مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – صیہونی اخبار یدیعوت احرونوت نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت اور یمن کی حمایت یافتہ محاذ کے خلاف جنگ میں اسرائیل کو بھاری مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
عبرانی روزنامے کے مطابق، غزہ پر جارحیت کے صرف ایک دن کی لاگت آدھے ارب شیکل سے تجاوز کر گئی ہے۔ صیہونی فضائی دفاعی نظام سے داغے جانے والے ہر انٹرسپٹر میزائل کی قیمت تقریباً ایک کروڑ شیکل، یعنی تین ملین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ یمن سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کوششوں پر تقریباً ایک ارب شیکل، یعنی 30 کروڑ ڈالر سے زائد خرچ ہو چکے ہیں۔
یمن کے خلاف فضائی حملوں کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ ان کارروائیوں میں درجنوں جنگی طیارے، مہنگے ہتھیار، اور فضائی ایندھن بھرنے والے جہاز شامل رہے، جن میں سے ہر ایک پرواز کی لاگت کئی کروڑ شیکل تک پہنچتی ہے۔
دوسری جانب، صیہونی وزارتِ خزانہ نے تصدیق کی ہے کہ غزہ پر جاری جنگ نے اسرائیلی معیشت پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ بجٹ خسارہ 5.2 فیصد تک بڑھ چکا ہے، جبکہ ریزرو فوجیوں کے اہلِ خانہ کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ درجنوں صیہونی کمپنیاں، چاہے مقبوضہ علاقوں کے اندر ہوں یا باہر، بائیکاٹ کی بڑھتی ہوئی مہم کا سامنا کر رہی ہیں۔
اکتوبر 2023 سے یمن نے غزہ کی حمایت میں صیہونی ریاست کے خلاف کھلی محاذ آرائی کا اعلان کر رکھا ہے۔ یمنی مسلح افواج نے قابض فلسطین کے اندرونی علاقوں اور بحیرۂ احمر میں اسرائیلی اور اس کے اتحادی جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے مسلسل میزائل، ڈرون اور بحری کارروائیاں کی ہیں۔
اس مہم کے تحت یمن نے اسرائیلی دشمن سے وابستہ اور مقبوضہ بندرگاہوں کی جانب جانے والے جہازوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جس کے ذریعے اس نے غزہ کے دفاع میں اپنی براہِ راست عسکری اور سیاسی حمایت کو ایک بار پھر واضح کیا ہے۔
ان کارروائیوں کے ذریعے یمن نے صیہونی ریاست پر دباؤ بڑھانے، اس کی تجارتی راہداریوں کو متاثر کرنے، اور غزہ میں جاری قتلِ عام پر عالمی خاموشی کو چیلنج کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔

