تحریر: نیلز ایڈلر
لیتھوانیا — روسی سرحد کے قریب ایک نیا مورچہ
نیموناس دریا کے کنارے، جھنڈے یہاں زندگی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
ایک جانب لیتھوانیا کے پرسکون قصبے پانیمونے میں لیتھوانیائی، یوکرینی اور یورپی یونین کے جھنڈے ہوا میں لہرا رہے ہیں۔
دوسری طرف، دریا کے پار روسی شہر سووِتسک میں ایک بڑا روسی جھنڈا اور ایک عمارت پر جگمگاتا ہوا حرف Z نمایاں ہے — وہی نشان جو روسی افواج کی یوکرین پر مکمل حملے کی علامت بن چکا ہے۔
ایک تنہا ماہی گیر، اپنی کشتی کے پچھلے حصے پر لہراتے لیتھوانیائی پرچم کے ساتھ، کوئین لوئز پل کے نیچے سے گزر رہا ہے، جو لیتھوانیا کو روسی علاقہ کیلینن گراڈ سے جوڑتا ہے — وہی روسی خطہ جو دو نیٹو ممالک کے درمیان گھرا ہوا ہے۔
2022 سے پل کے لیتھوانیائی حصے پر گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی ہے اور وہاں ڈریگن کے دانت کہلانے والی کانکریٹ کی ضد ٹینک رکاوٹیں نصب ہیں۔
پیغام واضح ہے: تناؤ اپنے عروج پر ہے، اور اس پل کو عبور کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔
سرحد پار کے دن یاد آتے ہیں
28 سالہ ٹائٹس پاؤلکستیلس، جو ہوا سے بجلی بنانے کے آلات کا ٹیکنیشن ہے، یاد کرتا ہے کہ کبھی دونوں طرف کے لوگ آزادانہ آتے جاتے تھے۔
وہ کہتا ہے: “یہاں زندگی رواں تھی، لوگ روزانہ خریداری کے لیے ایک دوسرے کے علاقوں میں جاتے تھے۔”
2014 میں جب روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے مشرقی یوکرین اور کریمیا پر قبضہ کیا، تو سرحدی آمدورفت کم ہونے لگی۔
2022 میں روس کے مکمل حملے کے بعد یہ چھوٹا سا قصبہ عالمی طاقتوں کے تصادم کی پہلی صف میں آ گیا۔
اپنے باغ میں کھڑے پاؤلکستیلس نے الجزیرہ کو بتایا کہ گزشتہ سالوں میں فون سگنل جام ہونے جیسے عجیب واقعات رونما ہوئے، جنہیں وہ روسی "آزمائش” سمجھتا ہے۔
وہ ہنستے ہوئے کہتا ہے کہ یہ سب بچگانہ حرکات ہیں۔
روس کی جانب ایک کھلے آسمان کے سینما میں 2022 سے پرانے سوویت جنگی فلموں کی مسلسل نمائش ہوتی رہتی ہے، جو لیتھوانیا کے باشندوں کو صاف دکھائی دیتی ہے۔
تاہم، بعض اوقات وہ خوفزدہ بھی ہو جاتا ہے — اسے کئی بار فوجی مشقوں کی فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، حتیٰ کہ ایک بار زمین تک لرز اٹھی۔
روس کے سائے میں ایک نازک زندگی
حال ہی میں نیٹو اور روس کے درمیان تناؤ میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔
جرمنی، اسٹونیا اور دیگر ممالک نے ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کی اپنی فضائی حدود میں دراندازی کی رپورٹ دی ہے۔
جرمنی کے میونخ ایئرپورٹ کو 2 اور 3 اکتوبر کو کئی گھنٹوں کے لیے بند کرنا پڑا۔
پانیمونے کے لوگ خوفزدہ ہیں، مگر پاؤلکستیلس کہتا ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے، اگر وہ آئیں گے تو پہلے یہاں ہی آئیں گے۔
وہ سیب کا ایک نوالہ لیتا ہے اور مسکراتے ہوئے کہتا ہے: “مگر کیا کر سکتے ہیں؟”
’تاریخ ہمیں خبردار کرتی ہے‘
لیتھوانیا کے شہر کاؤنَس کے قریب ایک گاؤں میں اسکول کے کمرے کو فوجی آپریشن روم میں بدلا گیا ہے۔
یہاں لیتھوانیائی نیم فوجی تنظیم رائفل مین یونین (LRU) کے ارکان ایک فرضی یرغمالی کارروائی دیکھ رہے ہیں۔
ڈرون سے لی گئی براہِ راست ویڈیو میں ایک بکتر بند گاڑی دیوار توڑ کر اندر گھستی ہے اور فوجی فوراً کارروائی کرتے ہیں۔
ملک بھر میں ہزاروں رضاکار ایسے ہی عسکری مشقوں میں مصروف ہیں۔
LRU کے رکن میریئس ڈبنیکواس نے بتایا کہ تنظیم کے ارکان کی تعداد 2014 میں پانچ ہزار سے بڑھ کر آج سترہ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
وہ کہتا ہے کہ ہم روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ ہائبرڈ جنگ کے لیے بھی تیار ہو رہے ہیں — جھوٹی خبروں، تخریب کاری یا ڈرون حملوں کے خلاف۔
اگست میں لیتھوانیا نے بتایا کہ بیلاروس سے لانچ کیے گئے روسی ڈرونز اس کے علاقے میں گر گئے۔
اس کے بعد حکومت نے فوج کو اجازت دی کہ وہ کسی بھی غیر مجاز ڈرون کو گرا سکتی ہے۔
’ایک سرخ لکیر‘
ستمبر کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو کو اپنی فضائی حدود میں آنے والے ڈرونز کو فوراً مار گرانا چاہیے۔
پولینڈ کے وزیرِ خارجہ نے ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ“روجر دیٹ”۔
تب سے ڈنمارک سمیت کئی نیٹو ممالک میں ڈرونز کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے، جنہیں بعد میں روس کے زیرِ سایہ سمندری بیڑے سے منسلک کیا گیا۔
ماسکو نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
سابق لیتھوانیائی وزیرِ خارجہ گبریلیئس لینڈزبرگس نے کہا کہ نیٹو کو “جواب میں سختی” دکھانی چاہیے۔
ان کے مطابق٬ جو بھی ڈرون نیٹو کی حدود میں داخل ہو، وہ ایک خطرناک ہدف ہے اور اسے گرا دینا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ فضائی دراندازیوں کو "سرخ لکیر” تصور کیا جانا چاہیے، اور اگر نیٹو نے ردعمل نہ دیا تو روس مزید بے خوف ہو جائے گا۔
سابق وزیرِ اعظم انگریڈا سیمونیٹے نے بھی کہا کہ سیاست دان اکثر حالات کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس سے ایک ایسا رقص پیدا ہوتا ہے جس میں روس ہمیشہ قدم آگے بڑھاتا ہے اور باقی پیچھے ہٹتے رہتے ہیں۔
’خوف کی قیمت‘
سیمونیٹے کے مطابق، ڈرون حملوں کے خلاف دفاع انتہائی مہنگا ہے۔
ایئرپورٹس کی بندش، پروازوں میں تعطل اور معیشت پر اثرات — سب کچھ جڑ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسے واقعات بڑے معاشی مراکز جیسے فرینکفرٹ میں بڑھ گئے تو عالمی سفر کا نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز (IISS) کے مطابق، 9 اور 10 ستمبر کو روس نے 24 لکڑی اور اسٹائروفوم سے بنے سستے ڈرونز پولینڈ کی سمت بھیجے۔
ان میں سے ہر ڈرون کی قیمت تقریباً 11,800 ڈالر تھی، جبکہ ان کے خلاف نیٹو کے طیارے اور میزائل چلانے کی لاگت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
یورپی کمیشن کی سربراہ اُرزولا فان ڈیر لائین نے ایک “ڈرون وال” بنانے کی تجویز دی ہے، جس میں سینسرز اور ہتھیاروں کے ذریعے ایسے حملوں کا پتہ لگایا جا سکے گا۔
’اب میں زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہوں‘
سابق وزیرِ دفاع راسا یوکنیوِچیئنے کہتی ہیں کہ بڑھتے تناؤ کے باوجود وہ اب خود کو پہلے سے زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں۔
ان کے مطابق، جب وہ 2008 سے 2012 تک وزیر تھیں، روس نے جارجیا پر حملہ کیا اور بالٹک خطے میں فوجی ڈھانچہ مضبوط کیا۔
تب انہیں نیٹو کے سفارت کاروں نے کہا تھا: سوویت یونین ختم ہو چکا ہے، محترمہ، آپ صرف وہم کا شکار ہیں۔
اب وہ کہتی ہیں: ہم پوری طرح تیار نہیں ہیں، مگر پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں — اسی لیے میں اب خود کو کہیں زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہوں۔

