اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیکنیسٹ، ٹرمپ کے خطاب کے دوران فلسطینی ریاست کے حق میں نعرے...

کنیسٹ، ٹرمپ کے خطاب کے دوران فلسطینی ریاست کے حق میں نعرے بازی
ک

واشنگٹن / یروشلم (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں اپنے خطاب کے دوران دو ارکان کی جانب سے نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا، جب وہ اسرائیل اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے اور یہ بھی فخر سے کہہ رہے تھے کہ امریکہ نے اسرائیل کو بڑی مقدار میں مہلک ہتھیار فراہم کیے ہیں۔

بائیں بازو کی جماعت حدش-طالع کے ارکان، اوفر کاسِف اور ایمن عودہ نے ٹرمپ کی تقریر کے دوران "فلسطینی ریاست کو تسلیم کرو” کے بینرز لہرا کر احتجاج کیا، جس پر انہیں ایوان سے زبردستی نکال دیا گیا۔

ایمن عودہ نے ایک پوسٹ میں کہا کہ انہیں محض "دنیا کے سب سے بنیادی مطالبے” کی خاطر باہر نکالا گیا، یعنی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے مطالبے پر، جو پوری عالمی برادری کی متفقہ رائے ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ نیتن یاہو کو چاپلوسی کے ذریعے "تخت پر بٹھانا” غزہ میں انسانیت کے خلاف کیے گئے جرائم سے اسے بری نہیں کرتا۔

دوسری جانب اوفر کاسف نے بھی سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا کہ اسرائیلی قبضے اور نسل پرستی کا خاتمہ کیا جائے اور فلسطینی ریاست قائم کی جائے، یہ کہتے ہوئے کہ "قبضہ چھوڑ دو، خون ریزی کی حکومت کی مخالفت کرو!”

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ کے پاس دنیا کے بہترین ہتھیار ہیں، اور ہم نے ان میں سے بہت سے اسرائیل کو دیے ہیں۔ انہوں نے مذاق میں کہا کہ بی بی (نیتن یاہو) مجھے بار بار فون کرتے — یہ ہتھیار چاہیے، وہ ہتھیار چاہیے — اور کچھ کے بارے میں تو میں نے پہلے کبھی سنا بھی نہیں تھا، لیکن ہم نے پھر بھی انہیں فراہم کیا، اور اسرائیل نے انہیں بہت اچھے طریقے سے استعمال کیا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل "ہتھیاروں کے زور پر جو کچھ جیت سکتا تھا، جیت چکا ہے۔” انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کی تجویز کردہ تازہ جنگ بندی "غزہ کی جنگ کا خاتمہ اور دہشت و موت کے دور کا اختتام” ہے۔

ان کے مطابق یہ معاہدہ "نئے مشرق وسطیٰ کی تاریخی صبح” کی نمائندگی کرتا ہے۔

ٹرمپ نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ نیتن یاہو کو صدارتی معافی دے دیں، جو بدعنوانی، دھوکہ دہی اور قیمتی تحائف لینے کے الزامات میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "میرے پاس ایک خیال ہے، کیوں نہ نیتن یاہو کو معافی دے دی جائے؟ سگار اور شیمپین — آخر اس میں اتنی بڑی بات کیا ہے؟”

ٹرمپ نے نیتن یاہو کی دو سالہ جنگِ غزہ کے دوران "قیادت” کی بھی تعریف کی، یہ کہتے ہوئے کہ "تم بہت مقبول ہو کیونکہ تم جیتنا جانتے ہو”، حالانکہ اسرائیل میں جنگ کے طرزِ عمل پر ان کے خلاف روزانہ احتجاج جاری ہیں۔

ٹرمپ کے خطاب سے قبل نیتن یاہو نے بھی کنیسٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تل ابیب کے حق میں کئی اہم اقدامات کیے، جن میں امریکی سفارتخانے کو مقبوضہ القدس منتقل کرنا، شام کے جولان پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرنا، ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری، اور اقوام متحدہ میں اسرائیل کی حمایت شامل ہیں۔

نیتن یاہو نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ٹرمپ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی حمایت کرتے ہیں، اور ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں اسرائیل پرائز سے نوازا — جو غاصب ریاست کا سب سے بڑا ثقافتی اعزاز ہے۔

گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایک جنگ بندی منصوبہ پیش کیا تھا، جسے تین روزہ بالواسطہ مذاکرات کے بعد اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس دونوں نے قبول کر لیا۔

معاہدے کے پہلے مرحلے میں، جو جمعے کے روز دوپہر نافذالعمل ہوا، حماس نے 48 اسرائیلی قیدی — زندہ اور جاں بحق — رہا کیے، بدلے میں اسرائیل نے تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا۔

اس معاہدے میں غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی اور قابض افواج کے جزوی انخلا کی شقیں بھی شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ بندی اسرائیلی حکومت کے لیے ایک شکست ہے، کیونکہ دو سالہ غزہ نسل کشی میں 67 ہزار سے زائد فلسطینیوں — جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے — کو قتل کرنے کے باوجود اسرائیل اپنے "اہداف” حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ امریکہ نے اس پوری مہم میں تل ابیب کو مکمل عسکری اور سیاسی پشت پناہی فراہم کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین