اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیایران کے حملے میں تل ابیب کا خفیہ امریکی۔اسرائیلی اڈہ نشانہ

ایران کے حملے میں تل ابیب کا خفیہ امریکی۔اسرائیلی اڈہ نشانہ
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، 13 جون کو ایران کے میزائل حملوں کے دوران تل ابیب کے مرکز میں واقع ایک زیرِ زمین خفیہ فوجی بنکر، جسے سائٹ 81 کے نام سے جانا جاتا ہے، ممکنہ طور پر نشانہ بنا۔ یہ انکشاف دی گرے زون کی جانب سے کی گئی تفصیلی جیو لوکیشن تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

یہ خفیہ اڈہ، جسے امریکہ نے تعمیر کیا تھا، تل ابیب کے پرتعیش ڈا وِنچی اپارٹمنٹ کمپلیکس کے نیچے واقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ مرکز امریکی اور اسرائیلی افواج کا مشترکہ خفیہ انٹیلیجنس کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر ہے۔ اس کے وجود کی کبھی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

جب ایران کے میزائل شمالی تل ابیب میں گرے تو اسرائیلی حکام نے فوری طور پر علاقے کو سیل کر دیا تاکہ صحافی نقصان کی رپورٹنگ نہ کر سکیں۔

فاکس نیوز کے نمائندے ٹرے ینگسٹ نے ہاکریا — یعنی اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ہیڈکوارٹر — کے قریب سے رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمارت ابھی ابھی نشانہ بنی ہے۔ چند لمحوں بعد پولیس نے انہیں زبردستی علاقے سے ہٹا دیا۔

سائٹ 81 کی جیو لوکیشن اور تفصیلات

تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ ڈا وِنچی ٹاورز براہِ راست زیرِ زمین موجود سائٹ 81 بنکر کے اوپر واقع ہیں۔ یہ تنصیب اسرائیلی فضائیہ کے کناریت ٹاورز کے جنوب اور ہاکریا پل کے شمال میں واقع ہے۔ لیک شدہ ای میلز، سرکاری ریکارڈز اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سائٹ 81 ایک برقیاتی طور پر محفوظ (شیلڈڈ) اور انتہائی حساس انٹیلیجنس مرکز ہے۔

امریکی فوجی کور آف انجینئرز کی 2013 کی ایک رپورٹ میں اس بنکر کو 6,000 مربع میٹر تک توسیع دینے کا منصوبہ شامل تھا، اگرچہ اس کا درست مقام اس وقت ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ جیو لوکیٹ شدہ تصاویر سے واضح ہوا ہے کہ یہ مرکز ڈا وِنچی کمپلیکس کے اندر واقع ہے، جو ایک بچوں کے کھیل کے میدان اور حال ہی میں کھلنے والے کمیونٹی سینٹر کے قریب ہے — ایک ترتیب جسے ناقدین اسرائیل کے اس فوجی طرزِ عمل کی مثال قرار دیتے ہیں جس میں حساس عسکری تنصیبات کو شہری آبادی کے درمیان چھپا دیا جاتا ہے۔

"اسرائیل” اپنے دشمنوں پر عام طور پر شہریوں کو ’’انسانی ڈھال‘‘ کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرتا ہے، لیکن سائٹ 81 کی یہ جگہ خود اسی طرزِ حکمتِ عملی پر سوال اٹھاتی ہے۔

ایک اسرائیلی آبادکار نے کہا کہ آج مجھے احساس ہوا کہ میں ہر ماہ 12 ہزار شیکل (تقریباً 3,650 امریکی ڈالر) ادا کر کے دراصل کیریا ہیڈکوارٹر کی حفاظت کر رہا تھا۔

ڈا وِنچی ٹاورز کے تجارتی دفاتر میں کئی ایسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جن کے روابط اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس سے جڑے ہیں۔ ان میں AI21 Labs نامی کمپنی بھی شامل ہے، جسے اسرائیلی انٹیلیجنس یونٹ 8200 کے سابق ارکان نے قائم کیا۔ کمپنی نے تصدیق کی کہ وہ فلسطینیوں کو نشانہ بنانے والے ایک عسکری مصنوعی ذہانت (AI) نظام کی تیاری میں شریک ہے۔ اس نے 2023 کے آخر میں چوتھی اور پانچویں منزل پر دفتر کرائے پر لیا۔

تعمیرات، مالی معاونت، اور امریکی تعلقات

قریب ہی واقع کناریت ٹاورز اسرائیلی تعمیراتی کمپنی دانیا سبوس اور سولیل بونے کے اشتراک سے تعمیر کیے گئے، جنہیں بعد میں لاس اینجلس کے اسرائیلی نژاد ڈویلپر نتنیل (نیٹی) سیڈوف نے کنٹرول کیا — جو امریکی۔اسرائیلی تنظیموں میں ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ یہ ٹاورز فضائیہ کے ہیڈکوارٹر کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے اور ان میں دھماکوں سے محفوظ رہنے والے نظام نصب ہیں۔

سائٹ 81 کے قریب دیگر تنصیبات میں Perimeter 81 نامی کمپنی بھی شامل ہے، جو اب چیک پوائنٹ ٹیکنالوجیز کا حصہ ہے۔ امریکی ٹھیکہ جات کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ M+W گروپ (ایکسائٹ) اور آکسفورڈ کنسٹرکشن نے 2011 سے 2019 کے درمیان اس بنکر کی تعمیر و توسیع کے اہم مراحل سنبھالے۔

لیک شدہ ای میلز، جو امریکی غیر منافع بخش ادارے ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سیکریٹس کے آرکائیو میں شامل ہیں، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس منصوبے میں اعلیٰ سطحی امریکی۔اسرائیلی عسکری تعاون موجود تھا۔ ان ای میلز میں 2015 میں سابق نیٹو کمانڈر جیمز سٹاوریڈِس نے سابق اسرائیلی چیف آف اسٹاف گابی اشکنازی کو لکھا تھا کہ ہیلو گابی، میں یہاں امریکہ میں ایک دلچسپ کمپنی تھنک لاجیکل کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔ وہ کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس بناتے ہیں، اور انہوں نے ابھی سائٹ 81 پر اسرائیلی دفاعی افواج کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ جیتا ہے۔

سینسرشپ اور حساس تصاویر پر پابندی

گوگل میپس، یاندیکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر ڈا وِنچی ٹاورز اور اس کے گردونواح کی سیٹلائٹ تصاویر شدید حد تک سینسر کی گئی ہیں، جو اسرائیل کے حساس فوجی مقامات تک عوامی رسائی پر عائد جاری پابندیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

فرانس 24 کی ایک رپورٹ میں ایرانی حملے کی اسرائیلی میڈیا کوریج میں تاخیر کو ’’سرکاری سنسرشپ‘‘ کی ممکنہ مثال قرار دیا گیا۔

شہری علاقے کے وسط میں بچوں کے کھیل کے میدان، تجارتی دفاتر اور رہائشی عمارتوں کے پہلو میں سائٹ 81 کی موجودگی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اسرائیل کس طرح اپنی عسکری انٹیلیجنس تنصیبات کو شہری ڈھانچوں کے اندر سمو دیتا ہے، جس سے نہ صرف آزاد ذرائع سے تصدیق مشکل ہو جاتی ہے بلکہ علاقائی جنگوں کے دوران خطرے کے جائزوں کو بھی پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین