اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ اور مغربی کنارے کا یمن سے اظہارِ تشکر اور اتحاد

غزہ اور مغربی کنارے کا یمن سے اظہارِ تشکر اور اتحاد
غ

غزه (مشرق نامہ) – پیر کے روز فلسطین کے غزہ اور مغربی کنارے میں عوام کی ایک غیر معمولی اور پرجوش یکجہتی دیکھنے میں آئی، جہاں ہزاروں فلسطینیوں نے یمن کی ثابت قدم حمایت اور فلسطینی جدوجہد کے ساتھ اس کے غیر متزلزل تعاون پر دلی تشکر کا اظہار کیا۔

شہروں کے چوکوں اور گلیوں میں فلسطینی اور یمنی پرچم لہراتے ہوئے ہجوم نے عرب اتحاد اور صہیونی قبضے کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے نعرے بلند کیے۔ یہ مناظر خوشی اور جذبے سے لبریز تھے، جو مزاحمت، وقار اور قربانی سے جڑی دونوں قوموں کے گہرے تعلق کی علامت تھے۔

شرکاء نے زور دے کر کہا کہ یمن کی مسلسل سیاسی، انسانی اور عوامی حمایت — اپنی مشکلات کے باوجود — فلسطینی عوام کے لیے ہمیشہ قوتِ حوصلہ کا ذریعہ رہی ہے۔ قیدیوں کے اہل خانہ اور حال ہی میں رہا ہونے والے افراد نے بھی یمن کے کردار پر خصوصی تشکر کا اظہار کیا، یہ کہتے ہوئے کہ یمن کی حمایت نے ان کے دکھ اور جدوجہد کے برسوں میں امید کو زندہ رکھا، اور آج کی کامیابیاں اسی مشترکہ استقامت اور عدل پر ایمان کی بنیاد پر قائم ہیں۔

اسپتالوں اور قیدیوں کے استقبال مراکز پر ہزاروں افراد نے آزادی کی خوشی منائی اور یمن کو محورِ مزاحمت کے ستون اور فلسطینی تحریک کے مخلص اتحادی کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقامی میڈیا نے مزاحمتی رہنماؤں کے بیانات شائع کیے جنہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ فلسطینی عوام کے ارادے کو قابض پر مسلط کرنے اور حالیہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی کامیابی میں یمن کا کردار نہایت کلیدی رہا ہے — اخلاقی طور پر بھی اور تزویراتی لحاظ سے بھی۔

غزہ اور مغربی کنارے سے اُٹھنے والا اجتماعی پیغام واضح تھا: یہ دن صرف آزادی کا نہیں بلکہ یمن اور اس کے عوام سے تشکر کا دن ہے — ایک یاد دہانی کہ عرب اتحاد اور عوامی یکجہتی ہی فلسطینی حقوق اور زمین کی بازیابی کی جدوجہد کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔

غزہ اور مغربی کنارے میں یمن کے لیے اظہارِ تشکر کے یہ مناظر دونوں اقوام کے اس گہرے رشتے کی عکاسی کرتے ہیں جو مشترکہ جدوجہد اور قبضے کے مقابل ڈٹ جانے سے وجود میں آیا۔ اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک یمن نے سیاسی، اخلاقی اور عسکری سطح پر فلسطین کا سب سے مضبوط اتحادی بن کر کردار ادا کیا ہے، ملک گیر عوامی حمایت اور بحیرۂ احمر میں اسرائیلی مفاد سے جڑے جہازوں پر بحری ناکہ بندی کے ذریعے صہیونی تسلط کو للکارا ہے۔

فلسطینیوں کے لیے یمن کی یہ یکجہتی، جو اس کے اپنے بحرانوں کے باوجود جاری ہے، بہادری اور اتحاد کی روشن علامت بن چکی ہے۔ قیدیوں کے تبادلے کے بعد ہونے والی حالیہ تقریبات نے واضح کر دیا ہے کہ فلسطین اور یمن کا یہ رشتہ اب عرب مزاحمت اور اجتماعی استقامت کی ایک طاقتور علامت بن چکا ہے۔

آج یمن کی غیر متزلزل حمایت محض یکجہتی نہیں، بلکہ فلسطینی حقوق اور آزادی کے دفاع میں علاقائی تحریک کی بنیاد کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین