اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ، جنگ بندی کے بعد فلسطینی صحافی صالح الجفراوی کی شہادت پر...

غزہ، جنگ بندی کے بعد فلسطینی صحافی صالح الجفراوی کی شہادت پر تعزیتی پیغامات
غ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – غزہ سٹی میں اسرائیلی حمایت یافتہ گروہ اور حماس کے درمیان جھڑپوں کی کوریج کے دوران ممتاز فلسطینی صحافی اور سماجی کارکن صالح الجفراوی کو اتوار کی شب متعدد گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے لیے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

الجزیرہ کے مطابق "قبضے سے وابستہ ایک مسلح ملیشیا” جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ جمعے کو اعلان کیا گیا تھا کہ اسرائیل اور حماس نے جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ان جھڑپوں میں کئی بے گھر فلسطینی بھی جاں بحق ہوئے۔

درجنوں صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر صالح الجفراوی کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی دو سالہ صحافتی جدوجہد کو یاد کیا۔

ایک معروف فلسطین نواز اکاؤنٹ نے انسٹاگرام پر لکھا کہ وہ اپنی قوم، اپنے دین اور اپنی سرزمین سے محبت کرتا تھا۔ اس نے دو برس تک نسل کُشی کی کوریج کی، جب دنیا کی طاقتیں اس کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس کی آواز اس وقت تک زندہ رہے گی جب تک قبضہ ختم نہیں ہو جاتا۔

متعدد صارفین نے انہیں فلسطینی عزم و استقامت کی علامت قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ اس نے دو سال نسل کُشی برداشت کی، سچائی کو مسکراہٹ کے ساتھ دنیا تک پہنچایا، حالانکہ وہ خود نشانے پر تھا۔

ایک اور صارف نے کہا کہ وہ صرف رپورٹر نہیں تھا بلکہ سچائی کی آواز، جرات کی علامت تھا، جو آگ کے درمیان کھڑا ہو کر دنیا کو وہ دکھاتا تھا جو دوسرے چھپاتے تھے۔ اس کا کیمرہ اس کا ہتھیار بن گیا، اور اس کے الفاظ اس کے لوگوں کی ڈھال۔ آج دنیا نے ایک اور بہادر روح کھو دی—ایسا شخص جس نے سچائی کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔

اٹھائیس سالہ الجفراوی نے اسرائیلی نسل کُشی کے دوران اپنی براہِ راست رپورٹس اور ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کی تھی۔ تباہ حال غزہ میں امید بھری مسکراہٹ اور حوصلہ افزا انداز میں بات کرنے کی وجہ سے وہ لاکھوں دلوں میں بس گئے تھے۔

کئی صارفین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد ہی صالح کو شہید کر دیا گیا۔
فلسطینی نژاد امریکی شاعر رِمی کنعانی نے لکھا کہ نہ کوئی سکون، نہ وقفہ—کیا ظالمانہ دنیا ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔

فلسطینی نژاد کینیڈین نرس احمد کوتا نے انسٹاگرام پر صالح کے ساتھ اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہم اکثر سوچتے تھے کہ ہم میں سے کون آخر تک زندہ رہے گا۔ ہم بچ گئے… مگر وہ نہیں چاہتے تھے کہ تم اپنے خوابوں کو پورا ہوتا دیکھو۔

الجزیرہ کے غزہ بیورو چیف وائل دہدوح اور غزہ کے صحافی ہانی ابورزق سمیت متعدد معروف فلسطینی صحافیوں نے بھی صالح الجفراوی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

کئی صارفین نے ان کی قرآتِ قرآن اور نعت خوانی کی ویڈیوز شیئر کیں، جبکہ دیگر نے ان کے جنازے کے مناظر اور والد کے بیان کو عام کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ صالح کو غزہ چھوڑنے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اپنے عوام کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔

قیدیوں کا تبادلہ اور بھائی کی رہائی

صالح کی شہادت کے بعد کئی صارفین نے اس سانحے پر دکھ کا اظہار کیا کہ ان کے بھائی ناجی، جو پیر کو اسرائیل کی قید سے رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں میں شامل تھے، اپنے بھائی سے دوبارہ نہ مل سکے۔

ایک صارف نے لکھا کہ آج صالح الجفراوی اپنے بھائی کا استقبال کر رہا ہوتا… وہ لمحے گن رہا ہوتا۔ مگر اب ناجی کا پہلا کام اپنی بیٹی کو گلے لگانا نہیں، بلکہ اپنے بھائی کو دفنانا ہوگا۔ بس یہی حقیقت ہے، ایک نسل پرست نظام میں زندگی کی تلخ سچائی۔

صالح الجفراوی کی شہادت نے ایک بار پھر ان 250 سے زائد فلسطینی صحافیوں کی یاد تازہ کر دی جو اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی جارحیت میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔

غزہ صحافیوں کے لیے دنیا کی تاریخ کا سب سے خطرناک میدان ثابت ہوا ہے۔

اپریل میں براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل نے "امریکی خانہ جنگی، پہلی اور دوسری عالمی جنگوں، کوریا، ویتنام (کمبوڈیا و لاؤس سمیت)، یوگوسلاویہ کی جنگوں اور نائن الیون کے بعد افغانستان کی جنگ—ان سب کو ملا کر بھی—ان سے زیادہ صحافیوں کو قتل کیا ہے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین