مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – اسپین کے صحافتی ادارے لا سیکستا کی ایک تحقیقی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت اور قابض اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کی سرنگوں کے دعووں کو ثابت کرنے کے لیے جعلی 3D سیمولیشنز (ڈیجیٹل ماڈلز) تیار کیے اور انہیں حقیقی ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ ان من گھڑت مناظر کو سرکاری بریفنگز میں اس مقصد سے استعمال کیا گیا کہ غزہ پٹی میں جاری نسل کشی کو ’’دفاعی کارروائی‘‘ کے طور پر جواز فراہم کیا جا سکے۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق ایک جیسے کمپیوٹر سے تیار کردہ مناظر کو بارہا استعمال کرتے ہوئے انہیں مختلف شہری علاقوں — اسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی مراکز — کے نیچے موجود مبینہ زیرِ زمین ڈھانچوں کے طور پر پیش کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ ان میں سے بعض مناظر اسرائیلی انٹیلی جنس نے خود تیار نہیں کیے تھے جیسا کہ ظاہر کیا گیا، بلکہ انہیں انٹرنیٹ سے حاصل کیا گیا۔ ایک مثال میں، اسکاٹ لینڈ کے ایک میوزیم کی جانب سے تیار کردہ ’’جہاز مرمت ورکشاپ‘‘ کا ماڈل اسرائیلی فوج نے دوبارہ استعمال کرتے ہوئے اسے ’’حماس کی زیرِ زمین سرنگ‘‘ کے طور پر پیش کیا۔
اگرچہ بعد میں اسرائیلی فوج کے ترجمانوں نے اعتراف کیا کہ یہ مناظر صرف ’’تشریحی‘‘ (illustrative) تھے، لیکن تب تک یہ ویڈیوز وسیع پیمانے پر پھیل چکی تھیں اور اس بیانیے کو مضبوط کر چکی تھیں کہ حماس شہری تنصیبات کو ’’ڈھال‘‘ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
ایک ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، یہ صرف ایک مثال ہے، ہم وہ حقیقی تصاویر شیئر نہیں کریں گے جو ہمارے پاس ہیں، تاہم اس کے باوجود اسرائیل اس مؤقف پر قائم رہا کہ اسپتالوں اور دیگر عوامی عمارتوں کے نیچے حماس کے سرنگی نیٹ ورک موجود ہیں۔
دیگر ممالک میں بھی جعلی ڈھانچوں کے دعوے
تحقیقی رپورٹ کے مطابق، ’’اسرائیل‘‘ نے ماضی میں بھی مختلف ممالک میں اسی نوعیت کی گمراہ کن مہمات چلائیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ شام، لبنان اور ایران میں مبینہ عسکری ڈھانچوں کو ظاہر کرنے کے لیے بھی 3D ری اینیکٹمنٹس اور جعلی ویژولز استعمال کیے گئے، جن کے بعد ان ممالک پر اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے۔
ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان من گھڑت ویڈیوز کو اسرائیلی حکومت کی ایک منظم پروپیگنڈا مہم قرار دیا ہے، جس کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا اور جارحانہ کارروائیوں کے لیے مصنوعی جواز پیدا کرنا ہے۔
الشفا اسپتال کا جھوٹا دعویٰ
رپورٹ میں بطورِ مثال الشفا اسپتال کے معاملے کا حوالہ دیا گیا، جہاں گزشتہ سال اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ حماس کے عسکری مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
قابض فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے 27 اکتوبر 2023 کو ایک بریفنگ میں ’’ٹھوس شواہد‘‘ پیش کرنے کا دعویٰ کیا، جن کے مطابق حماس کی کارروائیاں اسپتال کی پانچ عمارتوں سے منسلک تھیں۔
اس کے بعد 15 نومبر 2023 کو اسرائیلی فوج نے اسپتال پر دھاوا بول دیا، اندھا دھند فائرنگ کی، اسپتال کی مواصلاتی لائنیں منقطع کر دیں، اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہو کر درجنوں فلسطینیوں کو شہید و زخمی کر دیا، جن میں نومولود بچے بھی شامل تھے۔
بعد ازاں قابض فوج نے ایک ’’مزاحیہ‘‘ ویڈیو جاری کی جسے وہ ’’حماس سے تعلق رکھنے والے شواہد‘‘ کے طور پر پیش کر رہی تھی۔ تاہم دی نیویارک ٹائمز کے تین صحافیوں نے، جنہیں قابض فوج نے اسپتال کے صرف ایک محدود حصے میں رسائی دی تھی، اسرائیلی دعوے کو غلط اور غیر مصدقہ قرار دیا۔
اسی طرح واشنگٹن پوسٹ کی تحقیق نے بھی ثابت کیا کہ اسرائیل کے پیش کردہ شواہد حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔

