اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیبرطانیہ کا پرو۔اسرائیل گروہ کو 7 ملین پاؤنڈ میں انسدادِ سامیت تربیت...

برطانیہ کا پرو۔اسرائیل گروہ کو 7 ملین پاؤنڈ میں انسدادِ سامیت تربیت دینے کا معاہدہ
ب

لندن (مشرق نامہ) – برطانوی حکومت نے ایک پرو۔اسرائیل تنظیم کو سات ملین پاؤنڈ (9.33 ملین ڈالر) کی فنڈنگ فراہم کی ہے تاکہ وہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں انسدادِ سامیت (یہود مخالف رویوں) سے متعلق تربیتی پروگرام منعقد کرے۔

یہ منصوبہ "یونین آف جیوش اسٹوڈنٹس” (UJS) کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جو خود کو "یہودی طلبہ کی آواز” قرار دیتی ہے اور "ورلڈ صیہونی تنظیم” (World Zionist Organisation) سے منسلک ہے — وہی ادارہ جو مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں غیر قانونی اسرائیلی بستیاں قائم کرنے کے لیے فنڈنگ فراہم کرتا ہے۔

برطانوی محکمۂ تعلیم (DfE) کے مطابق، UJS آئندہ ہفتوں میں تقریباً 600 تربیتی سیشن منعقد کرے گی تاکہ یونیورسٹی عملے کو "نفرت انگیزی اور ہراسانی کی شناخت” اور "احترام پر مبنی مکالمے” کے فروغ کی تربیت دی جا سکے۔

محکمے نے خبردار کیا کہ اگر یونیورسٹیاں یہودی طلبہ کو ہراسانی سے تحفظ فراہم نہ کریں تو ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

زیادہ تر برطانوی جامعات انسدادِ سامیت کی وہ تعریف استعمال کرتی ہیں جو IHRA (International Holocaust Remembrance Alliance) نے دی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ تعریف دراصل اسرائیل پر جائز تنقید کو دبانے کی کوشش ہے۔

برطانوی حکومت کا یہ اقدام غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ یہ مظاہرے 7 اکتوبر کے حملوں کی دوسری برسی کے موقع پر منعقد کیے جا رہے ہیں۔

وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے ان طلبہ احتجاجات کو "غیر برطانوی” اور "دوسروں کے احترام سے عاری” قرار دیا۔ محکمۂ تعلیم نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو ان مظاہروں پر پابندی عائد کرنی چاہیے جو "خلل ڈالنے والے یا مداخلت آمیز” ہوں۔

اسرائیل سے گہری وابستگی رکھنے والی تنظیم

UJS خود کو برطانیہ اور آئرلینڈ کی 75 سے زائد یہودی سوسائٹیوں کی نمائندہ تنظیم قرار دیتی ہے، تاہم اسے اسرائیل نواز سرگرمیوں پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

الجزیرہ کی 2017 کی ایک دستاویزی فلم میں انکشاف ہوا تھا کہ UJS کو لندن میں اسرائیلی سفارتخانے سے مالی معاونت ملی تھی۔

2021 میں UJS کی سابق صدر نینا فریڈمین کو اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہتے ہوئے فلمایا گیا کہ UJS کے سابق طلبہ اسرائیلی حکومت، وزارتِ خارجہ، فوج (IDF)، اور حتیٰ کہ صدارتی دفتر میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

یہ تنظیم "ورلڈ یونین آف جیوش اسٹوڈنٹس” کی رکن بھی ہے، جو اسرائیلی وزارتِ خارجہ اور ورلڈ صیہونی تنظیم کے ساتھ شراکت دار ہے — وہی ادارہ جو غیر قانونی اسرائیلی آبادیاں فنڈ کرتا ہے۔

UJS کے مطابق، وہ “اسرائیل، بین المذاہب روابط، اور سماجی خدمات کے منصوبوں میں بھرپور شمولیت” رکھتی ہے، اور اپنے طلبہ کو اسرائیل کے ساتھ “ذاتی تعلقات کو سمجھنے اور مضبوط کرنے کے مواقع” فراہم کرتی ہے۔

حکومتی اجلاس اور نئی پابندیاں

وزیرِ تعلیم برجِٹ فلپسن رواں ہفتے یونیورسٹی سربراہان، "آفس فار اسٹوڈنٹس”، پولیس، اور مذہبی تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جامعات تمام طلبہ کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہیں۔

یہ اقدامات اس وقت کیے جا رہے ہیں جب برطانیہ میں ایک طرف یہود مخالف حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تو دوسری جانب اسرائیل مخالف مظاہروں پر حکومتی کریک ڈاؤن بھی بڑھ رہا ہے۔

اس سے قبل وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے مانچسٹر کی ایک عبادت گاہ پر حملے کے بعد مظاہروں پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جس میں دو افراد جاں بحق ہوئے۔

ان نئی پابندیوں کے تحت پولیس کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ مظاہروں کے “بار بار اثرات” کو دیکھتے ہوئے کسی احتجاج کی جگہ تبدیل کرنے یا محدود کرنے کا حکم دے سکے۔

ان اقدامات کو برطانیہ میں متعدد انسانی حقوق کارکنوں اور یہاں تک کہ یہودی حامیِ فلسطین گروہوں نے “آمرانہ” قرار دیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین