے خدشات، اور صحت و رپورٹنگ کے نظام کی تباہی نے خاموشی کو جنم دیا ہے۔

“اے وار آن چلڈرن، اے ورلڈ کمپلیسِٹ” کے عنوان سے شائع اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین جیسے روم اسٹیٹیوٹ، جنیوا کنونشنز، نسل کشی کنونشن، بچوں کے حقوق کا کنونشن، اور مجرمانہ انسانیت مخالف جرائم کے آئندہ عالمی معاہدے کو سوڈان میں انصاف کے لیے بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نسل کشی کے کنونشن اور نسلی امتیاز کے خاتمے کے کنونشن کی صریح خلاف ورزی کا مرتکب ہے، کیونکہ اس نے آر ایس ایف کو مسلسل مدد، اسلحہ اور مالی امداد فراہم کی۔

اس تحقیق کا جائزہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے بانی چیف پراسیکیوٹر لوئس مورینو اوکامپو سمیت متعدد قانونی ماہرین نے لیا اور اس کی توثیق کی۔

غیر معمولی بحران

سوڈان کی تقریباً پچاس ملین آبادی میں سے 42 فیصد چودہ سال سے کم عمر کے بچے ہیں۔ اپریل 2023 سے جاری اس جنگ کے باعث 1.6 کروڑ سے زائد بچے فوری انسانی امداد کے منتظر ہیں۔

سیو دی چلڈرن کے مطابق، 1.7 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اور 90 فیصد کو رسمی تعلیم تک رسائی حاصل نہیں۔ گزشتہ چار دہائیوں میں بچوں کی ویکسینیشن کی جو پیش رفت ہوئی تھی، وہ مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ ہیضے کی وبا پھیل چکی ہے، اور لاکھوں بچے قابلِ علاج بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔

پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً چالیس لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر کے شہری، جو پانچ سو دن سے آر ایس ایف کے محاصرے میں ہیں، قحط کے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

راول والن برگ سینٹر کے مطابق، بے گھر ہونے والے بارہ ملین سے زائد افراد میں سے 53 فیصد بچے ہیں، جس سے یہ دنیا کا سب سے بڑا بچوں کا نقل مکانی بحران بن چکا ہے۔

اقوام متحدہ کی اپریل 2025 کی رپورٹ کے مطابق، بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں میں خطرناک اضافہ ہوا ہے، خصوصاً دارفور میں، جہاں بچوں کو غیر معمولی تعداد میں قتل و معذور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ یونیسف کو سوڈان میں اپنی امدادی کارروائیوں کے لیے ایک ارب ڈالر کا خسارہ درپیش ہے، حالانکہ پندرہ ملین بچوں کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔

شیَلڈن یَیٹ نے کہا کہ ہم ایک پوری نسل کے ناقابلِ تلافی نقصان کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں، بلکہ ایک حقیقی انسانی المیہ ہے، جسے روکنے کے لیے عالمی برادری کی اجتماعی ناکامی واضح ہو چکی ہے۔

رپورٹ میں ان کاروباری اداروں کی فہرست بھی شامل ہے جو اس جنگ سے وابستہ فریقین سے منسلک ہیں۔ ان میں اماراتی شاہی خاندان کے اراکین کی کمپنیاں، ایک فرانسیسی ایرو اسپیس ادارہ، کولمبیا کا کرایہ کے فوجی ٹھیکیدار، ترکی کا اسلحہ ساز، ایک آسٹریلوی کان کنی کمپنی، اور کئی امریکی کارپوریشنز شامل ہیں۔

راول والن برگ سینٹر نے عالمی برادری کی بے حسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کی سنگینی کے باوجود، عالمی ردعمل نہ صرف ناکافی بلکہ شرمناک حد تک کمزور ہے۔ انسانی امداد میں بھاری کمی، قابلِ اعتبار امن اقدامات کی عدم موجودگی، اور انصاف کے تقاضوں سے غفلت — یہ سب اجتماعی ناکامی کی علامت ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین