اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیزمین موسمیاتی تباہی کے دہانے پر، مرجان کی چٹانیں منہدم ہونے کے...

زمین موسمیاتی تباہی کے دہانے پر، مرجان کی چٹانیں منہدم ہونے کے قریب
ز

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– ماہرین کے مطابق انسانیت اب ایک "نئی حقیقت” میں داخل ہو چکی ہے، کیونکہ سیارہ زمین اپنا پہلا بڑا موسمیاتی سنگِ میل عبور کر چکا ہے—مرجان کی چٹانوں کے ماحولیاتی نظام کا بڑے پیمانے پر انہدام۔ یہ انکشاف دنیا بھر کے 160 سے زائد سائنس دانوں کی تیار کردہ ایک جامع رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوسل ایندھن کے بڑھتے استعمال اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے نے نہ صرف ہیٹ ویوز، سیلابوں اور جنگلاتی آگوں کو شدت دی ہے، بلکہ زمین کے قدرتی نظاموں—استوائی جنگلات سے لے کر قطبی برفانی خطوں تک—کو ناقابلِ واپسی بگاڑ کی طرف دھکیل دیا ہے۔

یونیورسٹی آف ایکزیٹر کے گلوبل سسٹمز انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ٹِم لینٹن، جو رپورٹ کے مرکزی مصنفین میں شامل ہیں، نے کہا کہ ہم تیزی سے ایسے متعدد موڑ کے قریب پہنچ رہے ہیں جو ہماری دنیا کو بدل سکتے ہیں، انسانوں اور فطرت دونوں کے لیے تباہ کن نتائج کے ساتھ۔

مرجان کی چٹانیں: پہلا بڑا انہدام

رپورٹ کے مطابق گرم پانی کی مرجان چٹانیں وہ پہلا ماحولیاتی نظام ہیں جو اس خطرناک حد سے تجاوز کر چکے ہیں۔ سال 2023 کے بعد سے سمندر ریکارڈ شدہ تاریخ کے سب سے شدید اور وسیع پیمانے پر سفید ہونے (bleaching) کے عمل سے گزر رہے ہیں، جس نے دنیا کی 80 فیصد سے زائد مرجان چٹانوں کو متاثر کیا ہے۔

ایک وقت میں زندگی سے بھرپور زیرِ آب مناظر اب بے رنگ، مردہ سطحوں میں بدل چکے ہیں جن پر صرف سمندری گھاس غالب ہے۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) کے سائنسی مشیر مائیک بیریٹ نے کہا کہ انسانیت نے مرجان کی چٹانوں کو "ان کی برداشت کی حد سے آگے دھکیل دیا ہے”۔ اگر عالمی حدت کا رجحان نہ روکا گیا تو مرجان چٹانیں جیسی ہم جانتے ہیں، ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تباہی کے اثرات سمندری حیاتیات سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ مرجان چٹانیں لاکھوں اقسام کی مچھلیوں اور جانداروں کے مسکن ہیں، کروڑوں انسانوں کی غذائی سلامتی کا ذریعہ، عالمی معیشت میں کھربوں ڈالر کی قدر رکھتی ہیں اور ساحلی علاقوں کو طوفانی لہروں سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

وسیع تر موسمیاتی نظام بھی خطرے میں

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مرجان چٹانوں کا انہدام محض آغاز ہے۔ دنیا اس وقت اس ہدف سے تجاوز کے قریب ہے جس میں عالمی درجہ حرارت کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کا وعدہ کیا گیا تھا—ایک ایسی حد جسے ماہرین "ناقابلِ قابو موسمی اثرات” سے بچاؤ کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ میں جن خطرناک امکانات کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں بحرِ اوقیانوس کے بڑے سمندری بہاؤ کے نظام (AMOC) کا انہدام بھی شامل ہے، جو عالمی موسمی پیٹرن کو منظم رکھتا ہے۔ اس کے زوال کی صورت میں کچھ خطے شدید سردی جبکہ دیگر حدت کی شدت کا شکار ہو سکتے ہیں، مانسون کے نظام متاثر ہو سکتے ہیں اور سطحِ سمندر کے بڑھنے کی رفتار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بیریٹ کے مطابق٬ اب یہ خطرہ موجود ہے کہ یہ انہدام آج زندہ انسانوں کی زندگیوں میں ہی رونما ہو سکتا ہے۔

دنیا ‘اچانک اور ناقابلِ واپسی تبدیلیوں’ کے لیے تیار نہیں

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ عالمی ادارے اور حکومتیں ان تیز رفتار اور باہم منسلک تغیرات سے نمٹنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔

یونیورسٹی آف اوسلو کی محقق منجنا مِلکوریٹ کے مطابق، موجودہ پالیسیاں بتدریجی تبدیلیوں کے لیے بنائی گئی ہیں، نہ کہ ایسے اچانک اور ناقابلِ واپسی تغیرات کے لیے۔ ان کے بقول، آئندہ چند سالوں میں حکومتوں کا ردِعمل "زمین کے نظام کو طویل عرصے کے لیے متعین کر سکتا ہے۔

بحران کم کرنے کی کوششیں

سائنس دانوں نے خبردار کیا کہ اب 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد سے تجاوز تقریباً یقینی ہے، تاہم ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ مزید حدت کو روکا جائے اور درجہ حرارت کو جلد از جلد واپس لایا جائے۔ اس کے لیے زمین کو گرم کرنے والی گیسوں کے اخراج کو فوری طور پر ختم کرنا اور کاربن کے خاتمے کے اقدامات میں اضافہ ناگزیر ہے۔

خطرے کے درمیان امید کی کرن

اس مایوس کن صورتحال کے باوجود رپورٹ میں کچھ حوصلہ افزا رجحانات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں شمسی توانائی، برقی گاڑیوں، بیٹریوں اور ہیٹ پمپس جیسی قابلِ تجدید ٹیکنالوجیز کے تیز رفتار پھیلاؤ کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایک بار یہ صاف ٹیکنالوجیز مستحکم ہو جائیں تو وہ مہنگی اور آلودگی پھیلانے والی ٹیکنالوجیز کی جگہ مستقل طور پر لے لیتی ہیں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے رہنما آئندہ ہفتوں میں برازیل میں ہونے والی اقوامِ متحدہ کی سالانہ موسمیاتی کانفرنس (COP30) میں نئے اخراجی اہداف پر غور کے لیے جمع ہوں گے۔

بیریٹ کے مطابق، یہ سنگین صورتحال انسانیت کے لیے ایک انتباہ ہے—اگر ہم نے اب فیصلہ کن اقدام نہ کیا تو ہمیں ایمیزون کے جنگلات، برفانی چادروں اور اہم سمندری بہاؤ کے نظاموں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا، جس کا انجام تمام انسانوں کے لیے تباہ کن ہو گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین