غزہ (مشرق نامہ) – ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی افواج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد غزہ شہر میں بڑے پیمانے پر آتشزدگی مہم چلائی، جس میں رہائشی مکانات اور بنیادی ڈھانچے، بشمول ایک اہم گندے پانی کی صفائی کے پلانٹ کو آگ لگا دی گئی۔
تحقیقی ویب سائٹ ڈراپ سائٹ (DropSite) نے پیر کو ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی، جس میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے فوراً بعد شیخ عجلین سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ سمیت درجنوں شہری عمارتوں اور گھروں کو نذرِ آتش کر دیا۔ یہ پلانٹ غزہ شہر میں واحد فعال نکاسیٔ آب کا مرکز تھا۔
رپورٹ کے مطابق، گولانی، گیواتی، نحال، کفیر اور نئی تشکیل شدہ الٹرا آرتھوڈوکس ہشمنائیم بریگیڈ کے فوجیوں نے سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں عمارتوں کو آگ میں جلتے دیکھا جا سکتا ہے، جب وہ ٹرمپ کے ثالث کردہ معاہدے کے تحت طے شدہ "پیلی لکیر” تک واپس جا رہے تھے۔
ایک اسرائیلی فوجی نے اپنی تصویر شیئر کی جس کے کیپشن میں لکھا تھا کہ جمعے کو روانگی سے ذرا پہلے۔ کھانا جلا رہے ہیں تاکہ غزہ والوں تک نہ پہنچے، ان کے نام مٹ جائیں۔
ایک اور تصویر میں جلتے ہوئے سیویج پلانٹ کو دکھایا گیا، جس کے نیچے لکھا تھا کہ ایک آخری یادگار۔
شیخ عجلین پلانٹ، جو غزہ کے نکاسیٔ آب کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی تھا، اس کی تباہی نے پورے شہر کے گندے پانی کے نظام کو مفلوج کر دیا۔ مونتھر شعباق، جو ساحلی بلدیاتی واٹر اتھارٹی (CMWU) کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، نے کہا کہ یہ کارروائی شہر کے نکاسی نظام کو "صفر کے مقام” پر لے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جنگ بندی پر دستخط کیے، پھر بھی آگ لگا دی۔
شعباق نے خبردار کیا کہ پلانٹ کے بغیر اب خام گندہ پانی براہِ راست سمندر میں ڈالنا پڑے گا، جس سے ایک ماحولیاتی تباہی جنم لے سکتی ہے جس کی بحالی میں برسوں لگیں گے۔
تباہی کا تسلسل
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ آتشزدگی کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ ایک طویل اسرائیلی روایت کا حصہ ہے جس میں فوج ان علاقوں سے انخلا کے وقت شہری ڈھانچے کو تباہ کر دیتی ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں فوجیوں نے "نشان چھوڑ رہے ہیں”، "ایک چھوٹی یادگار” اور "خدا حافظ” جیسے جملے لکھے۔ کچھ فوجیوں نے رہائشی عمارتوں میں توہین آمیز گرافٹی بھی لکھی۔ ایک دیوار پر لکھا تھا: "مزہ کرو، حرامزادوں” , جبکہ دوسری پر تحریر تھا کہ ہم واپس آئیں گے۔
اسرائیلی وزراء پہلے ہی اس بات کا برملا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ غزہ کو ناقابلِ رہائش بنانے کے درپے ہیں۔ ستمبر میں اسرائیلی وزیر گیلا گملیئل نے کہا تھا کہ ہم پہلے ہی غزہ کے 75 فیصد علاقے کو مکمل تباہ کر چکے ہیں۔ باقی 25 فیصد بھی جلد زیرِ قبضہ ہوگا۔ وہاں کچھ نہیں بچے گا جسے رہنے کے قابل کہا جا سکے۔
اسی طرح کابینہ کے رکن ایتمار بن گویر نے کہا تھا کہ غزہ میں اب صرف گندے پانی کا پلانٹ باقی ہے، جسے بھی ختم کیا جانا چاہیے۔
جلتی میراث
شیخ عجلین پلانٹ، جو 19 ملین ڈالر کی جرمن سرمایہ کاری سے بنایا گیا تھا اور بعد میں KfW ڈیولپمنٹ بینک کے تعاون سے اپ گریڈ کیا گیا، غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبوں کا مرکزی حصہ تھا۔
سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق مئی تک یہ پلانٹ جزوی طور پر فعال تھا اور انجینئرز جنگ کے خاتمے پر اسے دوبارہ چلانے کی تیاری کر رہے تھے۔ اب وہ منصوبے خاکستر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایجنسیاں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ اسرائیل کی جانب سے پانی، بجلی اور صفائی کے نظام کی منظم تباہی شہری آبادی پر منظم حملے کے زمرے میں آتی ہے اور یہ انسانیت کے خلاف جرم ہو سکتا ہے۔
پلانٹ کی تباہی کے بعد غزہ کے نصف سے زائد شہری اب آلودہ پانی اور بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔
ٹرمپ کا دعویٰ اور حقیقت
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اسرائیل طے شدہ لکیر تک اپنی فوجیں واپس بلا رہا ہے، جو ایک مضبوط، پائیدار اور دائمی امن کی سمت پہلا قدم ہے۔ تمام فریقین کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا۔
لیکن غزہ سے آنے والے مناظر ایک مختلف حقیقت دکھاتے ہیں۔
ایک اسرائیلی کرنل نے کہا کہ ہم صرف خاک چھوڑ کر جا رہے ہیں، یہاں کچھ باقی نہیں۔
جبکہ ایک فوجی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ مختصر مگر اعلیٰ قیام تھا، ہم واپس آئیں گے.

