کراچی(مشرق نامہ): افغان بستی سے افغان باشندوں کی واپسی کے بعد پولیس حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خالی گھروں اور زمینوں پر قبضہ مافیا غیر قانونی قبضے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے خبردار کیا کہ گلشنِ معمار تھانے کی حدود میں واقع افغان کیمپ کی زمین پر مافیا قبضہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے شہر کے پولیس چیف کو ایک خط لکھا ہے۔
خط میں تجویز دی گئی ہے کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے)، ڈپٹی کمشنر آفس اور پولیس پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو زمین کا سروے کرے اور ایم ڈی اے فوری طور پر خالی زمینوں کا کنٹرول سنبھالے۔
ڈی آئی جی کے مطابق افغان کیمپ میں تقریباً 3,000 گھر تعمیر کیے گئے تھے جن میں لگ بھگ 15,000 افغان مقیم تھے، تاہم اب زیادہ تر واپس جا چکے ہیں جبکہ تقریباً 1,500 افراد اب بھی موجود ہیں۔
عرفان بلوچ نے زور دیا کہ زمین کے متعلقہ ادارے کو خالی گھروں اور پلاٹوں پر فوری قبضہ لینا چاہیے تاکہ غیر قانونی قبضے یا تجاوزات کو روکا جا سکے۔
کراچی: افغان بستی سے افغان باشندوں کی واپسی کے بعد پولیس حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خالی گھروں اور زمینوں پر قبضہ مافیا غیر قانونی قبضے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے خبردار کیا کہ گلشنِ معمار تھانے کی حدود میں واقع افغان کیمپ کی زمین پر مافیا قبضہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے شہر کے پولیس چیف کو ایک خط لکھا ہے۔
خط میں تجویز دی گئی ہے کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے)، ڈپٹی کمشنر آفس اور پولیس پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو زمین کا سروے کرے اور ایم ڈی اے فوری طور پر خالی زمینوں کا کنٹرول سنبھالے۔
ڈی آئی جی کے مطابق افغان کیمپ میں تقریباً 3,000 گھر تعمیر کیے گئے تھے جن میں لگ بھگ 15,000 افغان مقیم تھے، تاہم اب زیادہ تر واپس جا چکے ہیں جبکہ تقریباً 1,500 افراد اب بھی موجود ہیں۔
عرفان بلوچ نے زور دیا کہ زمین کے متعلقہ ادارے کو خالی گھروں اور پلاٹوں پر فوری قبضہ لینا چاہیے تاکہ غیر قانونی قبضے یا تجاوزات کو روکا جا سکے۔

