اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیوینزویلا کا آسٹریلیا اور ناروے میں سفارت خانے بند کرنیکا فیصلہ

وینزویلا کا آسٹریلیا اور ناروے میں سفارت خانے بند کرنیکا فیصلہ
و

کاراکاس (مشرق نامہ) – وینزویلا نے اپنی سفارتی پالیسی میں وسیع تبدیلی کے حصے کے طور پر آسٹریلیا اور ناروے میں اپنے سفارت خانے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کاراکاس میں حکومت کی جانب سے پیر کے روز جاری بیان کے مطابق، یہ اقدام عالمی جنوب کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی نئی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

وینزویلا کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد ’’ریاستی وسائل کا بہتر استعمال‘‘ اور ابھرتے ہوئے کثیر قطبی عالمی نظام میں ملک کی پوزیشن کو ازسرِنو استوار کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وینزویلا جلد ہی زمبابوے اور برکینا فاسو میں نئے سفارتی مشن کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل نارویجن نوبیل کمیٹی نے اس سال کا امن انعام وینزویلا کی اپوزیشن سیاستدان ماریا کورینا ماچادو کو دیا۔

صدر نکولس مادورو نے ماچادو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی حکومت کے فنڈز ’’فاشسٹ‘‘ گروہوں تک پہنچا رہی ہیں جو ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماچادو نے انعام وصول کرتے ہوئے یہ اعزاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کیا، جنہوں نے خود بھی نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

ناروے کی وزارتِ خارجہ، جس کا کاراکاس میں کوئی سفارت خانہ موجود نہیں، نے وینزویلا کے اس فیصلے کو ’’افسوسناک‘‘ قرار دیا۔ وزارت کے بیان کے مطابق، اگرچہ کئی معاملات پر ہمارے نظریات مختلف ہیں، ناروے وینزویلا کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ نوبل امن انعام ناروے کی پارلیمان کے مقرر کردہ کمیٹی کی جانب سے دیا جاتا ہے، جیسا کہ الفریڈ نوبیل کی وصیت میں طے کیا گیا تھا، جبکہ سائنسی شعبوں کے چار دیگر نوبیل انعامات سویڈن کے ادارے دیتے ہیں۔ بعد ازاں معاشی علوم کا نوبیل میموریل پرائز اس فہرست میں شامل کیا گیا۔

تنقید کرنے والوں میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ ناروے کی نوبیل کمیٹی نے ماضی میں ایسے افراد اور تنظیموں کو انعام دے کر اس اعزاز کو ’’بدنام‘‘ کیا ہے جنہوں نے امن کے فروغ کے لیے کوئی حقیقی کردار ادا نہیں کیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین