اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیمڈغاسکر میں شدید مظاہرے، صدر راجویلینا کا قوم سے خطاب کا فیصلہ

مڈغاسکر میں شدید مظاہرے، صدر راجویلینا کا قوم سے خطاب کا فیصلہ
م

اینٹاناناریوو (مشرق نامہ) – مڈغاسکر کے صدر اینڈری راجویلینا کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ ان کی موجودہ جگہ نامعلوم ہے، جبکہ اختتامِ ہفتہ پر ایک ایلیٹ فوجی یونٹ کی جانب سے "جنریشن زی” مظاہرین کی حمایت کے اعلان نے سیاسی بحران کو گہرا کر دیا ہے۔

دباؤ میں گھرے صدر راجویلینا نے اعلان کیا ہے کہ وہ عوامی احتجاج اور فوج کے اندر سے اٹھنے والی استعفے کی مطالبات کے تناظر میں قوم سے خطاب کریں گے۔

صدارتی دفتر کے مطابق، صدر پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے (16:00 جی ایم ٹی) قوم سے ٹی وی خطاب کریں گے۔ دوسری جانب دارالحکومت انتاناناریوو میں یہ افواہیں تیزی سے پھیل رہی ہیں کہ صدر نے اقتدار پر کنٹرول کھو دیا ہے، جس کے بعد مظاہرین نے نئے احتجاجی اجتماعات کا اعلان کر دیا ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں سے جاری طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں پر حکومت کی جانب سے سختی کی جا رہی تھی، مگر اختتامِ ہفتہ پر صدر کو پیچھے ہٹنا پڑا جب ایک ایلیٹ فوجی یونٹ نے مظاہرین کے استعفے کے مطالبے کی کھلے عام حمایت کر دی۔

ہفتے کے روز CAPSAT نامی یونٹ کے فوجیوں نے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔

اگلے روز صدر راجویلینا نے اسے ایک بغاوت قرار دیا، کیونکہ CAPSAT نے ایک نئے فوجی سربراہ کو تعینات کر دیا تھا، اور اس تقریب میں وزیرِ دفاع نے بھی شرکت کی تھی۔

صدر کہاں ہیں؟
صدر کی موجودہ جگہ کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ حزبِ اختلاف کے رہنما سیتنی رانڈریا سولونیا ایکو، جنہوں نے 2023 کے انتخابات میں راجویلینا کے خلاف امیدوار کے طور پر حصہ لیا تھا، نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر اب ملک میں موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: "ہم نے صدارتی عملے سے رابطہ کیا اور انہوں نے تصدیق کی کہ صدر ملک چھوڑ چکے ہیں۔” ایک فوجی ذریعے نے بھی اسی بات کی تصدیق کی کہ صدر فرار ہو گئے ہیں۔

پیر کے روز سینکڑوں لوگ دارالحکومت کی سڑکوں پر خوشی کے ساتھ نکل آئے، مارچنگ بینڈز اور جھنڈوں کے ساتھ جشن مناتے ہوئے۔

کچھ فوجی بھی عوام کے ساتھ شامل ہو گئے، جبکہ طلبہ فوجی گاڑیوں پر سوار ہو کر قومی پرچم لہراتے رہے۔

فوج کی مداخلت نے ملک کے سیاسی بحران میں نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ یہ بدامنی 25 ستمبر کو بجلی اور پانی کی شدید قلت کے خلاف شروع ہوئی تھی، مگر اب یہ حکومت کے خاتمے کے مطالبے میں بدل چکی ہے۔

CAPSAT کے کمانڈر کرنل مائیکل رانڈریانی رینا نے، جنہوں نے نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی کے بعد میڈیا سے گفتگو کی، کہا کہ ہم نے عوام کی پکار پر لبیک کہا ہے۔

یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ یہی یونٹ 2009 میں اُس فوجی بغاوت کا مرکزی کردار تھا جس کے ذریعے راجویلینا اقتدار میں آئے تھے۔

مڈغاسکر کی فوج آزادی (1960) کے بعد سے بارہا سیاسی معاملات میں مداخلت کرتی آئی ہے۔

اتوار کے روز عوام دارالحکومت کے معروف "مئی 13 اسکوائر” پر جمع ہوئے، جو سیاسی تحریکوں کا علامتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ وہاں CAPSAT کے فوجی بکتر بند گاڑیوں میں مظاہرین کے درمیان پہنچے تو لوگ قومی پرچم لہراتے ہوئے ان کا استقبال کر رہے تھے۔

فرانسیسی نشریاتی ادارے آر ایف آئی کے مطابق سابق صدر مارک راوالومانانا، جنہیں راجویلینا نے اقتدار سے ہٹایا تھا، بھی ان اجتماعات میں موجود تھے۔

راجویلینا نے خود کو ایک اصلاح پسند رہنما کے طور پر پیش کیا تھا۔ انہوں نے 2009 کے بعد عبوری حکومت کی قیادت کی اور 2014 میں اقتدار آئینی طور پر منتقل کر دیا۔ وہ 2019 میں انتخابات جیت کر دوبارہ صدر بنے اور 2023 میں دوسری مدت کے لیے منتخب ہوئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، مظاہروں کے آغاز سے اب تک کم از کم 22 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، تاہم حکومت ان اعداد و شمار سے اتفاق نہیں کرتی۔ ہفتے کو CAPSAT کے ایک فوجی کی موت جینڈرمیری کے ساتھ جھڑپوں میں ہوئی۔

یہ مظاہرے دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک، مڈغاسکر، میں عوامی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں صرف ایک تہائی آبادی کو بجلی میسر ہے اور روزانہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ بجلی کی بندش معمول ہے۔

"جنریشن زی مڈغاسکر” تحریک، جو ان مظاہروں کا مرکز ہے، نے مختلف ممالک میں ہونے والی نوجوانوں کی قیادت میں حکومت مخالف تحریکوں سے الہام حاصل کیا ہے، جن میں کینیا، انڈونیشیا اور پیرو شامل ہیں۔

ایسی نوجوانوں کی تحریکیں حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا کی حکومتوں کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کر چکی ہیں۔

جنریشن زی مڈغاسکر نے حکومت کی جانب سے بات چیت کی تمام پیشکشوں کو مسترد کر دیا ہے، حالانکہ صدر راجویلینا کی انتظامیہ متعدد بار رابطے کی کوششیں کر چکی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین