اقوامِ متحدہ،(مشرق نامہ) 14 اکتوبر (اے پی پی): اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ دو سالہ اسرائیلی جنگ کے بعد غزہ کی بحالی اور اسے دوبارہ محفوظ بنانے کے لیے تقریباً 70 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جبکہ امدادی ایجنسیاں خبردار کر رہی ہیں کہ فلسطینیوں کی فوری ضروریات کے مقابلے میں امداد کی مقدار بہت کم ہے۔
یو این ڈی پی کے نمائندے یاکو سیلیئرز کے مطابق، غزہ میں تباہی کی شرح تقریباً 84 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ غزہ شہر کے بعض علاقوں میں یہ 92 فیصد ہے۔ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور عالمی بینک کی مشترکہ رپورٹ (Interim Rapid Damage and Needs Assessment) کے مطابق، جنگی نقصان کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
سیلیئرز کے مطابق، تعمیرِ نو کے ابتدائی مرحلے کے لیے آئندہ تین سالوں میں کم از کم 20 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ یو این ڈی پی اور اس کے شراکت دار ادارے فوری امداد کے طور پر صاف پانی، طبی سامان، روزگار کے مواقع اور ملبہ صاف کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اب تک تقریباً 81 ہزار ٹن (3,100 ٹرک لوڈ) ملبہ ہٹایا جا چکا ہے تاکہ امدادی رسائی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ عرب ممالک، یورپ اور امریکا کی جانب سے تعمیرِ نو کے لیے تعاون کے مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں۔
ادھر اقوامِ متحدہ اور انسانی امدادی اداروں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے تمام راستے کھولے تاکہ امداد بلا تعطل پہنچ سکے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب پیر کو شرم الشیخ میں امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کے رہنماؤں کی موجودگی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے بعد تمام زندہ اسرائیلی مغویوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہوا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مغویوں کی رہائی کا خیرمقدم کیا، تاہم امدادی ٹیموں کے مطابق غزہ میں ضرورتیں اب بھی “انتہائی وسیع اور تغیر پذیر” ہیں۔
یونیسیف اور اوچا کے ترجمانوں نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل نے 1.9 لاکھ ٹن امدادی سامان کی اجازت دی ہے، مگر یہ غزہ کے لیے ناکافی ہے۔ امدادی اداروں نے زور دیا کہ امداد براہِ راست متاثرہ آبادی تک پہنچائی جائے، کیونکہ تقسیم کے مراکز پر فلسطینیوں کے زخمی یا جاں بحق ہونے کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔
اوچا کے ترجمان ینس لایرکے نے کہا، “ہم دنیا کے تمام رہنماؤں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ غزہ کے عوام کی تکالیف کا ازالہ کیا جا سکے۔”

