اتوار, فروری 15, 2026
ہومپاکستانٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کے خلاف منی لانڈرنگ تحقیقات، غیر...

ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کے خلاف منی لانڈرنگ تحقیقات، غیر ملکی کرنسی اور 2 کلو سونا برآمد
ٹ

لاہور(مشرق نامہ): قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جب کہ لاہور میں ان کے گھر پر چھاپے کے دوران بھاری مقدار میں غیر ملکی کرنسی، سونا اور چاندی برآمد ہوئی۔

پنجاب پولیس کے مطابق چھاپہ صوبائی پولیس، ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی مشترکہ کارروائی میں مارا گیا، جس میں سونا، چاندی اور غیر ملکی کرنسی سمیت تمام قیمتی اشیا ضبط کر لی گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سعد رضوی اتوار کی شب تحریک لبیک کے مارچ پر کریک ڈاؤن کے دوران مریدکے سے فرار ہوگئے تھے۔

ذرائع کے مطابق سعد رضوی کے گھر سے تقریباً 11 کروڑ روپے مالیت کی کرنسی برآمد ہوئی، جس میں 50 ہزار بھارتی روپے بھی شامل تھے۔ حکام نے سعد رضوی، ان کے بیٹے اور دیگر اہلِ خانہ کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کے کل اثاثوں کی جانچ کی جا سکے۔

ایف آئی اے نے علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ ایک مذہبی تنظیم کے خلاف قانونی اور مالی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں جو “ریاست مخالف احتجاج اور پرتشدد سرگرمیوں” میں ملوث ہے۔ متعدد بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں اور تنظیم کے مالی معاونین کے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالے جا رہے ہیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق ٹی ایل پی نے اپنے ہیڈکوارٹر کے اردگرد کی درجنوں جائیدادیں خرید کر علاقے کو “نو گو ایریا” بنا رکھا تھا۔ سعد رضوی نے اپنے قریبی کارکنوں کو گھروں کی خریداری کے ذریعے وہاں آباد کیا اور ایک علیحدہ میڈیا ٹیم تشکیل دی جس کے پاس جدید آلات موجود تھے۔

چھاپے کے دوران پولیس کو درج ذیل اشیا بھی ملیں:

  • 1.92 کلوگرام سونا
  • 898 گرام چاندی
  • 69 قیمتی گھڑیاں، 28 کنگن، 24 ہار اور 46 انگوٹھیاں

پنجاب پولیس نے سعد رضوی اور ٹی ایل پی قیادت کے خلاف 22 ایف آئی آرز درج کی ہیں، جن میں دہشت گردی، قتل، نفرت انگیزی اور ریاست مخالف نعروں کے الزامات شامل ہیں۔ ایک مقدمے میں الزام ہے کہ سعد رضوی نے مریدکے میں پولیس انسپکٹر شہزاد نواز کو گولی ماری، جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔

اسی طرح ساہیوال، پاکپتن، چیچہ وطنی اور گجرات میں بھی ٹی ایل پی کے کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کے الزامات میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ممتاز عالمِ دین مولانا مفتی منیب الرحمٰن نے تشدد کے واقعات پر عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تاکہ “کریک ڈاؤن کے دوران مبینہ طور پر کیے گئے ظلم و زیادتی کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہو سکیں۔”

انہوں نے حکومت سے ٹی ایل پی کارکنان کی لاشیں ورثا کے حوالے کرنے اور چھاپوں کا سلسلہ روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے بھی کہا کہ وہ ٹی ایل پی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہونے والے پرتشدد تصادم اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ ادارے کے مطابق “ریاستی ادارے اگرچہ نفرت انگیزی اور مذہبی تشدد روکنے میں ناکام رہے، لیکن اس کے باوجود طاقت کے بے جا استعمال کا جواز نہیں بنتا۔”

ہیومن رائٹس کمیشن نے زور دیا کہ قانون کے مطابق سیکیورٹی فورسز حتیٰ کہ پرتشدد ہجوم کو منتشر کرتے وقت بھی “کم سے کم طاقت کا استعمال” کرنے کی پابند ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین