مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا نے بھارت کو عالمی معیشت کا ایک "اہم ترقیاتی انجن” قرار دیا ہے۔
انہوں نے یہ بیان پیر کے روز عالمی مالیاتی ادارے کی سالانہ میٹنگ کے موقع پر وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کے اجلاس میں دیا۔
کرسٹالینا جورجیوا نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں عالمی ترقی کے رجحانات میں تبدیلی آئی ہے، چین کی معیشت بتدریج سست روی کا شکار ہے جبکہ بھارت عالمی ترقی کا ایک کلیدی انجن بن کر ابھر رہا ہے۔
آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق بھارت کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 2025 اور 2026 میں 6.5 فیصد کی شرح سے بڑھے گی۔
آئی ایم ایف سربراہ نے بھارت کی ’’جرأت مندانہ معاشی و ساختی اصلاحات‘‘ کی بھی تعریف کی، جن میں براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکس قوانین کی اصلاح، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کا وسیع پیمانے پر نفاذ، اور سماجی شناخت کے لیے ڈیجیٹل فریم ورک کی تیاری شامل ہے۔
گزشتہ ماہ بھارت نے امریکی حکومت کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے اثرات کو کم کرنے اور روایتی تہواروں کے موسم سے قبل ملکی کھپت کو فروغ دینے کے لیے گھریلو استعمال کی زیادہ تر اشیاء پر سیلز ٹیکس میں کمی کی تھی۔
جورجیوا کے مطابق ترقی پذیر معیشتیں اب بھی مستقل قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں اور انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے ٹیرف اقدامات کے باعث مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے مکمل اثرات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
ماہرین کے اندازوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ 50 فیصد ٹیرف سے بھارت کی جی ڈی پی میں 0.8 فیصد کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔

