اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیجنوبی افریقہ کا اسرائیل کیخلاف نسل کشی کیس جاری رکھنے کا اعلان

جنوبی افریقہ کا اسرائیل کیخلاف نسل کشی کیس جاری رکھنے کا اعلان
ج

جنوبی افریقہ کے صدر سیرل راما فوسا نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا جنوبی افریقہ کے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں دائر نسل کشی کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

راما فوسا نے یہ بیان منگل کے روز کیپ ٹاؤن میں پارلیمان سے خطاب کے دوران دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی افریقہ 2023 میں دائر کیے گئے اپنے مقدمے کو پوری ثابت قدمی سے آگے بڑھائے گا، چاہے امریکہ کی حمایت یافتہ جنگ بندی معاہدے کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ جو امن معاہدہ طے پایا ہے، جس کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں، اس کا بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں زیرِ سماعت مقدمے پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

راما فوسا نے مزید کہا کہ مقدمہ جاری ہے، اور اب یہ مرحلہ ہے کہ اسرائیل کو عدالت میں ہمارے دائر کردہ دلائل کا جواب دینا ہوگا، جو اسے اگلے سال جنوری تک دینا ہے۔

جنوبی افریقہ نے دسمبر 2023 میں یہ مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے اقدامات کا الزام لگایا گیا تھا۔

اکتوبر 2024 میں جنوبی افریقہ نے عدالت میں 500 صفحات پر مشتمل تفصیلی دستاویز جمع کرائی، جبکہ اسرائیل کی جانب سے جوابی دلائل جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جنوری 2026 مقرر کی گئی ہے۔ زبانی سماعتیں 2027 میں متوقع ہیں، اور حتمی فیصلہ 2027 کے آخر یا 2028 کے آغاز میں آنے کی توقع ہے۔

بین الاقوامی عدالتِ انصاف اب تک تین عبوری احکامات جاری کر چکی ہے، جن میں اسرائیل کو نسل کشی کے اقدامات سے باز رہنے اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم اسرائیل نے ان احکامات پر بڑی حد تک عمل نہیں کیا۔

فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

راما فوسا نے اس امر پر زور دیا کہ حقیقی شفا اور انصاف اسی وقت ممکن ہے جب مقدمے کی مکمل سماعت ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک وہ شفا حاصل نہ ہو جس کی ضرورت ہے، اور یہ شفا اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے دائر کردہ مقدمے کو مکمل طور پر سنا جائے۔

اس اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے خصوصی رپورٹر فرانچیسکا البانیزے نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ انصاف، انسانی حقوق اور وقار کے احترام، معاوضے اور عدمِ تکرار کی ضمانت کے بغیر امن پائیدار نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح اسپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز، جو اسرائیل کے ایک کھلے ناقد سمجھے جاتے ہیں، نے ہسپانوی ریڈیو سے گفتگو میں کہا کہ جنگ بندی کا مطلب اسرائیل کے لیے استثنا نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ استثنا ممکن نہیں، اور مزید کہا کہ نسل کشی کے مرکزی کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں آنا ہی ہوگا۔

انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ، نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے اقدامات کا الزام عائد کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک تحقیقی کمیشن نے ستمبر 2025 میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیل نے واقعی نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

اسرائیل نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ اس نے غزہ میں نسل کشی کی ہے۔

کئی ممالک نے جنوبی افریقہ کے اس مقدمے کی حمایت میں بین الاقوامی عدالت میں شمولیت اختیار کی ہے یا اس کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جن میں اسپین، آئرلینڈ، ترکی اور کولمبیا شامل ہیں۔ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے کہا کہ اگر حکومتیں کارروائی نہیں کرتیں تو وہ ’’ان مظالم میں شراکت دار‘‘ سمجھی جائیں گی۔

جنوبی افریقہ "دی ہیگ گروپ” کا شریک صدر بھی ہے، جو جنوری 2025 میں قائم کیا گیا ایک اتحاد ہے۔ اس گروپ کا مقصد بین الاقوامی عدالت کے عمل سے ہٹ کر بھی اسرائیل کو قانونی، سفارتی اور معاشی سطح پر جوابدہ بنانا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین