مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– آسٹریلیا کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ دفاع رچرڈ مارلس نے منگل کے روز اسکائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ البنیز حکومت غزہ میں جنگ بندی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں آسٹریلوی افواج بھیجنے کی کسی ممکنہ درخواست پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔
مارلس نے وضاحت کی کہ تاحال کسی ملک یا ادارے کی جانب سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ “اگر جنگ بندی کے بعد کوئی درخواست سامنے آئی تو ہم اس پر ضرور غور کریں گے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ ہم ابھی اس مرحلے پر پہنچے ہیں۔ کوئی باضابطہ درخواست نہیں آئی، اور میں اس بارے میں قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتا کہ ہم مستقبل میں کیا کریں گے۔ ہم ہمیشہ تعمیری کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور گزشتہ دو برس سے اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی درخواست موصول ہوئی تو ہم اسے سنجیدگی سے دیکھیں گے، مگر فی الحال اس سے آگے قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی۔
امریکہ کے 200 فوجی تعینات کرنے کا اعلان
مارلس کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکی حکام نے جمعرات کو اعلان کیا کہ واشنگٹن، اسرائیلی زیرِ قبضہ علاقوں میں 200 فوجیوں تک کی تعیناتی کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جا سکے جو غزہ میں "استحکام کی کوششوں” کی حمایت کرے گی۔ حکام نے واضح کیا کہ امریکی فوجی براہِ راست غزہ کے اندر تعینات نہیں ہوں گے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ مشن سینٹکام (CENTCOM) کے تحت کام کرے گا اور اسے ایک سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر کے طور پر منظم کیا جائے گا، جو حالیہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں انسانی اور سکیورٹی امداد کے بہاؤ کو مربوط کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے غزہ جنگ بندی سے منسلک کسی براہِ راست فوجی کردار کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، امریکہ اس سے قبل بھی نام نہاد "غزہ ہیومینیٹریئن فاؤنڈیشن” کے قیام، اینٹی بیلسٹک فضائی دفاعی نظام کی فراہمی، اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کو مسلسل فوجی، مالی اور سفارتی مدد دینے میں سرگرم رہا ہے۔
آسٹریلیا کو اب تک اس مشن میں شرکت کی کوئی باضابطہ دعوت نہیں ملی، لیکن وزیرِ دفاع کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ایسی درخواست سامنے آتی ہے تو حکومت اس پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ برطانیہ، فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے غیر مسلح کرنے کے عمل اور غزہ میں جنگ بندی کے نگرانوں کی تعیناتی میں شرکت کے لیے تیار ہے۔
آسٹریلوی اپوزیشن کا ممکنہ شمولیت کی حمایت میں مؤقف
علاقائی امن مشن میں آسٹریلوی کردار کے امکان کو اپوزیشن کے کچھ ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے۔
نئے مقرر شدہ شیڈو ہوم افیئرز وزیر جوناتھن ڈونیم نے اسکائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ آسٹریلیا کو "کثیر القومی کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار” رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہمیں ایسی کسی تعیناتی کے لیے آمادہ ہونا چاہیے۔ ہم دنیا کے دیگر خطوں میں بھی امن مشنوں میں شامل رہے ہیں۔ عام طور پر ہماری توجہ اپنے خطے پر ہوتی ہے، لیکن یہ موقع عالمی نوعیت کا ہے۔ ہمیں کھلے دل سے اس میں شامل ہونے پر غور کرنا چاہیے۔ اور یقینی طور پر، آسٹریلیا کو بھی اس مثبت نتیجے کا حصہ بننے اور اسے مستقبل میں برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
البنیز حکومت کا جنگ بندی میں کردار کا دعویٰ، اپوزیشن کی تنقید
البنیز حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے میں اپنا کردار ادا کیا ہے، اگرچہ اپوزیشن جماعتوں نے اس دعوے کو غیر مؤثر اور نقصان دہ قرار دیا ہے۔
وزیرِ مملکت ڈان فیرل نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ آسٹریلیا نے “امن عمل میں یقینی طور پر اپنا حصہ ڈالا ہے۔” جبکہ وزیرِ خارجہ پینی وونگ کے مطابق آسٹریلیا نے اس جنگ بندی کے لیے “ضروری رفتار” پیدا کرنے میں مدد دی۔
تاہم اپوزیشن نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ شیڈو اٹارنی جنرل جولیان لیزر نے کہا کہ “مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے البنیز حکومت کے تمام فیصلے غلط ثابت ہوئے ہیں۔” انہوں نے لیبر حکومت کے جنگ بندی میں کردار کے دعوے کو “مکمل طور پر بے بنیاد” قرار دیا۔
برطانیہ کی ٹرمپ کی زیرِ قیادت امن منصوبے کی حمایت
آسٹریلیا کا مؤقف مجموعی طور پر امریکہ کی ثالثی میں تیار کیے گئے امن منصوبے سے ہم آہنگ ہے، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 29 ستمبر کو پیش کیا تھا۔ اس 20 نکاتی منصوبے کا مقصد غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔
منصوبے کا پہلا مرحلہ 9 اکتوبر کو شروع ہوا، جب حماس نے اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا اور اسرائیلی افواج نے پیشگی معاہدے کے مطابق غزہ کے اندر ایک طے شدہ لائن تک انخلا کیا۔ اس کے بدلے میں سینکڑوں فلسطینی قیدی، جن میں عمر قید کی سزا پانے والے بھی شامل تھے، رہا کیے گئے۔
ٹرمپ کے منصوبے میں غزہ کی مستقبل کی حکومت سے حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ اس کے بجائے ایک ٹیکنوکریٹک انتظامیہ کی تجویز دی گئی ہے جو بین الاقوامی نگرانی میں کام کرے گی، اور بعض رپورٹس کے مطابق اس کی قیادت خود ٹرمپ کریں گے۔
پیر کے روز ٹرمپ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی، ترک صدر رجب طیب ایردوان، اور قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ “ٹرمپ ڈیکلریشن فار اینڈورنگ پیس اینڈ پراسپرٹی” پر دستخط کیے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، تاہم غزہ اب بھی شدید انسانی بحران کا شکار ہے — تباہی، بے گھری، اور امداد تک محدود رسائی کی صورتحال بدستور برقرار ہے۔ علاقے کے مستقبل اور سیاسی انتظام کے بارے میں کوئی واضح منصوبہ تاحال سامنے نہیں آیا۔

