مانٹرئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)میٹا نے انسٹاگرام پر 18 سال سے کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے نیا نظام متعارف کرایا ہے جس میں PG-13 فلم ریٹنگ کے طرز پر مواد کو فلٹر کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ان تنقیدوں کا جواب دینا ہے جن میں کمپنی پر نوجوانوں کو آن لائن نقصان دہ مواد سے بچانے میں ناکامی کا الزام لگایا گیا تھا۔
یہ نیا نظام ان پوسٹس کو محدود کرے گا جن میں سخت زبان، خطرناک حرکات، منشیات کے حوالے یا دیگر بالغ موضوعات شامل ہوں گے۔ یہ اصول میٹا کے جنریٹیو اے آئی ٹولز پر بھی لاگو ہوں گے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب مختلف تنظیموں اور قانونی مقدمات میں میٹا پر الزام لگایا گیا کہ وہ نوجوان صارفین کو نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے اور پلیٹ فارمز کے نفسیاتی اثرات کے بارے میں غلط بیانی کی۔
میٹا کے مطابق، نیا نظام خودکار طور پر تمام کم عمر اکاؤنٹس کو PG-13 سیٹنگ پر منتقل کرے گا، جبکہ والدین چاہیں تو مزید سخت کنٹرولز اور "لمیٹڈ کنٹینٹ سیٹنگ” کے ذریعے سکرین ٹائم کو محدود کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ کم عمر صارفین ایسے اکاؤنٹس سے رابطہ نہیں کر سکیں گے جو عمر سے ناموزوں مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا نے کہا، “ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اپڈیٹ والدین کے اعتماد میں اضافہ کرے گی۔ ہمیں معلوم ہے کہ نوجوان بعض اوقات ان پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی لیے ہم عمر کی پیش گوئی کرنے والی ٹیکنالوجی استعمال کریں گے تاکہ انہیں صحیح حفاظتی زمرے میں رکھا جا سکے، چاہے وہ اپنی عمر غلط ظاہر کریں۔”
اگست میں میٹا نے اپنے اے آئی سسٹمز میں بھی حفاظتی اقدامات شامل کیے تھے تاکہ کم عمر صارفین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا خودکشی سے متعلق بات چیت روکی جا سکے۔ اس سے پہلے کمپنی نے انسٹاگرام کے کم عمر صارفین کے لیے پرائیویسی اور والدین کے کنٹرول کو مضبوط کیا تھا۔
یہ نئی سیٹنگز ابتدائی طور پر امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا میں جاری کی جائیں گی، جبکہ سال کے آخر تک عالمی سطح پر متعارف کرائی جائیں گی۔ میٹا فیس بک پر بھی کم عمر صارفین کے لیے مزید حفاظتی اقدامات متعارف کروا رہا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں آیا ہے جب میٹا، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے خلاف بچوں اور اسکولوں کی جانب سے سوشل میڈیا کی نشہ آور نوعیت پر سینکڑوں مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں۔

