تہران (مشرق نامہ) – ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں کے ممکنہ خطرناک “علاقائی پھیلاؤ” پر خبردار کیا ہے، کیونکہ گزشتہ چند روز کے دوران دونوں ممالک کی افواج نے مختلف مقامات پر ایک دوسرے پر مہلک فائرنگ کی ہے۔
ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہمارے لیے سب سے اہم نکات میں سے ایک ہمسایہ ممالک کی سلامتی اور استحکام کا مسئلہ ہے۔ افغانستان اور پاکستان دونوں ہمارے مسلمان ہمسائے ہیں، اور ہمارا یقین ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے اثرات ان کی سرحدوں سے باہر تک پھیل سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دونوں فریقوں سے تحمل اور مکالمے کی اپیل کرتا ہے اور زور دیتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان اختلافات کو بات چیت اور رابطوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے 200 سے زائد افغان جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے، جبکہ افغانستان کا کہنا ہے کہ رات بھر جاری سرحدی جھڑپوں میں اس نے 58 پاکستانی فوجیوں کو مارا ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کو کہا کہ 30 پاکستانی فوجی زخمی ہوئے اور پاکستانی ہتھیاروں کی “قابلِ ذکر مقدار” افغان افواج کے قبضے میں آگئی۔
دوسری جانب پاکستانی فوج نے کہا کہ اس کے “23 بہادر جوان” جھڑپوں میں مارے گئے، جس کے بعد حکام نے افغانستان کے ساتھ سرحد بند کر دی۔
سرحدی کشیدگی ان دھماکوں کے بعد شروع ہوئی جو جمعرات کو افغانستان میں ہوئے اور جن کا الزام طالبان نے پاکستان پر لگایا۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ سے جاری تناؤ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر ان مسلح گروہوں کو پناہ دے رہا ہے جو پاکستان کے اندر حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی مدت ختم ہونے پر ایران کا ردِعمل
اپنے دیگر تبصروں میں بقائی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی قانونی مدتِ ختمی کی طرف اشارہ کیا اور یورپی ممالک کی جانب سے اس میں توسیع کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ 18 اکتوبر قرارداد 2231 اور اس سے متعلق تمام پابندیوں کے خاتمے کی آخری تاریخ ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ قرارداد مقررہ تاریخ پر ختم ہونی چاہیے۔ سلامتی کونسل نے اس حوالے سے کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا۔ جسے ‘منسوخ شدہ قراردادوں کی بحالی’ کہا جا رہا ہے، وہ دراصل یورپی تین ملکوں—فرانس، جرمنی اور برطانیہ—کا اٹھایا گیا غیر قانونی اقدام ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ 2006 سے 2010 کے درمیان ایران کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے پانچ قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئی تھیں، اب یہ تین یورپی ممالک ان کی بحالی چاہتے ہیں۔ تاہم اس اقدام کی چین اور روس نے واضح مخالفت کی ہے، اس لیے قانونی طور پر ہم ایک طرح کے انتشار کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کی ذمہ داری ان تین ممالک پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ عمل شروع کیا۔
ترجمان نے زور دیا کہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی غیر قانونی ہے اور یہ جوہری معاہدے (JCPOA) اور قرارداد 2231 میں شامل اصولوں کے خلاف ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ مختلف ممالک اس پر عمل درآمد سے گریز کریں گے۔
یورپی ممالک کی نیک نیتی پر شبہ
یورپی تین ممالک کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ یہ بیان “بار بار دہرائے گئے وہی الزامات اور پالیسی بیانات پر مشتمل ہے جن میں نہ خلوصِ نیت ہے نہ سچائی۔”
انہوں نے کہا کہ ان کا یہ اصرار کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہییں، دراصل ایک واضح اور بدیہی بات ہے کیونکہ ایران نہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور نہ ان کا مالک ہے۔ ساتھ ہی یہ ممالک سفارت کاری کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن جب سفارتی عمل جاری تھا تو انہی تین ممالک نے JCPOA میں شامل ‘اسنیپ بیک میکانزم’ کا ناجائز استعمال کر کے مذاکراتی عمل کو تعطل کا شکار کیا۔
بقائی نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان میں خودمختار فیصلہ سازی، سنجیدگی، سفارتی صلاحیت اور سیاسی عزم موجود ہے تاکہ انہیں ایک معتبر فریق کے طور پر تسلیم کیا جا سکے — نہ صرف بین الاقوامی رائے عامہ بلکہ عالمی حکومتوں کی نظر میں بھی۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات پر منفی تجربات
جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی زیرِ قبضہ علاقوں میں آمد کے بعد ایران کے ساتھ ممکنہ تعاون کی بات کی ہے، تو بقائی نے کہا کہ تہران کے واشنگٹن کے ساتھ “سابقہ تجربات منفی رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں، خاص طور پر پچھلے چار یا پانچ مہینوں میں، ہم نے امریکہ اور صیہونی رژیم کی جانب سے ایران پر عسکری جارحیت دیکھی ہے۔ مستقبل میں ہم اپنی قومی مفادات کے مطابق اور کھلی آنکھوں سے فیصلہ کریں گے کہ کس فریق کے ساتھ مکالمہ یا سفارت کاری ہمارے مفاد میں ہے۔
ایران کی صیہونی سازشوں پر نظر
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اس بیان کے بارے میں کہ انہوں نے اسرائیلی رژیم کا پیغام پہنچایا ہے، ایرانی ترجمان نے کہا کہ ہم دوست ممالک کی آراء اور تجاویز کو توجہ سے سنتے ہیں، تاہم ہم مکمل طور پر چوکس ہیں۔ صیہونی رژیم کے فریب کار ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سطح پر بیداری برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

