بیجنگ (مشرق نامہ) – چین نے سرکاری دستاویزات میں امریکی کمپنی مائیکروسافٹ کے تیار کردہ فائل فارمیٹ کو ترک کرتے ہوئے مقامی طور پر تیار کردہ متبادل اپنانا شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جو بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی اور تکنیکی کشیدگی کے پس منظر میں لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، چین کی وزارتِ تجارت نے گزشتہ ہفتے نایاب ارضی معدنیات (rare earths) کی برآمدات پر کنٹرول سے متعلق جو تازہ ترین اعلامیہ جاری کیا، وہ صرف مقامی ڈبلیو پی ایس (WPS) فارمیٹ میں دستیاب تھا — جو مائیکروسافٹ آفس کا ملکی متبادل ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ وزارت کی جانب سے جاری کردہ کسی سرکاری دستاویز کو ورڈ یا کسی اور امریکی سافٹ ویئر میں براہِ راست نہیں کھولا جا سکا۔
گزشتہ جمعرات کو چین نے بعض اسٹریٹجک معدنیات کی برآمدات پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا، جنہیں شہری اور عسکری دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے ان اقدامات کو قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت قرار دیا۔ ان اقدامات کے ذریعے برآمدی لائسنس کے تقاضے مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جو اس سال کے اوائل میں ہائی ٹیک مواد پر کنٹرول کے لیے کیے گئے اسی نوعیت کے فیصلوں کا تسلسل ہیں۔
اس اعلان کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی درآمدات پر اضافی 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی اور کہا کہ واشنگٹن "تمام اہم سافٹ ویئرز” کی برآمد پر بھی پابندی عائد کر سکتا ہے۔
دوسری جانب، چین میں غیر ملکی سافٹ ویئر کمپنیاں بتدریج ملک سے پسپائی اختیار کر رہی ہیں۔ ایڈوب اور سٹرکس (اب کلاؤڈ سافٹ ویئر) جیسی کمپنیاں پہلے ہی اپنا کام محدود کر چکی ہیں، جبکہ مائیکروسافٹ نے شنگھائی میں اپنی مصنوعی ذہانت (AI) ریسرچ لیب اور سرزمینِ چین میں موجود تمام اسٹورز بند کر دیے ہیں۔
ستمبر میں اطلاعات سامنے آئیں کہ چینی ریگولیٹرز نے بڑی مقامی کمپنیوں کو انویدیا (Nvidia) کے مصنوعی ذہانت والے چپس کی آزمائش اور خریداری منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے۔ فائنانشل ٹائمز کے مطابق، چین کے چپ ساز ادارے اب ملک میں اے آئی پروسیسرز کی مجموعی پیداوار کو تین گنا بڑھانے کا ہدف رکھتے ہیں۔

